زندگی

Repost

زندگی

جیسے زندگی خوبصورت ہوتی ہے لیکن ہرجائی ہے نا موت کو دوام دے کر خود بے وفائی کر جاتی ہے۔ خوبصورت خیال کی مانند زندگی بے انتہا رنگینیوں سے بھری اپنی جانب متوجہ کرتی ہے اور جب اس کا رنگ رگ رگ میں اتر جائے تو بے وفا بن جاتی ہے۔

کائنات نے بھی اپنے اندر چہار اور رنگ ہی رنگ بکھیر رکھے ہیں۔ اوس کا نسیم سحر کے ہمراہ پھولوں کو بوسے دیے کر زندگی بھرنا اور پھر آخیر شام کی منڈیر پر بیٹھ کر زندگی کا خود سے انہیں محروم کر دینا۔
اپنا افسانہ سوچتے سوچتے وہ خیال کو زندگی بخش رہی تھی اور ایک نئے جہان میں پہنچی ہوئی تھی۔
سنہری کرنوں کا دن کو ایک نئی تازگی بھری زندگی دے کر رات کے پہلے پہر چاند کا رات کو تابندگی دینا سبھی تو زندگی کی علامت ہیں۔ خیال کا قیام خوبصورت چیزوں کے بعد وجود میں آیا کہ کائنات کے رب نے لامحدود اشیاء کو ہماری بصارت سے پرے زندگی بخش دی ہوئی ہے۔ ہمارے خیال کے دروازے پر دستک دے کر زندگی خوبصورت اشیاء سمیت دل و دماغ میں گھر کر لیتی ہے۔ یہی تو زندگی ہے خوبصورت مناظر سے منور کر کے آخر دغا دے جاتی ہے۔

فاطمہ رزاق

Leave A Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *