ہم صنم – پہلی قسط

میں سویا ہوا تھا کے اس کے پازیب کی آواز آنے لگی۔ ایسا لگتا تھا کے پازیب کوئی زبردست سا گیت گن گنا رہے ہوں۔ چن چن کی آواز نے میرے کانوں کو مدھوش کر دیا۔
اتنے میں امی کی آواز آئی۔
9 بج گئے ہیں نا لاحق اٹھتا کیوں نہیں ہے؟
امی کو چند بار منع کرنے کے بعد انہوں نے ساتھ میں رکھی ہوئی بالٹی جس میں ابو کے منہ دوہنے کا تھوڑا سا پانی باقی تھا اٹھا کے مجھ پر گرا دیا۔ میرے صنم والے خیالات تو جیسے تیس نہس ہوگئے۔
اٹھ گیا اور منہ دوہنے چلا گیا۔
میں ابھی باتھروم میں ہی تھا کہ امی کی باتوں کی آواز آرہی تھی۔ مسکان بیگم آئی تھیں ان سے باتیں کر رہی تھیں۔
امی کہ رہی تھی کہ لڑکی تو اچھی ہے پر یہ نالاحق شادی جیسا ہے ہی نہیں۔ اس سے کون شادی کریگا۔
میں جب تک نکل جاتا مسکان بیگم چلی گئی تھیں ۔ پھر میری بات دوبارہ امی سے ہوئی۔
امی ، کیا تمہیں ایسا لگتا ہے ، تمہارے بیٹے سے کوئی شادی نہیں کریگی؟
امی نے بھی بڑا خوب جواب دیا , تو کیا تمہیں اس بات کا وہم ہے کہ کوئی تم سے شادی کریگی؟
میں نے بھی غصے میں جواب دیا , ” میں تو شادی ہی نہیں کرنا چاہتا امی ” ۔
امی میرے پیچھے ہی پڑی تھی کہ میں گھر سے باہر نکل گیا۔
میں اور کہاں جاتا ، نہ تو کوئی کام دھندا تھا اور نہ ہی کسی سے زیادہ ياری دوستی تھی۔ روز سلیم کے دکان کے پاس جا کر بیٹھ جاتا تھا۔ کچھ دیر کل کا رکھا ہوا اخبار پڑھ لیتا اور پھر یہی بیٹھ کر دن گزارتا تھا۔
وہ اتوار کا دن تھا جب رخسانہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ بازار میں جا رہی تھی۔ میری نظر پہلی بار اس پر پڑی تو ایسا لگتا تھا کے جیسے اس کے بال اس کے گال پر آ کر اُسے تنگ کر رہے ہوں اور میں جا کر اُنھیں ہٹا دوں۔
وہ مسکرا رہی تھی تو ایسا لگ رہا تھا کہ ساری کائنات اس کے ساتھ مسکرا رہی ہو۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے میرے چہرے پر بھی مسکان آجاتا تھا ۔
یہ پہلا دن ہی ایسا تھا کہ رخسانہ پوری طرح میرے ہوش و حواس میں بس گئی۔ میرا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ اور رخسانہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ میرے سامنے سے مسکراتی ہوئی گزر گئی ۔
مجھے نہیں پتہ کہ کس لیے لیکن اس نے ایک بار میری طرف دیکھا تھا۔ اور شاید وہی سے میرا سب کچھ لوٹ کر لے گئی۔ دل ، چین ، سکون سب کچھ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *