ٹانکوں کا ٹوٹ جانا

شاید کوئی ۱۱ دن ہوئے تھے مجھے ہسپتال میں۔ اور اب میرے زخم کے ٹانکے لازمی کھلنے تھے کیوں کے ٹانکے دیر سے کھولے جائیں تو انکا بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے ۔

اتفاق کی بات یہ ہے کہ وارڈ میں بھی زاہد میرا روم میٹ تھا ۔ ہم دونوں کو ایک ماما ہے جس کا نام بابو بھائی ہے اس نے بھلایا اور کہا چلو آپ لوگوں کے ٹانکے کھولنے ہیں۔

ہم دونوں پٹا پٹ اٹھ گئے کہ ہمیں ٹانکے کھولنے تھے تاکہ ہم جلد گھر جا سکیں۔

ڈریسنگ روم میں ڈاکٹر بھی موجود تھا ۔ ڈاکٹر نے زاہد کے ٹانکے کھولنے شروع کیے اور بابو بھائی نے میرے ۔ بابو بھائی نے میرے بس شروع ہی کیے تھے کہ ڈاکٹر والے سائڈ پر زاہد کے ٹانکے اندر سے ٹوٹ گئے۔

ڈاکٹر نے بابو بھائی کو مجھے چھوڑنے کا کہا اور کینچی منگوائی ۔ بابو بھائی نے اُنہیں کینچی دیا ۔ ڈاکٹر نے زاہد کے زخم کو کہیں کہیں سے دوبارہ کھولنے کی کوشش کی لیکن ہر جگہ سے ٹانکے ٹوٹ رہے تھے۔ بہت درد ناک نظارہ تھا ۔ زاہد بھی بیچارہ برداشت کر رہا تھا۔

ڈاکٹر نے کہیں جگہ زاہد کا زخم کھولا تب جا کر اس کا پورا ٹانکا نکل گیا۔ میں یہ سارا نظارہ دیکھ کر تو ڈر گیا اور اللہ سے دعا کرنے کہا کہ یا اللہ میرے ٹانکے آسانی سے کھل جائیں ۔

تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر نے زاہد کے زخم پر ۲ مزید ٹانکے لگائے کیوں کہ اُسکا زخم بہت کھلا ہوا تھا ۔ اس کے بعد ڈاکٹر نے رخ میری طرف کی ۔ شروع کیا تو دونوں سائڈ سے ٹانکے ہاتھ میں تھے ۔ سب اچھا جا رہا تھا لیکن اچانک ٹانکا ٹوٹ گیا ۔

پھر سے ڈاکٹر نے اُسکا چھوٹا سا سرا پکڑا اور شروع ہوا لیکن دوبارہ ٹوٹ گیا اور اس بار اندر سے ہی ٹوٹ گیا ۔ ڈاکٹر بھی تھوڑا ناراض ناراض لگ رہا تھا کہ اُس کے مریض کو تکلیف ہوگی۔ اُس نے فوراً کسی بڑے ڈاکٹر کو فون کیا اور کچھ مشورہ لیا جو میں سن نہیں سکا ۔

اس کے بعد ڈاکٹر نے بابو بھائی سے کینچی مانگی اور زخم کو کھولنا شروع ہوا ۔ یہ بہت شدید درد تھا کہ آپ کے آپریشن کی جگہ کو جاگتے ہوئے دوبارہ کھولا جا رہا ہے۔ پر اللہ تعالیٰ نے مجھ پر پورا رحم فرمایا اور یہ ٹانکے چند لمحے میں نکل گئے ۔

میں نے ڈاکٹر سے پوچھا سر ہوگیا ؟ انہوں نے گڈ کا سائن دکھایا۔ میں نے کہا مزید ٹانکے لگیں گے ؟ انہوں نے موبائل میں لکھا کہ ٹانکے نہیں لگیں گے لیکن زخم تھوڑا کھلا ہے ڈیلی ڈریسنگ کروانا ۔

میں نے اللہ کا شُکریہ ادا کیا ۔ بابو بھائی بھی بیٹھے بیٹھے مسکرا رہے تھے۔

Leave A Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *