کرونا وائرس اور اسکے مثبت اثرات

حسن کردار سے نور مجسم ہو جا 
کہ ابلیس بھی تجھے دیکھے تو مسلماں ہوجائے

میرے استاد ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ ایسا حسن کردار اختیار کرو کہ لوگ تم پر رشک کریں ۔ اور ایسے شخص کی پیروی کرو جس کی زندگی انسانیت سے شروع ہو کے انسانیت پر ختم ہوئی ۔ اور ایسا شخص ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ مجھے ملا ہی نہیں ۔ وہ ایک ایسی شخصیت تھے کہ جن کی ایک آواز پر تمام لوگ چاہےجہاد ہوچاہے کوئی مصیبت ہو اکٹھے ہو جایا کرتے تھے۔

یہ تو کہیں صدیوں پرانی بات ہے آج کے دور کی بات ہم کریں تو اس نفسا نفسی کے عالم میں ہر کوئی خود تک محدود تھا۔ پھر کرونا جیسی وبا آئی۔ اور انسان کی انسانیت کو دستک دی ۔ کل جو لوگ صرف اپنے لئے جیتے تھے ۔ آج وہ دوسروں سہولت دینے کے لئے سرگرم ہے ۔ رات کے چار چار بجے تک وہ سوتے نہیں ہیں ، صرف اور صرف خدمت خلق کے لئے ۔ 
اس گہما گہمی کے عالم میں جو ادارے مختلف طریقوں سے لوگوں کی مدد کر رہے ہیں ان کو راشن پہنچا رہے ہیں ، ان کو کھڑے ہوکر سلام کرنے کا دل کرتا ہے ۔ 
سب سے پہلی میں ایف آر فائونڈیشن کی بات کروگی جس کا بانی عثمان میر اور اسکی ٹیم ہیں ۔ اب تک انہوں نے تقریبا 120 سے اوپر گھرانوں میں راشن پہنچایا ہے ۔ ان کی ٹیم پورا دن سرگرم رہتی ہے اور مختلف لوگوں سے چندہ اکٹھا کرتی رہتی ہے ۔ انہوں نے اب تک غریب کالونی ،مدینہ کالونی ،لیبر کالونی ، دارو ہوٹل اور بھی بہت سی جگہوں پر راشن پہنچایا ۔ ایسی صاحبان نے ان کے کام کو سراہتے ہوئے ان کی بھرپور مدد کی ۔ اور اس ٹیم میں سب کے سب ہمارے نوجوان نسل ہے جو ہماری قوم کا مستقبل ہے ۔ میں نہیں سمجھتی کہ یہ کام جہاد سے کم ہے ۔
اس کے ساتھ ساتھ اسپرے مہم کا کام بھی جاری و ساری ہے ۔یہ کام جماعت اسلامی یوتھ حب کے نوجوان بخوبی انجام دے رہے ہیں ۔
سردار سرور عرف جمعہ خان جس کی فراغ دلی کا ایسا عالم کہ گاڑیاں بڑھ بڑھ کر لوگوں کی مدد کرتے ہے۔ سرور صاحب صرف اس موقع پر نہیں ہمیشہ ایسی فراغ دلی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

الخدمت فاؤنڈیشن ۔جو کرونا وائرس سے پہلے بھی فلاحی کاموں میں سرگرم رہی ہے ۔ مگر اب انسانیت کی خدمت کے لئے ان کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے جنہوں نے 1600 گھرانوں میں راشن تقسیم کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے غریب عوام کیلئے رمضان شریف میں مختلف پیکیج کا بھی وعدہ کیا ہے ۔ الخدمت فاونڈیشن نے ہر ضلع میں اپنا ایک قائد مقرر کیا ہے ۔ جو پوری ایمانداری سے یہ کام کر رہے ہیں۔ 
زینب ویلفیئر اورماڑا ٹرسٹ اس کا قیام بھی کرونا وائرس کے بعد ہوا ۔جس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حاجی عبدالمجید صاحب ہیں۔
اب کرتے ہیں بات جانثاران گڈانی کی۔ سلیم انگاریہ صاحب جو اس فاؤنڈیشن کے بانی ہیں ۔ انہوں نے اور ان کی ٹیم نے غریب عوام کی قسمت ہی بدل دی ۔ بریدہ کیمپ سوالی گوٹھ ، جو صرف راشن کا ہی نہیں کئ محرومیوں کا شکار ہے۔ جہاں سہولیات زندگی نے اپنا رخ نہیں کیا ۔ یہاں کوئی سیاسی لیڈر کبھی پہنچا ہی نہیں ۔ وہاں جانثاران ٹیم پہنچی اور انکی ہر طرح سے مدد کی۔ گڈانی جہاں زیادہ تر لوگوں کا ذریعہ معاش ماہی گیری ہے ۔ اور آج کل وہ نڈھال اور مجبور کرونا کی وجہ سے نہیں بلکہ بھوک کی وجہ سے ہے ۔ مگر گڈانی جانثاران نے رات کی تاریکی میں انکی مدد کو پہنچ جاتے۔

یہ سب باتیں تو میں نے ہر فاؤنڈیشن کے لئے کم ہی بتائی ہیں ۔ وہ سب میری بتائی ہوئی باتوں سے بڑھ کر کر رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سے ایسے فائنڈیشن ہیں جو لوگوں کی مدد کو تیار کھڑے ہیں ۔
آخر میں میں بات کروں گی ایف ڈی فاؤنڈیشن کی ۔ جو کرونا وائرس سے پہلے ہیں لوگوں کی خدمت میں سرگرم تھی ۔ اس فاؤنڈیشن کو کسی اے سی اور ڈی سی کا سہارا نہیں ۔ اور نہ ہی زیادہ لوگ اس فاؤنڈیشن کو جانتے ہیں اس کو اسٹارٹ ہوئے ابھی تین ماہ ہوئے ہیں اور یہ فاؤنڈیشن اپنی مدد آپ کام کر رہا ہے ۔ اب تک 200 لوگوں کے گھرانوں تک یہ راشن پہنچا چکا ہیے۔ اس فاؤنڈیشن کا مقصد صرف غریب گھرانوں میں راشن پہنچانا نہیں ۔لوگوں کو ہنر دینا بھی ہے ۔ اس فاونڈ ایشن نے اوتھل شہر میں اپنی مدد آپ ایک سیٹر کھولا ہے ۔ جہاں پر لڑکیوں کو مفت سلائی کڑھائی قریشی سکھائی جاتی ہے ۔ اس فاؤنڈیشن کا مقصد لوگوں کو اپائج کرنا نہیں بلکہ ہنر دینا ہے ۔ ۔ ان کا ادارہ اب تک رجسٹرڈ نہیں ہے ۔ کیونکہ اس ادارے کی جو بانی ہیں وہ ایک فیمیل ہے ۔ اور اس کے ساتھ تعاون کرنے والے لوگ کم ہیں ۔ اس فاؤنڈیشن کے بانی کا کہنا ہے کہ میرا ادارہ رجسٹرڈ ہو یا نہ ہو ۔ باہر سے کوئی سپورٹ ہو نہ ہو ۔ جب تک میں ہوں اپنا یہ خواب چلاتی رہوں گی

قلم سے لکھ نہیں سکتی میں مفلسی کے افسانے
جن کے ساتھ جو ہوتا ہے ہو اچھا نہیں ہوتا۔

آخر میں میں یہ کہوں گی ۔کہ یہ جتنے فاؤنڈیشن ہیں ان سب کا نام تو الگ الگ ہے ۔ مگر ان کا مقصد الگ نہیں ۔ اور میری التجا ہے صاحب حثیت لوگوں سے کہ ان کی مدد کریں ۔ان کا ساتھ دیں ۔ہم سب ایک ہیں ۔
اور اس جہاد پر ہم اللہ رب العزت کے کہنے پر نکلے اور اللہ کے چنے ہوئے لوگ ہی نکلتے۔ آئیں اس عظیم کام کا حصہ ہم سب بنیں

بے خبر ہوکر جو جیا کرتے تھے 
اگاہی با مقصد بنا گئی ان کو

قلم فوزیہ عثمان رونجھو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *