ملو ہم سے

ملو ہم سے
ہماری خاک راہوں میں اڑاؤ
اور ہماری گرد سے کھیلو
زباں پر نا سمجھ باتوں کے الزامات کی بوجھاڑ کر دو
اور سکوت زرد سے کھیلو
گلے لگ کر ہماری خواہشوں کی برف کے اثرات جھیلو
اور سانسوں کی ہوائے سرد سے کھیلو
سمندر پار کرنے کا مصمّم خواب دیکھیں
اور پھر اس کی عجب تعبیر سے نظریں چرائیں
کیسا لگتا ہے ؟
ہم اپنے ساحلوں پر ادھ کھلے جن بادبانوں سے بندھے ہیں بادباں
کب ہیں
ملو ہم سے
ہمارا ہاتھ دیکھو
اور بتاؤ بھی
لکیریں اس طرح سے کب تلک الجھی رہیں گی خوش نصیبی سے۔۔
بتاؤ!
کب تلک اک دوسرے کو کاٹتی مٹتی رہیں گی بد نصیبی کی سیاہی سے
ہمارا اس قدر ویران ہو جانا کبھی تبدیل بھی ہو گا
ہمارا اس قدر سنسان ہو جانا، اجڑ جانا کبھی آباد بھی ہو گا?
ہماری خوش نمائی کی حقیقت بھی ہمیں معلوم ہے
کیا سب، یہ سب کی سب اداکاری ہمیشہ جاری و ساری رہے گی زندگانی بھر
ہماری آنکھ ہنستی ہی رہے گی
اور دل روتا رہے گا کیا?
یونہی ہم بولتے ہی جائیں گے بے بات باتوں پر
مگر اندر کوئی چپ سادھ کے یونہی ہمیں تکتا رہے گا درد میں ڈوبی
نگاہوں سے
ملو ہم سے
ہمیں ڈھونڈو
ہمیں ڈھونڈو کہ اکثر ہم خود اپنے جسم میں ہوتے ہوئے بھی دور اتنی دور
ہوتے ہیں کہ ہم کو لوٹ آنے میں بھی خاصا وقت لگتا ہے
ہم اپنی ذات میں کافی میسر ہو کے بھی کافی نہیں ہوتے
ہم اپنے ذکر میں ملتے ہیں پھر بھی بات پوری ہو نہیں پاتی
ہمیں ڈھونڈو

Leave A Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *