جان نثاران گڈانی


جان نثاران گڈانی کی ٹیم ایک سوچ فکر احساس۔روشنی محبت ایمان داری اور صبح کی اور امید کی پہلی کرن کا نام ہے اور مورخ جب تاریخ لکھے گا تو میرے ان ہیروز کی خدمات کو ضرور اپنے قلم سے راقم کرتے ہوئے بولے گا کہ چند نوجوان ایسے بھی تھے جنھوں نے گڈانی کی عوام اور بلوچستان کی ساحلی پٹی گڈانی کا نقشہ بدل کر عبد الستار ایدھی جیسے مقصد کی جانب رواں تھے ان سب کی منزل خدمت تھی اور ان کا جذبہ روز بروز بڑھتا گیا ایک معمولی سا تنظیم نہیں ہے۔ جان نثار ان ایک سوچ ہےچند لوگوں کے احساسات کا نام ہے روشنی کی کرن ہے۔ ایک ساتھ نبانے والا ساتھی ہے۔ جان نثار ان کسی کی میراث نہیں بلکہ یہ لوگوں کے لیے سپورٹ ہے۔
اس میں موجود کچھ بہت تجربہ کار شخصیات ہیں۔ اس میں معاشرے میں آواز اٹھانے والے صحافی ہیں۔ جاھل لوگوں کو تبدیل کر کے انھیں دنیا میں اپنا نام بنانے کا طریقہ بتانے والے استاد ہیں۔ ایسے نوجوان جو قوم کے ہر مسئلے پر شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں موجود ہیں۔
ان کا مقصد صرف ایک ہے کے کسی بھی طرح اپنے معاشرے میں سدھار پیدا کرنا۔ لوگوں کی سوچ تبدیل کرنا کہ واقعی اگر تم ایک مشت ہو کر کام کرو تو دنیا میں کچھ بھی نہ ممکن نہیں۔ ان کی آنکھوں میں اپنے قوم کے لیے آنسو موجود ہیں۔ یہ ہمارے شہر کے کسی گلی میں اکیلے رہنے والے ایک بوڑھے باپ کے لیے امید کی کرن ہیں کے کہ وہ بوڑھا بھی سوچتا ہے کہ مجھے کیا فکر ہے یہ نوجوان خود ہی میرے گھر تک راشن پہنچا دینگے۔ یہ اس بیوہ عورت کے بچے ہیں جو 1 وقت کا کھانا نہیں کھا پاتی۔ جان نثاروں کی اہمیت کا احساس اس دور کے پیسے والے شخص کو نہیں ہوسکتا کیوں کہ جان نثار تو غریبوں کے كلیجوں میں بستے ہیں۔ ان کے لیے ہر غریب کے منہ سے بس دعا خیر ہی نکلتا ہے۔ جان نثار دن بہ دن اپنے لئے ہدف رکھ رہے ہیں اور پھر اُنھیں پورا کر رہے ہیں۔
آج تک جان نثاروں نے اپنے ہر قدم پر کامیابی حاصل کی ہے اور آگے بھی انشاء اللہ تعالیٰ اسی طرح ثابت قدم رہنگے۔۔ اور کیوں نہ رہیں۔ یہ کسی کا مال نہیں کھا رہے بلکہ یہ ہر غریب کا بازو ہیں بلا انھیں کس بات کی ڈر ہے سوائے اللہ کے۔ ان کی رہنمائی اس طرح کی گئی ہے کہ یہ دشمن کو بھی دوستی کا ہاتھ دکھا تے ہیں۔ لوگ پوچھتے ہیں جہاد کیا ہے۔ جہاد کی ایک مثال ہمارے سامنے ہے۔
شاہ زیب مجید تاج

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *