ہم صنم – دوسری قسط

میں سوچتا تھا، کوئی راستہ مل جائے کہ میں پھر سے رخسانہ کو دیکھ سکوں، پر ایسا جلدی نہ ہوسکا، یہاں تک کہ ابھی تک میں اس کے نام سے بھی نہ واقف تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ اب دن اور رات رکھے ہوئے ہیں اور گزرتے ہی نہیں۔ اب نیند آنا بھی بند سا ہوگیا تھا۔ بھوک نہیں لگتی اور کھانے کا دل نہیں کرتا۔
دو ماہ اور 12 دن بعد آخر وہ دن آ ہی گیا۔ رخسانہ کسی عورت کے ساتھ گلی سے گزر رہی تھی ۔ وہ عورت شاید رخسانہ کی امی تھیں۔ لیکن اس بار میں نے بھی سوچ رکھا تھا کہ رخسانہ کے کسی نہ کسی جگہ کا پتہ لگا لونگا ۔ 
میں انکا پیچھا کرتا رہا۔ وہ ایک چوڑیوں کی دکان پر رُکے۔ رخسانہ نے ایک چوڑی کا سیٹ ہاتھ میں کیا۔ میں یہ چیز دیکھ رہا تھا۔ وہ امی کو دکھا رہی تھی کہ امی بتاؤ تو کیسے ہیں۔
وہ چوڑیاں ہاتھ میں کر کے میری طرف دیکھنے لگی۔ میں نے سر ہلا کر منع کیا کہ یہ پیلے رنگ کی چوڑیاں اچھی نہیں لگ رہی۔ اس نے دوسرے رنگ اور ڈیزائن کے پہن لیے۔ اور مجھے  دکھانے لگی یہ مجھے اچھے لگ رہے تھے میں۔ نے سر ہلا کر ہاں کہ دیا ۔ اس نے پہلے مسکرایا پھر غصے سے دیکھ رہی تھی اور وہ چوڑیاں رکھ دیں۔ میں نےاپنا منہ چھپا لیا ۔ مجھے نہیں پتہ پھر اس نے کیسی چوڑیاں لیں۔
خیر تھوڑی ہی دیر بعد وہ یہاں سے نکل گئے اور کپڑوں کی دکان ، پھر سبزی کی اور پھر میوا وغیرہ لے کر وہاں سے نکل گئے۔ اب رخسانہ کو پتہ تھا کہ میں شاید اسی کا پیچھا کر رہا ہوں۔ مجھے ڈر تھا کہ رخسانہ ڈر نہ جائے۔
کہیں گلیاں گزر گئی ابھی تک یہ چل رہے تھے اور میں بھی پیچھے پیچھے آ رہا تھا۔ آخر وہ ایک تنگ گلی میں داخل ہوئے۔ یہاں گندگی بہت تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ یہ علاقہ گندے لوگوں کا ہے۔ میں شاید کبھی بھی اس طرح کی جگہ نہیں گیا۔ بچے گٹر میں کھیل رہے تھے۔ اسی گٹر کے کنارے ایک بوڑھی عورت بیٹی بھیک مانگ رہی تھی۔ ادھ پٹے کپڑوں میں بچے کھیل رہے تھے۔ کہیں کسی بچے کو مارنے کی آواز آرہی تھی۔ کہیں سے کسی مرد کا کسی عورت سے جگڑا ہورہا تھا۔ بہت ہی عجیب سا لگ رہا تھا ۔
اتنے میں رخسانہ اپنی امی کے ساتھ ایک پرانے گھر کے پاس گئی ، جس کے دروازے کا آدھا حصّہ ٹوٹا

ہوا تھا۔ سامنے ایک لنگڑا آدمی بیٹھا بھیک مانگ ر ہا تھا۔ رخسانہ اُسے جا کر گلے ملی۔ کہنے لگی ابا طبیعت کیسی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *