ذہانت کسی کی میراث نہیں ہوتی یہ محاورہ عام طور پر انسانوں کے لئے بولا جاتا ہے تاہم ایسے جانور بھی موجود ہیں جو کسی سے کم نہیں۔ ایسے ہی 9 ذہن جانوروں کی فہرست آپ کو یقیناً حیران کر دے گی۔

دنیا میں سب سے ذہن جانور دراصل ایک پرندہ ہے، جسے انگریزی میں گرے پیرٹ اور اردو میں خاکستری طوطا کہا جاتا ہے۔اس نسل کے طوطے انتہائی ذہین اور وفادار ہوتے ہیں، خصوصاً ایک طوطا ایلکس تو 50 مختلف اشیاء میں تمیز کرنے کی صلاحیت اور منطقی طور پر ان کی شناخت بھی کراسکتا ہے۔

اس کے بعد ہاتھی کا نام آتا ہے جو بہت ذہین اور جذباتی جانور ہے۔ وہ اپنے مردہ رشتے داروں کو پہچاننے کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتے ہیں اور اس کے پاس سے اس وقت تک نہیں ہٹتے جب تک وہ گلنے نہ لگے۔

تیسرے نمبر پر سی لائنز یا سمندری شیر ہیں جو منطقی انداز سے سوچ سکتے ہیں۔ ایک پالتو سی لائن تو حساب کے مختلف فارمولے بھی حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

چیمپئنزی وہ مخلوق ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سوچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، حال ہی میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ وہ مستقبل کی منصوبہ بندی بھی کرتے ہیں۔

اس کے بعد کتے ہیں جنھیں انسانوں کا بہترین دوست سمجھا جاتا ہے۔ یہ بھی انتہائی ذہین جاندار ہے جو 300 لفظ اپنے ذہن میں محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

چھٹے نمبر پر عقلمند کوے ہیں جو جانتے ہیں کہ کس طرح سوچنا ہے، سیکھنا ہے اور احساس کرنا ہے۔ یہ بہت منتقم مزاج اور اپنے دشمنوں کو ہر حال میں پہچان لیتے ہیں۔

ساتویں نمبر پر افریقی ببون ہیں جن کا رویہ بالکل انسانوں جیسا ہوتا ہے۔ ان کا اپنا پیچیدہ سماجی نظام ہے، وہ تناؤ محسوس کرتے ہیں اور ازخود تجزیہ کر سکتے ہیں۔

چیونٹی بھی کسی سے بھی پیچھے نہیں، یہ ننھی سی مخلوق انتہائی عیار ہوتی ہے، بڑے گروپوں میں جمع ہو کر یہ چھوٹی آبادیوں والی چیونٹیوں کو غلام بنالیتی ہیں۔ ان کو معلوم ہوتا ہے کہ سورج کس وقت کہاں ہوگا۔

آخری نمبر پر انسان دوست ڈولفنز ہیں، یہ آئینے میں خود کو دیکھ کر پہنچاننے کی صلاحیت رکھتی ہیں، انہیں اپنی ماں، گروپ لیڈر اور

داروں کی پہچان بھی ہوتی ہے۔

%d bloggers like this: