تاریخِ گڈانی – حصّہ اوّل

آج میں تاریخ گڈانی کے بارے میں لکھنے جا رہا ہوں .

آ۔ یہ ساری معلومات مجھے اپنے معززین کے واٹساپ گروپ سے ملے ہیں۔ چند چیزوں کے سالوں میں شاید تھوڑا سا رد و بدل ہو یا مجھ سے کوئی کوتاہی باقی رہ جائے اس کے لیے میں پہلے ہی معزرت چاہونگا۔
اس گروپ میں  چونکہ مختلف ادوار ، مختلف چیزوں کو الگ الگ معززین نے بیان کیا ہے تو میں ان چیزوں کو سوال کی شکل میں لکھونگا اور معززین کے آئیڈیا کے مطابق جوابات تحریر کروں گا۔
تاریخِ گڈانی کے بارے میں جس طرح ہم نے اپنے سینئرز سے سیکھا اور سیکھ رہے ہیں اس میں مجھے انتہائی خوشی ہے۔ اور میری دعا ہے کہ ان معززین کا سایہ ہمیشہ ہمارے اوپر رہے۔

تو چلیں شروع کرتے ہیں سوالات اور پھر اُن کے جوابات تحریر کرتے ہیں۔

سوال : شروع میں گڈانی کس ڈسٹرکٹ میں شامل تھا اور اس  کے سڑک کی سنگ بنیاد کس نے رکھی۔

جواب : 1954 میں نہ صرف گڈانی بلکہ پورا لسبیلہ کراچی ڈسٹرکٹ میں تھا۔  اور اس کے روڈ کی سنگ بنیاد کا افتتاح کمشنر کراچی نے کیا ۔

سوال : 1970 میں گڈانی میں گھر کس طرح کے ہوتے تھے اور اُنھیں کیا نام دیا جاتا تھا ؟

جواب : 1970 سے 1975 تک ہمارے گھر جونپھڑی ہوتے تھے جنکو ہم بلوچی میں جنوک یا گنداری کہتے تھے، چھوٹا گھر تین گنداری کہلاتا تھا اور درمیانہ 5 گنداری اور بڑے فیملی والے 7 گنداری گھر بناتے تھے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا تھا کہ یہ moveable  تھا اس کو 3 خواتین  اٹھا کر دوسری جگہ ایک گھنٹے میں بناتے تھے۔ اس کو جھالاوان کے لوگ گدان بھی کہتے تھے۔

سوال : شپ بریکنگ کو کیا نام دیا گیا اور اس کی افتتاح کس نے کی؟

جواب: موجودہ پلاٹ نمبر 12 میں ایک سیمنٹ کا بورڈ ہے جس میں سندھ اسٹیل کے نام سے شپ بریکنگ کا افتتاح کمشنر کراچی نے کیا تھا سنہ  یاد نہیں ہے۔

سوال : کراچی ڈسٹرکٹ کہاں تک تھا اس وقت؟

جواب : کلمت تک کراچی ڈسٹرکٹ تھا ۔

سوال: جنگ کے دوران حالات کیسے تھے۔

جواب : (ایک سینئر کا) اس وقت میں گورنمنٹ پرائمری اسکول وندر میں  پہلی جماعت میں تھا، جب صبح والی سفید ہوکنا بس کراچی سے آئی تو اس پر میٹ لگایا تھا۔ معلوم ہوا،کہ انڈیا پاکستان کا جنگ ہے اس لئیے سفید چیزوں پر میٹ یا گھارا لگایا جاتا ہے تاکہ رات کو دشمن کو نظر نہ آئے دوسرے دن ماریپور شیر شاہ اور کلری سے تمام برادری پہنچ گئے۔

سوال : یہ وقت کیسا تھا اور آپ لوگ ایسا کیا کرتے تھے ؟  کہتے ہیں یہ سادہ وقت تھا ؟

جواب: (ایک سینئر کا ) بڑا ہی بہترین وقت تھا
واقعی آملی کے بیج کو صاف کر کے اونٹ کے پاؤں کے نیچے دینا۔ کماند کو پیر کے گھٹنے سے توڑنا۔ وہ بزرگوں کا ہر رات بیٹھ کر مجلس سجانا۔ راتوں کو کھیل کھود۔ واقعی ہم سب سادہ لوگ تھے۔ لیکن آپس میں محبت تھی، پیار تھا، ایک دوسرے کا احساس تھا۔ یہ سب کچھ اب نہیں رہا۔
اللّہ کا کرم ھے کہ شادی اور غمی میں ابھی تک ایک دوسرے کے سنگ سنگ ھیں۔ اللّہ تعالی’ ہمارے آبا و اجداد کو جنت نصیب فرماۓ جو دن رات سمندر سے لڑ کر ہمیں تعلیم دلواتے رہے،ورنہ ہمارے نصیب میں بھی بکریاں چرانا یا سمندر کی لہروں سے لڑنا ہی ہوتا۔

سوال: سوالی ، پیراں فقیر ، موسیٰ چینگاٹی ، موسیٰ موالی وغیرہ کون تھے۔ کیا ان کو جانتے ہیں؟

جواب : پران فقیر اور ہمارے دور کا تھا۔
موسی’ چینگاٹی اور موسی’ موالی یہ دو تھے۔ صوالی فقیر بعد کا ھے، شاید دیگر نوجوانوں نے بھی دیکھا ہو۔

آسرا کا شوٹنگ سارا دیکھ لیا تھا۔ فلم بھی دیکھی سنیما میں۔ رینبو سینٹر سے تین روپے میں کیسٹ بھی بنوا کر وی سی آر پر دیکھا۔ لیکن کیسٹ بعد میں کوئی شخص لے گیا اور واپس نہیں کیا۔ واجہ کی شادی میں الن فقیر نے جو کچھ سنایا وہ کسی کی سمجھ شریف میں نہیں آیا۔ کیونکہ وہ شاہ لطیف کے بیت سنا رہا تھا۔ شار مۓ گڈانی گندگ ءَ  گلزاریں
نیست مارا بندر سک ماں بے واریں۔ استاد غنی

سوال : گڈانی کے تاریخی مقامات کون کون سے ھیں؟

جواب :1۔ شیدی سوائی
2۔ چکل
3۔  پتنے سنگ
4۔  کمبوو ڈوک
5۔ پوکاڑو
6۔ کائیو
7۔ باگڑ
8۔ مچھ
9۔ کلیچو
10۔ دوسرو
11۔ موالی
12۔ پیر ماکوڑی
13۔ پیر کینگی
14۔پیر جرار

سوال : دوسرو کیا ہے، کہاں واقع ہے، اور اس کا نام دوسرو کیوں ہے ؟

جواب: دوسرو، گڈانی کراس سے گڈانی سٹی کی طرف آتے ہوئے قاسم بابا کے نزدیک ایک پہاڑی کا نام ہے، اس پہاڑی کے دو اونچے اور لمبے چٹان تھے بلکل۔ایسے لگتے تھے کہ اس پہاڑ کے دو سر ہیں۔ افسوس کہ حال ہی میں روڈ بھائی والوں نے بلڈوزر سے ایک تاریخی سر کو کاٹ لیا۔

عیدوئی کوپگ کیا ہے اور کہاں واقع ہے ؟

جواب: عیدوئی کوپگ
یہ چھوٹا سا پہاڑ چیچائی کے ایریا میں ھے۔ لیکن ماہیگیر اس کو سمندر میں جال ڈالتے وقت ایک نشان کے طور پر لیتے تھے۔

سوال: گڈانی کا سب سے خوبصورت مقام کونسا ہے؟

جواب :  ( ایک سینئر کا جواب ) میرے خیال میں گڈانی کاسب سے خوبصورت مقام کوڑی ھے ۔

سوال : کیا برباد ہوٹل بھی ایک ہوٹل تھا ؟ اور کون کونسے ہوٹل تھے اور کہاں تھے؟

جواب : جی ہاں برباد ہوٹل بھی ایک ہوٹل کا نام تھا ۔
عمر ھوٹل گڈانی موڑ پہ تھا ۔ عارب ھوٹل باگڑھ میں تھا جہاں اب باگڑھ اسٹاف یا ڈی جی خان ھے۔  برباد ھوٹل چلرا نالہ اور باگڑھ نالہ کے درمیان تھا جہاں اب حاجرہ بلڈرز کی عمارت تعمیر کی جارہی ھے…..
یہ تاریخی مقامات مسمار کر دیئے گئے۔
چلرا نالہ سرکاری نام ھے لیکن ھم مقامی لوگ اس نالے کو چھالارو کہتے ھیں۔

سوال : ٹاؤن کمیٹی میں بینک کے پاس ایک گیس کمپنی ہے ۔ کیا وہ کبھی چلی ہے یا نہیں؟

جواب :  ( ایک سینئر کی راۓ ) یہ گیس کمپنی پول کمپنی کے نام سے مشہور تھی اور گلزادہ حجام بلال کا دادا اس کا چوکیدار تھا ہم نے 1981 میں پول کمپنی کے ساتھ والی بال میچ کھیلا تھا اس وقت۔
POL,  pakistan oxygen limited۔
بعد میں BOC بنا۔
British Oxigen Company۔

سوال : درموں گوٹھ کے پاس فیکڑی تھا  وہ کس دور میں چلا تھا ؟

جواب: (ایک سینئر کا ) وہ برف کمپنی تھا….
غالبا” یہ 90 کی دہائی میں چلا تھا پھر بند ھوا اس کے بعد 2000 کے عشرے میں پھر اسٹارٹ ھوا مگر چل نہ سکا اور جلدی بند ھو گیا۔
(دوسرے سینئر کا جواب )
برف فیکٹری ناکو غلام قادر اور اُن کے ایک ہندو پارٹنر کی تھی۔ شاید 89 میں بنی تھی۔
پارٹنر کا نام پرمانند تھا شاید۔

سوال : گڈانی کا بازار کس طرح کا تھا ۔ اور کون سے دکان مشہور تھے؟

جواب : گڈانی کا پرانا بازار قابل دید تھا حاجی ابراہیم کے کنٹرول سے شروع ھوا اور کاکو ھوٹل تک بہت زگ زیگ والا بازار تھاخاص کر فیضو اور گل حسن کے پان کے کیبن ان میں بہت کمپیٹیشن تھا اور  مرحوم مراد بخش کے یاد گار کلر پرنٹ فیضو کے کیبن میں آویزاں تھے۔

اور ہر شام فتو سپائی بازار میں تین جگہوں پر سرکاری لالٹین جلایا کرتا تھا۔

سوال: حب کی فیکٹریوں میں پہلا لیبر گڈانی سے کون تھا ؟

جواب : حب کی فیکٹریوں میں پہلا لیبر مرحوم شیدی خان تھا۔

سوال : اس دور کے استاد کون کون تھے ؟

جواب: (سر ایاز صاحب کا ) میرے وقت مقامی ٹیچر مرحوم محمد انور اور مرحوم محمد عمر شیخ ھائی اسکول میں تھے اور صابر صاحب موالی میں تھے عبدالحمید مچھ یا باگڑ میں تھے مجھ سے پہلے مرحوم مراد بخش بھی jet تھے۔

(غفور صاحب کا کمنٹ) غالبا” ھم آٹھویں میں تھے اسوقت جب ماسٹر عمر شیخ اور ماسٹر انور مرحومین ریٹائرڈ ھو گئے تھے اس کے بعد حاجی ندیم بھی شاید 1997 میں ریٹائرڈ ھوئے تھے۔

سر ایاز صاحب, سر صابر صاحب اور سر عظیم خان صاحب ۔ اللہ پاک انہیں لمبی زندگی عطاء فرمائے میٹرک ان کے ہاں زیر تعلیم رہ کر پاس کیا تھا میں نے سن 1998 میں..

(سر ایاز کا کمنٹ) حاجی ندیم 1997 میں محمد عمر 1999 میں اور محمد انور قبل از وقت 2000 میں ریٹائر ھوئے۔

(غفور صاحب کا کمنٹ ) 1993-1994 تا 1998 تک جب میں ہائی اسکول گڈانی میں زیر تعلیم رہا وہ ایک سنہری دور تھا اب بھی جب ہائیر سکینڈری اسکول کے قریب سے گزرتا ھوں تو پرانی یادیں تازہ ھو جاتی ھیں۔ آج میں ہائیر سکینڈری اسکول میں گیا تھا جہاں ھمارے دور میں لائبریری قائم تھی وہاں اب پرائمری کی کلاسز قائم ھیں۔

سوال: لفظ گڈانی کے اصل معنی کیا ھے اور یہ کس زبان کا لفظ ھے ؟

جواب 🙁 وشدل صاحب کا کمنٹ ) گڈ  بلوچی لفظ ہے گڈ معنی پہاڑی بکرا، سنا ہے گڈانی کے پہاڑ پر گڈ ہوتے تھے اس لئیے گڈانی پڑ گیا یعنی بکروں کا علاقہ۔

(سلیم صحافی کا کمنٹ ) سر گڈانی ایک قوم بھی ہے سندھ کی طرف پھر بھی سینئر رہنمائی کرے۔

(عبدالمجید صاحب کا کمنٹ ) لوگ بہت ساری مثالیں دیتے ھیں۔
جیسے گدھے بہت ہوتے تھے اور گدھے کو سندھی یا لاسی زبان میں کیا کہتے ھیں سب کو معلوم ھے۔
دوئم۔ ایک قصہ یہ بھی مشہور ھے کہ یہاں سندھ سے کچھ لوگ آۓ اور اُن کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی۔ میٹنگ کو سندھی زبان گڈجانڑی کہتے ھیں۔ اسی لفظ سے بگڑ کر یہ گڈانی بن گیا۔
لیکن انکل انور جان اور وشدل صاحب کی بات زیادہ مستند ھے۔
اصل لفظ گڈھانی تھا، بعد میں لکھتے لکھتے گڈانی ہوگیا

گڈانی سندھ کے بلوچوں کی ایک قوم بھی ھے، لیکن اُس کا ہمارے گڈانی کے نام سے کوئی تعلق تاحال نظر نہیں آیا۔
(عبدالغفور صاحب کا کمنٹ ) گڈانی اصل میں لفظ گڈ سے نکلا ھے۔ گڈانی کے پہاڑ اور جنگلات میں گڈ یعنی پہاڑی دھنبے کثرت سے پائے جاتے تھے تو یہی گڈ سے گڈانی بننے کی وجہ ٹھہری..
(وشدل صاحب کا کمنٹ )
لفظ گڈانی کے بارے میں ایک اور معلوم داری ہے،
وندر ندی سے لیکر لک بدوک تھا چراواری تھا یعنی سبزہ تھا اور تمام اقوام کے مال مویشی اسی ایریا میں چرتے تھے، خاص کر موندرہ، سیخ اور سنگھور مال داری اور مال  چرائی میں مشہور تھے۔  جب ان کا کوئی مال مویشی گم ہوتا یا وہاں سے بھاگ جاتا تو اس کو پکڑنے کا بہترین جگہ گڈانی تھا کیونکہ سنا ہیکہ یہاں سے صرف ایک راستہ اوپر نکلنے کے لئیے تھا
یہ علاقہ لک بدوک سے گڈانی پہاڑی تک بند تھا  بند کو بلوچی زبان میں گھٹ کہتے ہیں کیونکہ یہ ایریا بند تھا ہر طرح سے سیف تھا۔  اس گھٹ سے بدل کر گڈانی بن گیا۔

سوال : اس وقت گڈانی کا سب سے معمر شخص کون ھے؟

جواب: ( عبدالمجید صاحب کا کمنٹ ) ہماری بدقسمتی کہ بیشتر بزرگ لوگ اللّہ کو پیارے ہو گیۓ۔ آخری عمر رسیدہ شخص ناکو عمر آدینگ تھا۔ لیکن اس وقت بزرگ ترین کون ھے سمجھ نہیں آرہا۔
ناکو غلام قادر
آدو جورک
سلیم کرد کی والدہ
جمعہ فقیر
احمد شیرو
اب ایاز صاحب بتا دیں
کچھ ایسے لوگ جنوبی اور چیچائی کی طرف ہوں گے جنہیں ہم نہیں جانتے۔
(واحد اقبال صاحب کا کمنٹ ) سر جی حُسین خمیسہ بھی ہیں غالباً ۔
(ڈاکٹر انوار صاحب کا کمنٹ)  میرے خیال سے جنگو باگھڑ والا ہے۔
(سر ایاز صاحب کا کمنٹ ) آپ احمد شیرو کا نام لے رھے ھو  ھوسکتا ھے کہ احمد شیرو ھو کیونکہ احمد شیرو بھی ان افراد میں شامل ھے جن کے پرپوتے یا پر نواسے ھیں اگر گڈانی شہر کے حوالے سے بات کی جائے تو کچھ خواتین ھیں۔
(عبدالمجید صاحب کا کمنٹ ) وڈیرہ حسن بھی بڑے عمر کا شخص ھے۔
(عبدالغفور صاحب کا کمنٹ ) تحصیل گڈانی کا معمر ترین شخص منگیوں شیخ ھے چیچائی کے باسیوں کے مطابق اس کی عمر 115 سال ھے جبکہ اس سے بھی ذیادہ بتاتے ھیں۔ چونکا دینے والی معلومات یہ ھے کہ منگیوں شیخ کے ٹوٹے ھوئے دانت دوبارہ نکلنا شروع ھوئے ھیں جبکہ اس کے سفید بال پھر سے کالے ھونا شروع ھوئے ھیں۔

سوال : ہمارے آباء و اجداد یہی کے تھے ؟ اور اگر نہیں تو کب یہاں آئے ہیں؟

جواب : (عبدالمجید صاحب کا کمنٹ ) شیخوں کے علاوہ ہم سب کے آبا و اجداد ہجرت کر کے آۓ تھے۔ ہمارے آبا و اجداد  بدوک سے 1949 میں گڈانی آۓ تھے.
ہم سب مہاجر ھیں۔
(عبدالغفور صاحب کا کمنٹ ) شیخ قبیلہ گڈانی کا قدیم قبیلہ ھے پھر دوسرے نمبر پر شاید کرد قبیلہ ھے بعد ازاں باقی قبائل مختلف علاقوں سے ہجرت کرتے ھوئے گڈانی آئے جن میں سے کچھ قیام پاکستان سے بھی پہلے آئے ھیں.

سوال : گڈانی میں فٹبال کون لایا تھا۔ اور کرکٹ کون لایا تھا ؟

جواب: گڈانی میں فٹبال حیدر رکھو روشناس کرایا تھا اس کے ساتھ ساتھ صالح نزو کپٹن رحیم بخش وغیرہ تھے۔ اور کرکٹ لانے والے مراد بخش تھے۔

سوال: گڈانی میں ڈونڈو (فائبر کشتی ) کا استعمال کس سن سے ہوا ہے؟

جواب:  1990 سے ۔

سوال : لیڈی ڈیانا کا جہاز کس سن میں گڈانی میں ٹوٹا ؟

جواب: 2003 میں۔ 

سوال :  ڈونڈو کو ڈونڈو کا نام کیسے لگ گیا؟

جواب :  (عبدالمجید صاحب کا کمنٹ)جو کسی کام کا نہ ہو۔ اس طرح پڑے ہوتے تھے کہ ان کی کوئی قیمت نہیں تھی۔ لوگوں نے نام ڈونڈو رکھ دیا۔ پھر بنگالیوں نے خریدنا شروع کیا، انہوں نے ڈونڈا کر دیا۔

(قاسم صاحب کا کمنٹ ) مراد محمد ، نورداد والے اس میں گند مچھلی لاتے تھے جس کی وجہ سے اس کا نام ڈھونڈ ڈو رکھا گیا اور یہی بعد میں دونڈو ہوگیا ۔

سوال: گڈانی میں پہلا پختہ گھر یعنی سمنٹ یا اینٹ یا بلاک والا کس نے بنایا؟

جواب:  (ڈاکٹر انور صاحب کا کمنٹ ) پیر بخش  نے بنوایا موجودہ حیدر کا گھر۔

(عبدالمجید صاحب کا کمنٹ ) ناکو مراد
ناکو غلام قادر
اور
وڈیرہ پیربخش

ان میں سے کوئی

(عباس صاحب کا کمنٹ ) بقول مرحوم لعلو ھاشم کرد صاحب گڈانی ایریا میں پہلا پختہ گھر وڈیرہ پیربخش نے بنایا جس میں موجودہ حیدر حاجی خیرو رہائش پزیر ھے اس کے بعد شکرخان سنگور نے اپنا گھر بنایا۔

سوال : گڈانی میں پرانے رہنے والے لوگ کون تھے ؟

جواب : (عباس صاحب کا کمنٹ ) اپنے بڑے بزرگوں سے زبان در زبان سنا ھے کہ گڈانی نے مختلف نشیب و فراز دیکھے، یہاں پر سندھی ملاح، محمدحسنی (بلوچی زبان بولنے والے ماھیگیر)  خدابخش جمال وغیرہ ، کرد گودڑ رحیم داد، شیخ، سنگور دوستین شاہی، انام حیات، فرہاد رادھانی وغیرہ ملک کے معرض وجود سے قبل آباد تھے کچھ ہجرت کرکے چلے گئے کچھ آباد ہیں کچھ قبائل مزیذ آکر آباد ہوگئے اس طرح سلسلہ چل رہا ھے۔

سوال : پرانے دور کے کچھ مشہور ماہی گیروں کے نام ؟

جواب : (عبدالمجید صاحب کا کمنٹ )
محمود واجداد
دوشمبے اسماعیل
میوسہ صالو
سُنڈو
رجب عمر
صالح حسن
بندالی میاں
مصری میاں
گل محمد پیری
گل محمد شیرو
جان محمد ہاشم
غلام حسین خدابخش

بعد میں
شمبو محمد
بھونگر حساو
شیرک عرض محمد
بدو سلیمان ,اور بہت سارے





.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *