انسان کی دعا ہر حال میں کن کا درجہ رکھتی ہے ۔۔بس بات ہے کہ بعض اوقات دعائیں جیت جاتی ہیں اور بعض اوقات انسان۔۔۔جب دعائیں جیت جاتی ہیں تو انسان کو بس وہ سب کچھ ملتا ہے جو اسے چاہیے ہوں ۔۔اور جب انسان جیت جاتا ہے تو اسے وہ ملتا ہے جس کے وہ قابل ہو۔۔دعا ہر چیز سے بڑھ کے ہوتی ہے۔۔ہماری خواہش سے بھی زیادہ درجے کی حامل ۔۔بس ہم انسان ایسے ہیں کہ غلام ہوکے بھی مالک سے اپنی مرضی کا نتیجہ چاہتے ہیں ۔۔اور جب نتیجہ ہمارے مطابق نہ ہو تو ہم سمجھتے ہیں کہ ہم ہار گئے۔۔۔بھلا کوئی ماں بھی بچے کو ہراتی ہے😌تو اللہ تو ماں کی محبت سے ستر گنا سے بھی زیادہ پیار کرتے ہیں ۔۔۔اور یہ ستر تمہاری گنتی والے ستر نہیں ہیں ۔۔رب کی گنتی کا تو ایک دن ایک ہزار سے اوپر ہے پھر سترگناہ ۔تم حساب لگانا چاہو تو بھی نہیں لگا سکتے اسی لئے تو وہ خود کو کبھی رحیم کبھی رحمان اور کبھی الودود کہتا ہے ۔۔اس لئے کسی بھی محرومی ہو خود کو محروم مت سمجھنا ۔۔بس رب کو یاد رکھنا اور دل کو تسلی دینا کہ جس سے مانگا ہے وہ رب کبھی مایوس نہیں کرے گا۔۔۔

%d bloggers like this: