ہم صنم – آٹھویں قسط

میں جلدی سے آنٹی والے گھر کی طرف بڑھا تاکہ لوگوں کو پتا نہ چلے کے میں اتنے دیر سے یہاں موجود نہیں تھا۔
میں جیسے ہی گھر میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ رخسانہ پہلے ہی گھر پر بیٹھی ہوئی ہے۔ اسے یہاں دیکھ کر میں تو پوری طرح حیران ہوا کہ آیا یہ یہاں کیوں آئی ہے۔دل میں مختلف سوال اٹھ رہے تھے کہ کہیں رخسانہ کو سب پتہ تو نہیں چلا ؟
رخسانہ مجھے دیکھ کر تیزی سے میری طرف بڑھنے لگی اور قریب آ کر اس نے کہا , تم نے ٹھیک نہیں کیا ریحان ۔۔۔۔۔۔ میں سر نیچے کر چکا تھا ، اس کی آنکھوں میں دیکھنا بہت مشکل تھا۔
وہ رخسانہ میں تمہیں بتانا ہی چا رہا تھا۔۔۔۔۔
رخسانہ : بتانا چا رہے اور تم نے مجھ پر چھپا لیا کہ تم نے اپنی شادی کی جمع کنجی میرے ابو پر خرچ کر دی۔
میں سوچتا رہا کہ شاید وہ مجھے پہنچا گئی تھی۔ لیکن اس کے دل میں یہ غلط فیمی آ چکی تھی کہ میں نے اس کے ابو پر شادی کے پیسے خرچ کیے ہیں۔ میں بھی اس کی غلط فیمی دور نہیں کرنا چاہتا تھا ۔ کیوں کے یہی کچھ وجوہات تھیں جن کی وجہ سے رخسانہ مجھے جانتی تھی۔
میں نے غلط فیمی کو اور بڑھاتے ہوئے کہا ، ” وہ رخسانہ پیسے واپس جمع ہوجائینگے لیکن ابو سب کے لیے ایک ہوتا ہے۔ رخسانہ یہ بات سن کر مجھ سے لفٹ گئی اور رہتے ہوئے کہنے لگی میں تمہارے احسان کبھی چکا نہیں سکونگی۔
اتنے میں اسے اندازہ ہوگیا کہ وہ مجھ سے لپٹی ہوئی ہے۔ اس کے ہاتھ دیلے پڑنے لگ گئے۔
اس نے اپنے آپ کو مجھ سے الگ کر کے کہا معاف کرنا غلطی ہوگئی۔ اور مسکرا کر دوڑ کر چلی گئی۔
آج میری محبت کو ایک نیا رخ ملا تھا ۔ مجھے امید ہونے لگی تھی کہ اب رخسانہ میری ہوسکتی ہے۔
جس دن اس نے مجھے گلے لگایا وہ کپڑے میں نے 3 دن تک تبدیل نہیں کیے اور جب تبدیل کیے تو ایسا لگتا تھا کہ اُن میں رخسانہ کی مہک شامل ہے۔ میرا دوہنے کا دل بلکل بھی نہیں کیا۔

میں سوچنے لگا کہ میں بھی بڑا کمزور انسان ہوں۔ رخسانہ کو ابھی تک یہ نہیں بتا سکا کہ وہ مجھے پسند ہے۔ میرے دل پر کو بوج ہے رخسانہ کو نہ بتانے کہ وہ بہت ہی بڑا ہے۔
خیر یہ سب سوچتے سو چتے  اچانک سے شکیل بھائی آگئے ۔
شکیل : ہاں بھائی شفیق کیسا ہے تو ؟
میں نے کہا ,” شفیق بھائی محضرت میں کل نہیں جا پایا تھا اس مکان پر ۔
شکیل : ارے مجھے سب پتہ ہے۔ تو نے جو کام کیا ہے محلے میں آج تک کسی نے نہیں کیا۔ میں نے اس سیٹ سے بات کیا ہے۔ تم کل صبح چلی جانا ۔
میں انتہائی خوش ہوا۔ اور سچ میں شکیل بھائی جیسے لوگ اس دنیا میں بہت کم ہیں۔ وہ میری مدد اس لیے نہیں کر رہا کہ میں کوئی امیر زادہ ہوں۔ بلکہ وہ تو سمجھتا ہے کہ میں آنٹی کا پوتا ہوں۔ پر میری اس طرح مدد کر رہے ہیں کہ جیسے وہ میرے بہت اپنے قریبی ہوں۔
میں نے شکیل بھائی کا شکریہ ادا کیا ۔
اگلی صبح میں شکیل بھائی کہ بتائے ہوئے ایڈریس پر چلا گیا ۔مشکل کی بات یہ تھی کہ یہ میرے دشمن کا گھر تھا۔ مجھے پہلے تو معلوم نہ تھا جب دروازے پر دیکھا تھا جانب عامر صاحب کے ابو کا نام ایک بہت بڑے بورڈ پر درج تھا۔اب میرے لیے آسانی کی جگہ مشکل ہونا شروع ہونے والا تھا۔ کیوں کہ میں اگر گھر میں جاتا ہوں تو امیر کی پوری فیملی مجھے اچھی طرح جانتی ہے۔ اور اُنہیں اس چیز کا پتہ لگا تو مجھے سب کے سامنے رسوا کر دینگے ۔تب میرے ذہن میں ایک بات آئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: