قدرت کا قانون ہے کہ انسان کے حالات وقت کے ساتھ ساتھ بدل جاتے ہیں۔ وقت ہمیشہ تبدیل ہوتا رہتا ہے اور انسان کے حالات بھی اسی کے ساتھ چل پڑتے ہیں ۔

ایسے ہی سب کی زندگی چلتی ہے۔ کبھی خوشی ہے تو کبھی غم و تکلیفیں۔ کبھی اگر امتحان میں پاس ہوگیا ہے اور بہت زیادہ خوش ہے تو کبھی اپنے کسی پیارے کی موت پر رو رہا ہے۔ کبھی شادی ہے گھر پر تو کبھی میّت اُٹھ رہی ہے۔ یعنی کر وقت حالات بدلتے رہتے ہیں۔

میرا اصل مقصد صرف یہ بتانا نہیں کہ وقت بدلتا ہے بلکہ اس بدلتے وقت میں لوگوں کا رویہ کتنا بدلتا ہے اس چیز کو واضح کرنے کی کوشش کرونگا ۔ 

اس بدلتے وقت کے ساتھ مختلف انسان ، آپ کے دوست ، دشمن ، فیملی ، رشتےدار  سب کا ایک الگ کردار ہوتا ہے۔ کچھ مشکل وقت میں بہت ہی زیادہ ساتھ دیتے ہیں اور کچھ مشکل وقت میں اتنے بدل جاتے ہیں کہ آپ کا حال تک نہیں پوچھتے ۔ تو چلیں ان میں سے چند

ایک کو شامل کرتے ہیں

وہ جو مشکل وقت میں مثبت رویہ اپناتے ہیں۔

پہیلی کیٹیگری میں یہی ڈالنا چاونگا کیوں کہ یہ ایسے لوگ ہیں جن کی تعریف کرنی ہی چائیے۔ صفحہ اول پر ان کو رکھنا چائیے۔ اور ان کا رویہ بیشک قابلِ تعریف ہے۔

ان لوگوں کو پہنچانے کا ایک تیکنیک یہ ہے کہ ان لوگوں کا رویہ آپ کے خوشی کے وقت بہت ہی نارمل رہتا ہے۔ ایسا نہیں لگتا کہ ان لوگوں کو آپ کی بہت زیادہ فکر ہے۔ بلکہ یوں لگتا ہے کہ بس نارمل سا بندہ ہے۔ ان میں زیادہ شو شا نہیں ہوتا کہ میں تمہارے لئے یہ کرونگا وہ کرونگا۔ بلکہ یہ ایسے وعدے وغیرہ سے پریز کرتے ہیں۔ ہاں بس کہتے ہیں کہ کوشش ضرور کرونگا۔

مشکل کے وقت یہ بندہ بدل جاتا ہے۔ اسے کہیں بلانے کی ضرورت نہیں ہوتی خود ہی وقت پر پہنچ جاتا ہے ۔خواہ وہ ہسپتال ہو۔ کسی کا گھر ہو، مارکیٹ ہو ، دوسرے شہر میں کوئی مقام ہو یہ بنا وعدہ کیے ، بنا رابطہ کیے ، بنا کسی سے پوچھے اور بنا کسی ڈر کے آپ کے پاس پہنچ جاتا ہے۔

اس کی مثال یوں ہے کہ آپ کو خدانخواستہ کسی جگہ خون کی ضرورت ہوئی۔ آپ نے بس چند دوستوں کو میسج کر لیا ۔ اسے کرنا بھول گئے۔ لیکن اسے وہ میسج کہیں سے مل گیا تو یہ بندہ اس میسج کو دیکھ کر یہ نہیں کہتا کہ ہاں بھائی میری ضرورت ہو تو بتانا پہنچ جاؤنگا۔ بلکہ یہ بنا کسی دیری کے پہنچ جاتا ہے۔ وہاں اس کی ضرورت ہے یا نہیں یہ پھر وہاں کی بات ہے۔

ان کو یہ خاصیت بھی ہے کہ یہ شو شا نہیں کرتے جیسا میں نے پہلے بتایا۔ مثال کے طور پر آج کل اسٹیٹس کا دور ہے۔ آپ کسی تکلیف میں ہیں تو کچھ لوگ ہیں جن کا میں آگے لکھنے والا ہوں وہ کیا کرتے ہیں آپ کا ایک تصویر لیتے ہیں اور اسٹیٹس پر لگا کر کہ دیتے ہیں ۔ میرے دوست کو خون کی ضرورت ہے please اُسے خون دینے جائیں 😢  اور میرے دوست کے لیے دعا کریں کہ ٹھیک ہوجائے۔

بس مانو اس نے اپنے دوست کا پورا کا پورا کام کر دیا اب اُسے خون کی ضرورت نہیں۔ ارے بھائی تم خود بھی انسان ہو۔ خود کیوں نہیں جاتے خون دینے ؟

تو یہ کو بندہ ہے اس میں یہ شو شا بلکل نہیں ہے۔ بلکہ کسی کو پتا تک نہیں چلتا کہ اس آدمی نے بھی مدد کی ہے۔ اور ایسے لوگ بھی موجود ہیں آج کل الحمدللہ۔

وہ لوگ جو آپ سے دور ہیں۔

دوسرے نمبر پر میں اس کیٹیگری کو رکھنا چاہونگا کیوں کہ یہ بھی پہلے والی کے برابر ہے لیکن اس میں بھی دو قسم ہیں۔ایک پہلے والا اور ایک ایسا ہے جو دور ہے پر اس دوری كا فائدہ اٹھا کر آپ کی مدد نہیں کر رہا۔ تو ابھی میں اسکی بات کر رہا ہوں جو دور ہے اور مدد بھی کرتا ہے۔

اس کی پہچان بھی پہلے والے سے الگ نہیں ہیں ۔ یہ بھی کوئی دوست ، رشتے دار کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ اس کی خصصیات پہلے والے سے ملتے ہیں۔ البتہ شخصیت ہر بندے کی الگ ہوتی ہے لیکن ان کے کام ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔

اِس کی مثال کچھ اس طرح ہے کہ یہ بندہ اگر دور ہو تو وہاں سے آپ کی کوئی نہ کوئی مدد کر لیتا ہے۔ یا پھر ہے چین ہو کر اپنے آپ کو کسی بھی طرح آپ تک پہنچاتا ہے۔ اور آپ کو مدد کرتا ہے۔ باقی اس کی تمام تر۔ خصوصیات پہلے والے جیسے ہی ہیں۔

وہ لوگ جو مجبور ہیں۔

اب مشکل وقت نہ تو کسی کو بتا کر آتی ہے اور نہ کسی کو پوچھ کر۔ ہوسکتا ہے آپ کے حالات ٹھیک نہیں تو اسی طرح کسی اور کے حالات بھی اچھے نہ ہوں۔ ضروری نہیں کہ آپ کا ہر دوست مشکل میں آپ کے ساتھ ہی ہو۔ ایسا ممکن ہی نہیں اور اگر آپ یہی چاہتے ہیں تو اس کا مطلب آپ بھی بڑے مطلبی انسان ہیں ، کسی اور کی مشکل کو کس طرح در گزر کر رہے ہیں۔

اس کی مثال میں اپنے بیماری سے دونگا۔ جس طرح میں بیمار ہوں۔ مجھے خون کی ضرورت تھی۔ میں مشکل میں تھا۔ تو میرا ایک بہت اچھا دوست جس کا نام شاہ نواز ہے وہ بھی گردے کا مریض ہے پچھلے 6 سال سے۔ اب وہ بندہ چا کر بھی میری مدد نہیں کر سکتا تھا اور میں بھی اس کی بیماری کے معاملے میں کوئی مدد نہیں کر سکتا تھا۔ تو اس کیٹیگری میں ایسے ہی لوگ شامل ہیں۔ ہوسکتا ہے کسی کو شوگر ہے جو آپ کو خون نہیں سے سکتا۔ ہوسکتا ہے کسی نے 3 مہینے کی مدت پوری نہیں کی ہے حال ہی میں خون عطیہ کی ہے۔ تو ایسے لوگ اس کیٹیگری میں آتے ہیں۔

ان کی پہچان بھی پہلے اور دوسرے سے زیادہ مختلف نہیں۔

وہ لوگ جو آپ کے کام نہیں آتے۔

یہ ایک مختلف کیٹیگری ہے۔اس میں ایسے لوگ ہیں جنہیں آپ سمجھتے تھے کہ میرے کسی کام آئینگے پر وقت پر نہیں آتے اور ان کا آپ کو اتنا افسوس نہیں ہوتا کیوں کہ اس کی ایک وجہ تعلقات کی کمی بھی ہے جو شائد آپ نے بھی ان سے نہیں رکھی۔ اس کی مثال یونیورسٹی کا کوئی ایسا بندہ جس سے آپ کا سلام دعا رہا ہو۔ یا کوئی استاد وغیرہ جو بس ایک ہفتے آپ کو پڑھا چکا ہو تو ضروری نہیں کہ آپ کی مدد کو آئے اور آپ کو افسوس بھی نہیں ہوتا۔

بہانے بنانے والے غیر لوگ

ان میں سے ایک لسٹ ایسا ہے جو آپ کے زیادہ قریب تو نہیں لیکن پھر بھی اپنے آپ کو یہ ظاہر کراتا ہے کہ ہاں بھائی مجھے آپ کی بہت فکر ہے اور اس فکر کو وہ کچھ بہانے بنا کر ظاہر کرتا ہے۔

یار تم اتنے بیمار تھے ، میں آرہا تھا لیکن یقین کرو راستے میں میرے اپنے گاڑی کی ایکسیڈنٹ ہوئی ۔

اب آپ مجبور ہو کر خود اسکا ہی حال پوچھ لینگے ہاہاہا ۔

رشتے دار جو آپ کے کچھ نہیں۔

میں نے یہاں رشتے دار اور کچھ نہیں دونوں کو ساتھ اس لیے کیا ہے کہ رشتے داروں میں ایک قسم ایسی بھی ہے جو رشتے دار تو ہے لیکن آپ کا پھر بھی کچھ نہیں۔

میرے اپنے رشتے داروں کی بات کروں تو ایسے بہت زیادہ ملینگے جو صرف نام کے رشتے دار ہیں۔ شائد کہیں سالوں سے وہ نہ ہمارے گھر آئے اور نہ ہی کسی کام آئے۔ ہاں لیکن جب مصیبت پہنچ جاتی ہے تو یہ آپ کو اسی وقت ملینگے کہ میرا یہ کام نہیں ہو رہا please مدد کر دیں۔ اور جیسے ہی کام ہوجائے آپ ان کو دوبارہ نہیں دیکھتے۔

ان میں ایک بہت خراب قسم ہے۔ جو پوری مصیبت میں آپ کو نہیں ملےگا لیکن جب مصیبت ختم ہوتے دیکھتا ھے تو پھر اپنے آپ کو بہت ہی غمگین بناتا ہے۔ کہ ۔۔۔ ارے میرے بھائی دیش جان آپ کو اللہ صحت دے ۔ میں آپ کے لیے بہت زیادہ دعا کرتا ہوں۔ کبھی کبھی تو ٹھیک سے سو بھی نہیں پاتا کہ پتا نہیں آپ کیسے ہو ۔

یہ قسم انتہائی زہریلا قسم ہے۔

وہ لوگ جن کے لیے آپ نے بہت کچھ کیا اور آپ کو بہت اعتبار ہے۔

اس پوری گروہ میں 2 قسم کے لوگ ہیں۔ منفی اور مثبت ۔

پہلے بات کرتا ہوں مثبت کا ۔ مثبت قسم ایسی ہے کہ جس کے لئے آپ نے اپنی زندگی کی بہت سی خوشیاں ضیاء کی اور اسکی بہت زیادہ مدد کی ہمیشہ ساتھ دیا۔ اور بدلے میں اس کا بھی یہی رویہ تھا۔ یعنی آپ دونوں نے ایک دوسرے کی بہت مدد کی ۔ تو یہاں کسی شکایت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن اس قسم کے لوگ ملنا بہت مشکل ہے۔

دوسری قسم دنیا کی سب سے گھٹیا ترین قسم ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے آپ نے اپنی خوشیاں ضیاء کی۔ یہ ہمیشہ آپ سے کھاتے رہے ۔ ہمیشہ آپ کا استعمال کرتے رہے ۔ آپ نے ہمیشہ ان کو خود سے پہلے رکھا لیکن انہوں نے ہمیشہ آپ کو پیچھے سے چُرا مارنے نے کا سوچا ۔

:مزید پڑھیں

آپ کو یوں لگتا تھا کہ یہ میرا بہترین دوست ہے لیکن پیچھے سے وہ آپ کے اسی چیز کا مذاق بناتا رہا ۔ آپ سے نکالتا ۔ آپ کی مجبوری نہیں سمجھتا ۔ آپ کو تکلیف میں دیکھ کر خوش ہوتا لیکن ظاہر یہی کرتا کہ اُسے بہت فکر ہے۔

ایسے لوگوں میں ایک اور عادت بھی ہے کہ یہ اپنے پیسے ، اپنی چیزیں بھی آپ سے چھپاتے ہیں ۔ کہ کہیں میرا دوست یہ مانگ نہ لے ۔ اور آپ پاگلوں کی طرح ہر چیز پہلے اُسے دکھا دیتے ہیں۔

مشکل کے وقت انکا رویہ صرف اور صرف ایکٹنگ پر ہوتا ہے۔

جب دیکھتے ہیں کہ ہاں اب میری ضرورت نہیں تو آپ کو call کریں گے ۔ کہ ہاں بھائی میں نے اتنے لوگ تیار کیے ہیں ۔ آپ کو ضرورت ہے تو آجائیں ۔

پھر آپ کو یہی لگتا ہے کے بیچارے نے کم از کم کچھ لوگ میری مدد یا وہی خون والا مثال لیں اس کے لئے جمع کیے ہیں۔

یہ لوگ آپ کی پوری زندگی کی خدمات کو ایک دن میں ہی بھول جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔

ان پر میں زیادہ بات نہیں کرنا چاہونگا ۔ ہاں لیکن آپ کے ذہن میں ایسا کوئی ہے یا ایسی کوئی گروپ ہے تو بیشک نیچے کمنٹ کر دیں ۔ سیکھنے کا موقع ملےگا ۔

%d bloggers like this: