تاریخِ گڈانی ـ حصّہ دوئم

حصہ اول یہاں سے پڑھ سکتے ہیں۔

سوال : “واڈی ایں چاہ” اس کے متعلق کوئی معلومات؟

جواب : یہ کنواں پنیہ شیخ اینڈ برادرز نے اپنے مال مویشیوں کو پانی پلانے کے لیے بنوایا تھا اللہ جانے ذاتی طور پر بنایا یا ڈسٹرکٹ فنڈز سے۔۔۔ البتہ واڈیں چاہ کے ہنوز بھی نشان موجود ھیں جو کلیچو گوٹھ کے مشرق میں ھے۔

سوال :” سمٹی چاہ کہاں” تھا اور اس کی تفصیل؟

(جواب :  ( واحد اقبال کا کمنٹ

ایک ایسا کنواں جس کا پانی میٹھا تھا لیکن خواتین کانی اور گڈانی کے مختلف علاقوں کے کنوؤں سے پانی بھرنے جاتی تھیں لیکن سمیٹی چاہ کا پانی صرف کپڑے, لیحاف دھونے کے لئے اس استعمال ہوتا تھا.
میں اگر غلط نہیں ہوں اس کنویں کی گہرائی تقریباً 6 سے 7 فٹ تھا اور چوڑائی بھی تقریباََ اتنا ہی تھا. نہایت خوبصورتی سے اس کنوئے کو بنایا گیا تھا البتہ یہ معلوم نہیں کہ یہ کس نے بنایا تھا مجید صاحب, قاسم صاحب, ڈاکٹر انور صاحب, ایاز صاحب, اگر کسی کو معلوم ہے وہ اس گروپ کے نوجوانوں اور بچوں کو بتا دیں…
سب سے پہلے آپ لوگ یہ بتاو کہ اس کنویں کا پانی کیوں نہیں پیتے تھے….. وجہ,,,؟
اس وقت یہ کنواں واحد محمود والوں کے کمپاؤنڈ میں ہے.
عبدالمجید تاج صاحب کا کمنٹ
پانی اس لیۓ نہیں پیتے تھے کہ
ایک تو اُس جگہ میلے کپڑے وغیرہ دھوۓ جاتے تھے اس لیۓ پینے کو دل نہیں کرتا تھا
دوہم۔ اتنا میٹھا نہیں تھا

سوہم۔ کانی والا پانی دستیاب تھا

بنایا کس نے۔  ہماری پیدائش سے پہلے کا ھے اس لیۓ معلوم نہیں۔

واحد اقبال کا کمنٹ
سہی کہا تاج صاحب نے اس کے قریب عورتیں کپڑے دھوتی تھیں اور گندا پانی اس کے سیمنٹ سے بنے ہوئے گولائی میں جمع ہوتے جبکہ دوسری جانب بچے سمندر میں نہانے کے بعد اس کنویں کے ,,لُنٹ,, یا کناروں پر کھڑے ہو کر پانی کنویں سے نکال نکال کر اپنے اوپر ڈالتے تو وہ پانی دوبارہ اسی کنویں میں گِر جاتے. 
ویلڈن مجید بھائی لیکن یہ کنواں بہت پرانی ہے ہم نے ہوش سنبھالنے کے بعد یہ کنواں دیکھ رہے تھے. عجیب بات یہ تھی کہ 15 سے 20 خواتین ایک ساتھ کپڑے دھونے کے لئے آتیں لیکن اس کنویں کے ,,چمّگ,, یا زمین سے آنے والی پانی اتنی تیزی سے آتا کہ یہ کنواں سوکھنے کا نام ہی نہیں لیتا. 

سوال : نا خدا (کیپٹن ) ماہی گیری میں کس طرح کے طریقے استعمال کرتا ہے؟

جواب : ہمارے یہاں، بلکہ بیشتر ساحلی علاقوں اور ملکوں میں ماہیگیری کا سارا نظام ستاروں کے حساب سے چلتا تھا

اب ڈیجیٹل دور آگیا ھے
آلات آ گیۓ، لوگ پڑھ لکھ گیۓ
لیکن دیکھا جاۓ تو ناھدا کادُک سے لے کر ابھی تک سب ستاروں پر ہی چلتے ھیں۔

سوال: ڈاکٹر حسین گڈانی کب آیا تھا؟

جواب: (عبدالمجید صاحب کا کمنٹ )

جب عبداللّہ رونجہ ٹیڈی، ماسٹر گل محمد مرحوم، رحیم ایس ایچ او، سی ڈی کے کمروں میں رہائش پزیر تھے اُس وقت ڈسپینسر کوئی اور رونجہ تھا
حسین اُس کے بعد آیا تھا

شاید 75 یا 76 میں۔

:ایاز صاحب کا کمنٹ

اس وقت ان کے ساتھ ڈاکٹر غلام حیدر رونجھہ تھا پھر ایک پھٹان تھا ایک لاکھڑا سے آیا تھا۔

سوال : گڈانی میں کیسی گاڑیاں مشہور تھیں؟

جواب : گڈانی کے کچھ گاڑیاں مشہور تھیں جن میں استاد چنڈو کا لیلہ استاد دلی کا 62 انور کا 1149 عظیم کا 1218 عبداللّٰہ ٹیڈی کا hd بس درموں کا لینڈور شمس الدین جو بس چلاتا تھا 1732 اور بھی ھوں گے۔

سوال :  بدوک کے پہاڑ پر قبر موجود ھے انکو ستی کیون بولتے ھے اس کا کیا واقعہ ھے ؟

: جواب: عبدالمجید صاحب کا کمنٹ

ستی ہندی زبان کا لفظ ھے
ستی ساوتری

ستی یعنی پاک، وہ چیز کسی کو کسی نے چھوا نہ ہو

لوگ بیان کرتے ھیں کہ یہ ایک نوجوان لڑکی تھی، کسی نے اُس کی عزت پر حملہ کرنے کی کوشش کی اور اُس نے کنویں میں چھلانگ لگاکر جان دے دی تھی

بعض روایات کے مطابق پہاڑ سے کھود کر جان دے دی

واللّہ عالم

سلیم کرد صاحب کا کمنٹ

وہ ایک چرواہا تھی جس کی بکریاں آس پاس چر رہی تھیں اور وہ خود پہاڑی کنارے بیٹھی کپڑا سی رہی تھی اچانک اسے اپنے قریب کسی انسان کا سایہ نظر آیا اور اس نے پیچھے گھوم کر دیکھا تو اسے اپنے پیچھے کوئی اجنبی شخص نظر آیا جو اسے پکڑنے کے لیے تیار تھا اور اس کی آنکھوں میں شیطان ناچ رہی تھی اور وہ عرب کے لباس میں ملبوس تھا اس سے پہلے کہ وہ عرب بدو اس مقامی لڑکی کو دبوچ لیتا اس نے اپنی عزت بچانے کے لیے پہاڑی سے چھلانگ لگا کر جان دے دی اور شہادت کے رتبے پر فائز ھوگئی ۔واضح رہے کہ اس دور میں سمندری راستے کے ذریعے عرب کے بدو قبائل کے لوگ اپنی بڑی بڑی کشتیوں کے ذریعے گڈانی میں کثرت سے آیا کرتے تھے ۔

وشدل صاحب کا کمنٹ :

ستی، اس عورت کو کہتے ہیں جس کے اندر عورت کی جنیت یا جینز نہیں ہوتی ہے، اور اس کا شادی کرانا گناہ ہے،
کلمانٹ، اس مرد اور عورت کو کہتے ہیں جسے شادی کا بہت شوق ہے لیکن کوئی انکے ساتھ شادی نہیں کرتا۔

سوال: ایک کنواں اُبو کے پاس بھی تھا۔ وہ کبھی چلا ہے یا نہیں ؟ پنکھے والا چا ہ

جواب : عبدالمجید صاحب کا کمنٹ
یہ کنواں شیخوں کی زمین میں پہاڑ کے دامن میں بنایا گیا تھا۔
ونڈ ویل
گڈانی میں دو ونڈ ویل تھے۔ ایک جامعہ مسجد میں ایک شیخوں کی زمین میں

وہاں اس لیۓ بچوں کو جانے سے منع کرتے تھے کہ شیخ برادری کے گاۓ، بیل اور بھینس و بھینسے پانی پینے آتے تھے۔ ان میں کچھ خطرناک بھی تھے.
اس سے جنوب کی طرف ندی کنارے جوسی کا کنواں تھا
ایک زمانے میں جوسی چاہ کے قریب ایک جھگی نما ہوٹل بھی تھا۔ ایک آملی یعنی جنگل جلیبی کا بڑا سا درخت بھی تھا، اس جگہ بھی گاۓ وغیرہ اور بکریوں کو پانی پلانے کے لیۓ کوُنڈے رکھے ہوتے تھے

کوُنڈے لکڑی کے تھے.

سوال : پرانے دور  میں ماہی گیر ہنگول سپٹ جاتے ماہی گیر ی کے لیے  دو تین ماہ بعد آتےعلاقاہی زبان میں اس ٹور کو بیگوا ت  کہتےتھے  بیگوات کے معنی کیا ہے کیا یہ بیگواہ جس کے معنی ہے ظاہر نہ ہونا جس کے بارے میں بتانے والا کوھی نہ ہو بگڑ کر بیگوا ت بنا  یا کچھ اور   پلیز؟

جواب : واحد اقبال صاحب کا کمنٹ

یہ ایک کاروبار کا نام ہے شاید یا یوں کہا جاتا ہے کہ کہی دنوں بعد آتے اور کیونکہ اس وقت بادبان کا دور تھا.
اور ہوا نا ہونے کی وجہ سے بیگوات,,  کہا جاتا یعنی ہوا کا تھم جانا وغیرہ اور آج کل انجن, یا, مشینری کا دور ہے اور ہوا کا کوئی چکر نہیں جب دل چاہتا ہو کنارے آسکتے ہو..
اس لیے آج کل بیگوات کا نام نہیں لیتا اور بیگوات میں اکثر نمک لے جاتے مچھلیوں کو لگا کر رکھ دیتے برف کا کاروبار تو بعد میں شروع ہو گئی تھی…

سوال : ماہی گیری میں استعمال ہونے والی اشیاء کے نام ۔

جواب : ماہیگیری میں استعمال ھونے والے آلات ( طریقوں ) کے بلوچی نام.
یَدار. کَٹی. راچن.
ماؤر
چَمّگ
ساچُم
ساچَگ
تَزر
نئی
کنّاڑ. بارو
بؤچ
لَٹ
کلمپو
ٹِلّو
ٹاؤگ
پیلم(متار)
پاد(ھیٹار)
مِیسار
اِستینگ
ھَڈّو
ھولی. چَھپّگ.گؤرشی.
دَست ھولی
وَنج
پَری. پاٹی
دئِےؤر
پِلمِل
ٹاپو
پَدکلمی
پَدّؤم
جِیب
گَؤر
دیم
گؤرشاہی
دیم شاہی
دامن
آچار
پُچی
مَرو
ھَنج
شارت
شارتء_ کڑی
سکان
بئیرش
نر، مادگ
کلبند
گردن
کن
رامٹو
گَردی
کانگ
تَھرم
گَدم
ھَزنی
زیرآپ
پَنّو
پیڈی
گِری
گوڈی (ٹوالٹ)
تمبُلی
ماڑ
چھیڑو
کُلاّب
کوڑو
کاسک
گَمبت
گَرنالی
بُتؤ
بَرام
دپان
اوکڑ (جس میں پری ڈالتے ھیں)
کورانک
تاڑی
تاگر
جُل
کاڈو
رابز
دربند

چَلّی
ڈینکی
شَتّگ
موش
ڈَک
لوپ
رَگ
مومی
کرپاس
کلپات
بیگوات
ہیلو
شپ ریچ
بیل
آلاڑ
تیاب
زِر
ننگر بندی
درز
کُرک
شکّو
زۓ
نتاری
چیڑو
کَری
کُرم
جگر
تاپگ

اولیگ یا گورشی کس چیز کو کہتے ہیں اور اس کی اقسام ؟

جواب :

گوْرشی یا اولیگ…
دو قسم کے ہوتے تھے. ایک بڑی جو استینک کے ساتھ باندھ کر استعمال ہوتا دوسرا…..
دستءِ ہولیگ جو بغیر استینک کے استعمال ہوتا تھا جس کے زریئے کشتی کو ٹرن بھی دیا جاتا. اور خاص کر یہ چیز چھوٹی کشتیوں میں استعمال ہوتا….

سوال : چیچائی کے بارے میں کچھ معلومات بتا دیں ؟

سر غفور صاحب کا کمنٹ

لوگوں سے سنا ھے کہ 1970 کی دہائی میں چیچائی میں صرف دو گوٹھ تھے
وہ اسطرح کہ چیچائی کے تمام لوگ اپنا ایڈریس عارب شیخ گوٹھ لکھواتے تھے
دوسرا جو گوٹھ تھا وہ گاؤں نورو کے نام سے مشہور تھا جو کہ ھمارے دادے کا بھائی تھا
بعد ازاں آبادی اور مسائل کے حساب سے گوٹھ بنتے گئے..
عبداللہ ڈگارزئی ہاشم واھورہ یہ الگ تھے۔

عبدالمجید صاحب کا کمنٹ

ہمارے یہاں بھی کُچ بُن، رازباری، کلیچو، مچھ ،باگڈھ، بدوکی، پنیہ شیخ اور گوہرخان محلے ہوتے تھے

اب ہر گلی کو کسی کے نام کیا گیا ھے۔

ایاز صاحب کا کمنٹ

اس گوٹھ میں پہلے عمر دررگ رھائش پزیر تھا۔

سر عبدالغفار کا کمنٹ

جب میرے والد 1972 میں یہاں آئے تو سنگھور برادری کے پانچ گھر تھے
پہلے سنگھور برادری مالداری کی وجہ سے خانہ بدوش کے حساب سے آباد تھی یعنی کہ کبھی وہ مالداری کے حساب سے باگڑھ چلے جاتے تو کبھی گٹینگ کی طرف جاتے لیکن بعد ازاں انہوں نے گڈانی موڑ کو مستقل مسکن بنا لیا..
مولا بخش(ٹگو) سنجو, شاموں, سولو, محمد علی یہ بھائی تھے اور عمر درک کے بیٹے تھے..

وشدل صاحب کا کمنٹ

میں نے اپنے بزرگوں کے زبانی سنا تھا کہ جب اونٹوں کے ذریعے مال برداری کراچی سے بیلہ ہوتی تھی تو وہ ہمیشہ بھوانی یا عارب ہوٹل میں پڑاو کا ذکر کرتے تھے، اس کا مطلب کہہ اس وقت عمر ہوٹل اور لک بدوک ہوٹل نہیں ہوتے تھے

عبدالغفور صاحب کا کمنٹ

یہاں چیچائی میں ایک قدیم ھوٹل ھے جو پی ایس رمضان چیچائی کے پاس واقع ھے جسے کوکڑی ھوٹل کہا جاتا ھے سننے میں آیا ھے کہ یہ ھوٹل 50 کی دہائی میں دو بھائیوں کرمی شیخ اور مبارک شیخ نے بنایا مبارک کو مقامی لوگ مونبو کوکڑی کہتے ھیں اس لیے اس ھوٹل کا نام کوکڑی ھوٹل کے نام سے مشہور ھوا۔

سوال : گڈانی میں سب سے پہلے کس نے اپنے کشتی پر انجن لگوایا؟

جواب : رحیم بخش کرد نے۔

سوال : خالد چولے والا اور ناصر چولے والا۔ ان کے کتنے نسل سے یہاں یہ کاروبار چل رہا ہے۔ میں نے سنا ہے پرانا ہے؟

جواب :

عبدالغفور صاحب کا کمنٹ

جب میں نے 1993-1994 میں ہائی اسکول گڈانی میں داخلہ لیا تو اسوقت بھی خالد اور ناصر یہی چھولے والا کاروبار کر رھے تھے یعنی کہ 27 سال پہلے۔

ڈاکٹر انور صاحب کا کمنٹ

ان کا والد یہاں آیا آدم اس نام تھا مشہور تھا اللہ والا کے نام سے تقریبا ١٩٨٤ یا 85 کو آیا۔

سوال : ایک چالیا تھا جس کا نام گولڈ ٹسٹی تھا۔ اس پر ایک آدمی کی تصویر ہوتی تھی۔ تو لوگ کہتے تھے یہ جیوت بکال جیسا ہے۔ جیوت کون تھا ؟

جواب : عبدالغفور صاحب کا کمنٹ

گولڈ ٹیسٹی پر فوٹو حاجی رمضان کا تھا جو کمپنی اونر تھا….
جیوت بکال تاجر تھا شاید گڈانی میں۔

ڈاکٹر انور صاحب کا کمنٹ

جیوات کا گھر یہاں تھا پہلا میڈیکل اسٹوربھی جیوات کا تھا۔

سوال : شاپنگ سینٹر گڈانی کے بنانے کا آغاز کب ہوا ؟

جواب : شاپنگ سنٹر گڈانی تاریخ آغاز مئی 1986

سوال : گڈانی میں پہلا موٹر سائیکل کس کا تھا ؟

جواب : پلی، صفر، پھر مجید اُس کے بعد استا اکبر

سوال : پرانے دور کے چند مشہور ڈرائیور کے نام بتائیں ؟

جواب : دلی، احمد، مستانہ نام یاد نہیں۔ عثمان، بلی، چنڈو، درمو، نیکو، فقیر، گلابی،

بابو، عیسل، ایک پھٹان کُچک گر چلاتا تھا، شاید اُس کا نام بھی عثمان تھا۔
عبدالرحمان موندرہ

سوال : پشک سنڈی کرنا کیا چیز ہے ؟

جواب : پِشِّک
پِشِّک شارک کی ایک قسم ھے آپ اسے چھوٹا شارک کہہ سکتے ھیں

پِشّک، پاگاس، بارکالی، اور بہت سی قسمیں ھیں

سُنڈی۔ پشک پر دوسری مچھلیوں کے مقابلے میں ایک الگ قسم کا چمڑہ ہوتا ھے۔ پشک کے چمڑے کو نکالنا یا صاف کرنا عام کارچیوں {مچھلی کاٹنے والے} کے بس کی بات نہیں۔ چمڑے کو صاف کر کے گوشٹ الگ کیا جاتا ھے۔ پھر اُس کے لمبے لمبے ٹکڑے کیۓ جاتے ھیں

ان ٹکڑوں کو مذید چھوٹے ٹکڑے کر دیۓ جاتے ھیں۔ ان ٹکڑوں کی ساخت درختوں پر لگنے والے سنڈیوں کی طرح ہوتی تھی، شاید اس وجہ سے سنڈی نام رکھا گیا ہوگا
پھر نمک لگا کر کچھ دنوں کے بعد کراچی لے جاتے تھے

اب چونکہ تمام مچھلیاں {ماسواۓ گند} برف لگا کر کراچی لے جاتے ھیں اس وجہ سے اب ایسا نہیں کیا جاتا۔

سوال : ماکوڑی پیر کی تاریخ بتائیں ؟

جواب : سلیم مرد صاحب کا کمنٹ
جہاں تک ماکوڑی پیر کا تعلق ہے یہ کافی پرانا ٹھکانہ ہے اور یہ کسی انسان کا نہیں بلکہ ایک آتشی مخلوق یعنی جن بلا کا ٹھکانہ ہے جو کسی زمانے میں راہ گیروں کو بہت تنگ کرتا تھا ۔۔۔اس کا نام ماکوڑی پیر کیسے پڑا اس بارے مجھے درست علم نہیں ہے۔

سوال :  گور پٹ اور ہپتار کس طرح کے جانور ہیں اور یہ گڈانی میں پائے جاتے تھے یا نہیں  ؟

جواب : سر عبدالغفور صاحب کا کمنٹ
گورپٹ
ہفتار/ہاتار
بھگاڑ
یہ تینوں چیچائی میں کثرت سے پائے جاتے تھے
ان میں سے ہفتار اور بگھاڑ کی نسل یہاں سے معدوم ھو چکی ھے یا پھر نہ ھونے کے برابر ھے
جبکہ گورپٹ اب بھی پایا جاتا ھے
کثرت سے تو نہیں لیکن بہت کم پایا جاتا ھے
سنگھوروں کی طرح یہ شیخوں کو بھی سلیوٹ کرتے تھے
ہارون شیخ اس کی ایک زندہ مثال ھے ۔

وشدل صاحب کا کمنٹ
یہ زیادہ کالے رنگ کے ہوتے ہیں، 1998 میں وڈیرہ پشو سنگھور کے لڑکوں نے ایک زندہ پکڑ کر لایا تھا، انتہائی بدبودار ہے، سر ہمیشہ نیچے رکھتا ہے، جب ماربل سٹی آباد نہیں تھا  دسمبر اور جنوری کی سرد راتوں میں دوسرو کے پہاڑوں میں اس کی آوازیں آتی تھیں۔ رہی سہی کسر DG خان نے پورا کردیا۔

آخری ھپتار 1988 میں دوسرو میں آیا تھا، دوسری صبح سنگھور برادری اس کے پیچھے پڑگئی لوپ  موٹک گوٹھ کے قریب دیکھ کر بندوق کے فائر سے زخمی ہوکر بھوانی کی طرف بھاگ گئی پھر دوبارہ اس کا سوج نہیں ہے۔

اس لئے مرحوم عبدالخالق (اللہ جنت نصیب کرے ) کہتا تھا کہ ھپتار اور گورپٹ سنگھوروں کو دیکھ کر سلوٹ کرتے ہیں۔

جناب عباس بلوچ کا کمنٹ
لفظ گور کا مطلب قبر اور پٹ سے مراد تلاش کرنا پانا ڈھونڈنا، یہ ایک ایسا آدم خور جانور ھے جو ذیادہ تر قبر سے مدفون تازہ مردوں کو نکال کر وہ بھی سر کی سائیڈ سے کھودکر، سنا ھے کھڑا کھڑا اٹھاکر محفوظ جگہ لےجاکر کھا جاتا ھے۔ اس کا اردو نام مجھے معلوم نہیں ھے۔

اس کا نسل ابھی تک ختم نہیں ہوا DG خان کے لائٹس کی مجہ سے شاید اپنے مسکن تبدیل کیے ہوئے ہیں۔

آبادی زیادہ ہوگئ گورپٹ دور بھاگ گئے نسل ختم نہیں ہے۔

سوال : وہ کونسے 2 اشخاص ہیں کہ جن کی بینائی نہیں تھی لیکن اپنے کام میں ماہر تھے ۔

جواب :سر محمد ایاز صاحب کا کمنٹ
گڈانی کی تاریخ دو اشخاص ایسے تھے جن کی بینائی نہیں تھی مگر وہ دونوں اپنے فیلڈ میں ماہر تھے 1 شانو جو مچھلی کاٹنے 2 حساؤ دارو جو ماور باندھنے میں ماہر تھا میں نے دونوں کو کام کرتے دیکھا ھے۔

عبدالمجید صاحب کا کمنٹ
شانو اصل میں کُرد پاڑہ اورماڑہ کا رہائشی تھا
ہماری یاد داشت سے پہلے گڈانی آیا تھا
وفات کا مجھے معلوم نہیں کہ گڈانی میں فوت ہوا یا کسی اور جگہ۔ لیکن میرے خیال میں آخر میں اورماڑہ چلا گیا اور وہیں پر انتقال کر گیا

قدارداد کلان کے گھر کے پاس  رہتا تھا
کبھی فیضو پان والے کے گھر، کبھی بابو کے گھر سے کھانا کھاتا تھا
اسکول کے پیچھے جھگی نما گھر تھا شانو کا۔
یہی تو شانو کا کمال تھا۔ بہت ہی تیز کارچ سے پِشّک کو سُنڈی کرنا آنکھ والوں کے لیۓ مشکل تھا لیکن شانو بہت تیز رفتاری اور نفاست کے ساتھ یہ کام کرتا رہا۔

اُس کی آنکھیں تھی ہی نہیں۔ آنکھوں کی جگہ خالی تھی۔

سوال :  گڈانی میں ایک جگہ ہے جسے ریل ء_ پٹ کہتے ہیں۔ اس جگہ پر کیا ریل چلتے تھے ؟

جواب : ڈاکٹر انور صاحب کا کمنٹ
ریل پٹ نہیں رہڑ پٹ کھلا میدان۔

جناب عباس بلوچ کا کمنٹ
میں نے سنا ھے پہاڑ کے دامن میں ہموار اور راست جگہ کو ریل کہتے ھیں۔

سوال : جناب سر حاجی ندیم صاحب کب گڈانی آئے؟

جواب : سر محمد ایاز صاحب کا کمنٹ
جب 1979 میں مڈل اسکول گـڈانی اپ گریڈ ھو کر ھائی بن گیا تو قریشی صاحب ھیڈ ماسٹر بن کر آیا اور اسی سال حاجی غلام رسول ندیم بھی آیا شروع میں ابن محلہ میں رھائش پذیر تھا پھر ھائی اسکول کے کوارٹر میں بعد میں ٹاؤن میں۔

سر عباس صاحب کا کمنٹ
حاجی غلام رسول ندیم مرحوم ون یونٹ کے زمانے 1957 میں بطور ٹیچر بیلہ آئے۔

سوال : تورگ کیا چیز ہے ؟

جواب :تورگ،  ایک قسم کی تیلی ہے، آخری وقت میں یہ تورگ غلام حسین شیخ احمدی کے پاس تھا۔
عام تیلی،  شاپنگ بیگ، جس میں سفر کے ضروری سامان اور پیسے رکھے جاتے ہیں۔

سوال : شیکن اور ٹاپک میں فرق ؟

جواب : وشدل صاحب کا کمنٹ

شیکن، اونٹ کے اون سے بنتا ہے جس طرح گوالگ بناتے تھے،
تاپگ، موٹی  مٹھی  سخت لگچ سے بناتے ہیں۔

سوال : ٹپڑکیسے بناتے ہیں ؟

جواب :  ٹپر بھیڑ دنبہ کے اون سے بنایا جاتا تھا، اون کو گرم پانی سے تر کرکے، کسی وزنی چیز سے دباتے ہیں اور کوئی لیکوڈ جو کہ چپک جاتا تھا( نام یاد نہیں ) استعمال کرتے تھے۔

سوال : شیخ قبیلہ بلوچستان میں کہاں کہاں رہتا ہے ؟

جواب : سر عبدالغفور صاحب کا کمنٹ

شیخ قبیلہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موجود ھے
لسبیلہ, خضدار, قلات, تربت, بولان بیلٹ
اس کے علاوہ کراچی کے کچھ علاقوں میں بھی ھیں جو کہ یہاں سے ہجرت کرکے گئے تھے
خضدار اور قلات میں شیخ قبیلے کے دو سرداران ھیں جن میں نواب ثناءاللہ زہری اور سردار اختر جان مینگل شامل ھیں جبکہ لسبیلہ میں چیف ٹرائبل سردار غلام فاروق قبیلے کو لیڈ کر رھے ھیں
شیخ قبیلے شیخ برادری کے نام سے بھی جانا جاتا ھے جس میں 14 قومیں شامل ھیں
شیخ قبیلہ لسبیلہ کی کل آبادی کا %45 ھے
تاریخ سے آشنا لوگوں کے مطابق شیخ قبیلہ رند قبیلے کے ساتھ رہا ھے اور ریاستی دور میں شیخ قبائل کے تین سو مسلح افراد موجود تھے جو اپنے مختلف بلوچ قبائل کے تعاون کے لیے تیار رہتے تھے
تاریخ سے آشنا لوگوں کے مطابق رند سمیت مختلف بلوچ قبائل جب جنگ کے لیے نکلتے تو وہ شیخ قبیلے سے خصوصی دعا کراتے
اس سے یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ھے کہ بلوچ قوم میں شیخ قبیلے کو ہمیشہ عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ھے۔

سوال :  گوالگ کیا چیز ہے ؟

جواب : وشدل صاحب کا کمنٹ :

دوستو، گوالگ ایک بوری ہے لیکن اس کا سائز ڈھائی من والی بوری سے بڑا ہوتا تھا اس میں 3 یا ساڑھے تین من گوار آتا تھا۔ یہ بکری کی اون سے بنایا جاتا تھا، اون کی جلک کے ذریعے رسی بنائی جاتی تھی پھر رسی سے گوالگ( بونا ) بنایا جاتا تھا۔

سوال : کٹم اور بنجا میں کیا فرق ہے ؟

جواب : عبدالمجید صاحب کا کمنٹ:

کُٹُم کے دو معنی ھیں

1, قبیلے کو بھی کُٹْم کہا جاتا ھے۔ یا کسی قبیلے کی ذیلی شاخ کو بھی کُٹُم کہا جاتا ھے

2,کسی بھی جانور ،خاص کر بھیڑ اور بکریوں کو ایک ایسے رسی سے باندھنا جو کسی مضبوط پتھر، لوۓ کے سلاخ یا کسی لکڑی سے باندھا ہو کٹم کہا جاتا ھے۔ کٹم ایک ایسا رسی جس کے ایک سائیڈ پھندے نما اور دوسرے سائیڈ ایک گانٹھ ہوتا ھے ، اس گانٹھ کو پیندھے میں ڈال کر جانور کے گردن پر باندھا جاتا ھے۔

بَنجاہ۔ کسی پالتو جانور کے باندھنے کی جگہ کو بنجاہ کہتے ھیں۔

سوال : گڈانی میں ہر چیز میں پہلا شخص کون تھا نام بتائیں سب کے ؟

جواب : سر ایاز صاحب کے کمنٹ :

Upگڈانی میں پہلا انجینئر انور بلوچ پہلا ڈاکٹر میل حمید بلوچ فیمیل شازیہ بلوچ پہلا dsp قاسم ڈگارزئی ہہلا کسٹم آفیسر اسلم بلوچ پہلا فشریز ڈپٹی ڈائریکٹر مجید تاج بلوچ پہلا ھیڈماسٹر ایاز بلوچ پہلا  ڈسپنسر mt انور حادیداد بلوچ پہلا چیئرمین وڈیرہ خدابخش پہلا ناظم حمید بلوچ پہلا sdo رسول بخش بلوچ پہلا ٹیچر انور حیدر بخش  لیبر اسٹونوگرافر وشدل بلوچ پہلا کلرک مراد بخش بلوچ پہلا کونسلر ناکو گوہر خان بلوچ پہلا کرکٹر مرادبخش مرحوم اینڈ گروپ  پہلا فٹبالر حیدر رکھواینڈ گروپ پہلا والی بال پلیر سیٹھ دلوش اینڈ گروپ پہلا انجن ھولڈر رحیم بخش کرد پہلا اسسٹینٹ شیرمحمد پہلا چپراسی اسکول محمد اعظم پہلا پولیس سپاہی ؟ پہلا معلم القران ملا نبی بخش پہلا پی ٹی آئی محمد امین پہلا ٹرانسپورٹروڈیرہ پیربخش پہلا ڈائریکٹر fcs وڈیرہ قادر بخش پہلا  ڈرائیور استاد چنھڈو پہلا مستری جمعہ اسحاق ھائی اسکول گڈانی سے میٹر ک پاس کرنے والے پہلے طالب علم دلمراد دلسرد اینڈ سائیں اقبال پہلا پرائیوٹ میٹرک پاس ماسٹر صابر پہلا جت  سومار  پہلا وانکی مراد عمر پہلا دعوتی رجب عمر پہلا موٹر سائیکل سفر پہلا ڈونڈو مالک مراد محمد۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: