ہم صنم – قسط چہارم

آنٹی کے ہاتھ کپکپا رہے تھے۔ میں  آنٹی کو سہارا دے کر گھر کے اندر لے گیا ۔ آنٹی کی ایک پرانی بستر پڑی ہوئی تھی جس میں کئی سارے چھید تھے۔ اُن سوراخوں سے کپاس کے ٹکڑے جانک رہے تھے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ یہ کہیں سال پرانی ہے۔ میں نے آنٹی کو بٹھا دیا۔
آنٹی : بیٹے تم یہاں نئے ہو؟
میں نے جواب دیا ,” نہیں آنٹی بس یونہی گھومنے آیا ہوں۔ ویسے میں یہاں کا نہیں ہوں۔
آنٹی کچھ دیر خاموش رہی اور پھر کہنے لگی۔ ” اچھا بیٹا تم بیٹھ جاؤ میں تمہارے لیے کچھ لاتی ہوں۔
میں نے کہا نہیں آنٹی پھر کبھی انشاء اللہ آپ پاس چکر لگا لونگا ابھی مجھے جلدی جانا ہے۔ میں نے آنٹی سے اجازت لے لی اور وہاں سے نکل گیا۔
اب میرے دماغ میں یہی بات تھی کہ اگر میں اس طرح رخسانہ سے ملتا ہوں تو وہ مجھے امیر سمجھ کر ویسے ہی نہ کر دےگی۔ تو لہٰذا میں نے سوچا کہ ابھی نہیں ملتا ، کچھ سوچ کر ہی آنا پڑے گا۔ اور اب تو آنٹی بھی اپنی تھی۔ جب دل چاہتا آجاتا۔
میں  نے اس بارے میں بہت سوچا ، سوچنے کے علاوہ میں گلی محلے میں لوگوں کو دیکھتا تھا کے میں کس کی طرح بن کر جاؤں ؟ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا ۔ پھر میں ایک دن آنٹی کے پاس چلا گیا اور آنٹی کو اپنے دل کی بات بتا دی۔
آنٹی : لڑکی تو بہت اچھی ہے، اس کے ابو بہت بیمار رہتے ہیں۔ لیکن تم اس سے کس طرح کہہ پاؤگے یہ سب؟ 
ریحان : آنٹی تم کچھ آئیڈیا دو نہ کہ کیا کروں ؟
آنٹی: بیٹا ایسا تو کو طریقہ نہیں ہے کہ تم غریب دکھ سکو البتہ ایک طریقہ ضرور ہے۔ 
میں  یہ بات سن کر تو بہت خوش ہوا اور آنٹی کو جلدی سے کہا ,” پلیز آنٹی بتا دیں نہ پلیز “.
آنٹی : ارے بتاتی ہوں بتاتی ہوں۔ دیکھو بیٹا میرا پوتا پتہ نہیں کب آجائے۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ مر گیا ہے۔ لیکن مجھے لگتا ہے  کہ وہ زندہ ہے اور ضرور آئیگا۔ لیکن اس کے بہت سارے کپڑے وغیرہ میرے پاس رکھے ہوئے ہیں۔ تم چاہو تو میں تمہیں اس کی طرح بننے میں مدد کروں گی۔
میرے لیے  اس سے بڑھ کر کوئی خوشی کی بات نہیں تھی۔ میں  نے آنٹی سے کہا آنٹی پلیز جلدی وہ کپڑے مجھے دکھا دیں۔
آنٹی : ارے لیکن صرف کپڑوں سے کچھ نہیں ہونے والا۔
ریحان : وہ کیسے آنٹی ؟
آنٹی : بیٹا تمہیں پتہ ہے کہ ہمارے لوگ تمہاری طرح قسمت والے نہیں ہیں۔ اُن لوگوں کو پڑھائی نصیب نہیں ہوئی ہے۔ اور اُن  کا لہجہ پڑھے لکھے لوگوں سے بہت مختلف ہے۔
ریحان : یہ تو پھر مسئلہ ہوگیا نا آنٹی؟
آنٹی: ارے نہیں بیٹا ، میں ہوں تو کس بات کا مسئلہ ؟
ریحان: آپ ؟ آپ اس میں کس طرح میری مدد کرینگی؟
آنٹی: میر ا پوتا جب آخری وقت میرے پاس تھا تو میں اس میں اس کی آواز ریکارڈ کرتی تھی۔ آنٹی نے ہاتھ ایک پرانی کرسی کے نیچے ڈالا اور ایک پرانی ٹوٹھی ہوئی ریڈیو نکال دی۔
ریحان : یہ ریڈیو ؟
آنٹی : اس میں وہ کیسٹ موجود ہے ۔ آنٹی نے بٹن دبائی اور کیسٹ باہر نکل گیا۔
آنٹی : یہ لو بیٹا ، اسے سن لو اور دوراؤ۔
میں نے آنٹی سے وہ پرانا کیسٹ لیا اور اپنے گھر چلا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *