ہم صنم – ساتویں قسط

رخسانہ بہت پریشانی میں بولی۔ شفیق ۔۔۔۔۔ سنا ہے تم باہر سے آئے ہو ؟ وہ میرے ابو گھر میں گر گئے ہیں ۔ نہ جانے اُنھیں کیا ہوگیا ہے ۔ تم یہ سب چیزیں جانتے ہو نہ ؟ چلو نہ میرے ساتھ۔
اس نے میرا ہاتھ پکڑا ، میں تو خاموشی سے اس کے ساتھ چل پڑا ۔ اس کے گھر جا کر دیکھا تو رخسانہ کے ابو زمین پر پڑے ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی اُن کی امی بیٹھ کر رو رہی ہے۔ میں نے جا کر انکل کے نس کو دیکھا تو سانسیں چل رہی تھیں۔ میں نے اپنا موبائل فون نکالا اور اپنے دوست جمیل کو فون کیا۔
جلدی کوئی گاڑی لے کر آجا یار ایمرجنسی ہے۔
میرے دوست چند منٹ بعد پہنچ گئے گاڑی لے کر۔ ہم نے انکل کو اٹھایا اور گاڑی میں ڈال دیا۔ میں نے رخسانہ سے کہا ، ” پریشان مت ہو ، ابو کو کچھ نہیں ہوگا ” اور ہم وہاں سے نکل گئے ۔
ہم ہسپتال پہنچے تو ڈاکٹر کو بلایا اور  انکل کا علاج شروع ہوگیا۔ ہمارے شہر کا سب سے مہنگا ترین ہسپتال یہی تھا۔ یہاں صرف مریض کو داخل کرنے کے 50 ہزار فیس ہیں۔ انکل کا علاج ابھی شروع ہی تھا کہ ڈاکٹر نے کہا 4 لاکھ روپے جمع کروا دو۔
مجھے پیسے کی ذرا بھی فکر نہیں تھی لیکن مسئلہ یہ تھا کہ میں نے اپنے لیے کبھی بینک اکاؤنٹ نہیں بنایا۔ میں اکثر ابو کا اے – ٹی – ایم استعمال کرتا تھا۔ آج بھی وہ میرے جیب میں موجود تھا لیکن میں نے پہلے دوستوں سے پوچھا کہ کیا تم لوگوں کے پاس اتنا پیسہ ہے؟
دوستوں نے کہا کہ تم نے جلدی بلایا تھا اس لیے ہم پیسہ نہیں لیے پائے۔ ایک نے کہا میرے پاس 50 ہزار ہونگے۔
پھر مجھے مجبوراً ابو والے کارڈ سے پیسے نکالنے پڑھے۔ میں نے 5 لاکھ روپے نکال دیئے۔
انکل کی حالت میں بھی بہتری آ رہی تھی۔ پوری رات اسی طرح انکل کے لیے میں اور میرے دوست انتظار کرتے رہے۔
صبح کے سورج کے ساتھ ہی رخسانہ پہنچ گئی۔ سیدھے  میرے پاس آئی۔
رخسانہ : شفیق ابو کیسے ہیں ۔
میں نے جواب دیا کے نے فکر ہوجاؤ ابو بالکل ٹھیک ہیں۔
رخسانہ ابھی بات ہی کر رہی تھی کے ڈاکٹر آگیا۔ اور کہنے لگا ، ” مسٹر شفیق آپ پیشنٹ کے لیے 80 ہزار مزید جمعہ کریں۔
رخسانہ یہ دیکھ کر اور پریشان ہوگئی۔ کہنے لگی , ” شفیق اتنے سارے پیسے ؟ اتنے پیسے تم کہاں سے لاہو گے ؟
مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا ۔ میں سوچ رہا تھا کہ اب میرا سچ اس کے سامنے آنے والا ہے۔ لیکن میرے دوسرے دوست خلیل نے کہا  ، ” باجی وہ اس کے شادی کہ سامان رکھے ہوئے تھے تو اس نے اس کے بدلے میں مجھ سے پیسے لیے۔
رخسانہ یہ بات سن کر رہنے لگ گئی۔
شفیق میں تمہارا احسان کبھی نھیں بھول پاہونگی۔
میں نے رخسانہ کو چُپ کرایا اور کہ کہ آپ جائیں اپنے امی کے پاس ہم انکل کو خود لاہیں گے۔
رخسانہ چلی گئی۔
انکل کو 3 رات لگے ہسپتال میں۔ اُن کے شاید دل میں کوئی مسئلہ تھا۔
میں انکل کے ڈسچارج کے کاغذات سائن کر رہا تھا کہ میرا فون بجنے لگا ۔ میں نے فون دیکھا تو ابو کا فون تھا۔
میں نے فون اُٹھا کر ہیلو کہا۔ ابو کی آواز آئی۔ جہاں بھی ہو جلدی گھر آؤ۔
میں نے کہا ہیلو ابو ہیلو۔۔۔۔۔ لیکن ابو نے فون کاٹ دیا تھا اور آواز آرہی تھی۔ ٹوٹ ٹوٹ ٹوٹ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: