“اسٹفن کی برسی”

ایک غیر سائنسی بیان

موجوده زمانہ کے مشہور سائنسدان اسٹفن ہاکنگ کا ایک بیان اخبارات میں آیا ہے – ایک انٹرویو کے دوران انهوں نے کہا کہ ——– جنت یا زندگی بعد موت کا کوئی وجود نہیں ، یہ سب پریوں کہ کہانی ہے -(The Times of india)

یہ سائنسداں کی زبان سے ایک غیر سائنسی بیان ہے – ایک شخص جو جنت کو نہ مانتا هو ، وه سائنسی زبان میں صرف یہ کہہ سکتا ہے کہ معلوم طبیعی قوانین کے مطابق ، یہاں جنت کا کوئی وجود نہیں –

مگر بات یہیں ختم نہیں هوتی – اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ سائنس کے جدید ترین مطالعے کے مطابق ، کائنات کے مادے کا صرف 5 فیصد حصہ ہمارے مشاہدے میں آتا ہے – کائنات کا بقیہ 95 فیصد ماده سرے سے قابل مشاہده ہی نہیں – ایسی حالت میں خالص سائنسی بیان یہ هو گا کہ ——- قیاسا اس دنیا میں جنت کا کوئی وجود نہیں :
Probably , paradise has no physical existence.

سائنس مطالعے کا ایک خصوصی طریقہ ہے – سائنس کی رسائی صرف ان حقائق تک هوتی ہے جو اس کی دور بین یا خورد بین کے مشاہدے میں آتے هوں – جب خود سائنسی مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ ممکن طور پر کائنات کے قابل مشاہده مادے کا زیاده بڑا حصہ موجوده سائنسی آلات کے مطابق ، قابل مشاہده نہیں – ایسی حالت میں ، سائنس کے حوالے سے یہ کہنا بلاشبہہ ایک غیر سائنسی بیان ہے کہ ——- کائنات میں جنت کا کوئی وجود نہیں – قدیم زمانے میں علمی بیان کی کوئی محدد تعریف موجود نہ تهی ، مگر موجوده زمانے میں علمی بیان صرف اس کو کہا جاتا ہے جو محدد زبان ( specific language) میں هو – اس علمی تعریف کا لحاظ یقینا سائنس داں کو بهی کرنا ہے اور غیر سائنسداں کو بهی –

الرسالہ ، جولائی 2011
مولانا وحیدالدین خان

%d bloggers like this: