Interview Of First Female Engineer From Lasbela Komal Baloch

gadani

Today, We have a special guest for the interview, She is a photographer , book lover and An Engineer sorry first female Engineer from lasbela.

I interviewed her and asked some question. If I miss anything so you have to ask in the comment box under the post.

Who is Komal Baloch ?

Myself Komal Baloch, I belong to Gadani. I am final year student of CS Engineering at BUETK and I am labela’s first female Engineer.

How was Your childhood ?

Basically, I belong to a middle-class family so actually my childhood was not so much good. I have had many struggles in my childhood even my life is still full of struggles. But my parents have always been very supportive of me. At that time, rich children used to study in government schools but my parents enrolled me in a private school. I was also a very quick learner and hardworking girl and I was very fond of studying. So, that’s why I have always been a class topper.

Similar Post : Interview Of First Female Vlogger From Quetta.

What are your hobbies ?

Every single man has a passion to do something. Every person has a different hobby to do, to me reading books and photography are my favourite hobbies .
I enjoy reading books when I am free and I started to do it when I was 14 or 15 years old. And also I do photography when I am free because I love to click natural beauty…

Why you chose engineering?

I think, I didn’t choose engineering but engineering chose me. When I was in school, I have always heard that Engineering is not a suitable field for girls. People used to say that girls can not do the things that boys do, but i knew girls could too. So at that time I had made up my mind to become a Engineer. And one of the reasons I chose engineering was that I had no interest in biology.

You like Photography , But which type of photography is your favourite ?

Yes, I love photography. If I got a chance , I would like to take it up as a full-time career.
Landscape photography is my favourite but It pretty much depends on where I am.
When I am outdoor I try to look for interesting nature shots.

Similar Post : Interview Of Asad Waheed.

What is your favourite subject and why?

There are many subjects in which I am interested. But my favourite subject is Computer Communication and network. There is no specific reason but this is an interesting subject.

Life is ? What?

According to me life is a journey filled with happiness, sadness, struggle, joy, special moments and experiences that will lead us to our destination.

Name your favourite book ?

There is a big list but recently I read a book ” The 7 habits of Highly effective teens” whose writer is Sean Covey is very nice and motivational book.

What do you think about Girls and boys are they equal ? or there is any difference.

I think both are equal in the educational sector and both have the same rights in this field because education is necessary for both. But that does not mean that girls and boys are equal in everything. Allah Pak created both in a different gender so obviously neither their rights nor responsibilities will be equal.

Similar Post: Interview of A Micro Artist.

Had it created problems for you when you chose Engineering?

When I chose Engineering, it had not created so many problems for me. But yes, many people forbade me to choose this field, and even some people criticized me but yeah I did not face so many problems.

You words for shahzaibmajeed.com?

This is a website that has given a platform for the people to show their talent. Whether he/she is an artist or singer or related to any field. That’s a great job Shahzaib Bhai you are doing.

I just appreciate you very much for this work.

My Words.

I am so happy that i have interviewed Komal Baloch for my blog. She is a great photographer as well. She is an encouragement for our society and especially for the girls. We are so lucky that we have females like Komal Baloch from our area.

My words are really not enough for her to praise her, but i ask you to encourage her on her different social media accounts.

You can like her Facbook Page, Twitter, Instagram .

Comment below and say anything you want, or if you want to ask any question from Komal Baloch then also comment below.

If you have any talent and want to share with us then contact me on WhatsApp 03482407719 or Email me at shahzaibabdulmajeed@gmail.com, you can also visit my Facebook Page for that

Thanks. 🙂

آرٹیکل مقابلہ

آرٹیکل مقابلہ
shahzaibmajeed.com لایا ہے آپ کے لیے آرٹیکل مقابلہ جس میں آپ جیت سکتے ہیں نقد انعام ۔
حصّہ لینے کے لئے جلد از جلد اپنی لکھی ہوئی تحریر 03482407719 پر سینڈ کر دیں یا پھر shahzaibabdulmajeed@gmail.com پر ایمیل کر دیں۔

مقابلے کے رولز :
1۔ جو آرٹیکل جس دن سینڈ کیا جائیگا اُسی دن ویبسائٹ پر اپلوڈ ہو جائیگا۔
2۔ اپلوڈ کی ہوئی آرٹیکل https://facebook.com/shahzaibmajeedofficial
پر شیئر کردی جائیگی اور آپ کو بھی واٹساپ کے ذریعے اطلاع دی جائیگی ۔
3۔ آپ یہ آرٹیکل اپنے دوستوں ، رشتے داروں اور تمام سوشل میڈیا پر شیئر کر سکتے ہیں۔ ۔
4۔ آپ کی آرٹیکل 30 مئی تک جیتنے ویوز لیگی اس حساب سے فیصلہ ہوگا کہ جیتنے والا آرٹیکل کس کا ہے۔
5۔ آرٹیکل کسی بھی موٹیویشل ، ثقافتی ، سیاحتی ٹوپک پر لکھ سکتے ہیں ۔
6۔ آرٹیکل پولیٹیکل نہیں ہونی چائیے۔ اور کسی کے خلاف نہیں ہونی چائیے۔
7۔ آپ اردو اور انگلش دونوں میں لکھ سکتے ہیں لیکن گرامر کی غلطیاں زیادہ ہوں تو آرٹیکل ریجیکٹ ہوگی ۔
آرٹیکل تقریباً 700 سے 1000 الفاظ پر مبنی ہو۔ چھوٹے آرٹیکل کو شامل نہیں کیا جائیگی ۔
8۔ جیتنے والے کو نقد انعام ملےگا ۔

ہم صنم – ساتویں قسط

رخسانہ بہت پریشانی میں بولی۔ شفیق ۔۔۔۔۔ سنا ہے تم باہر سے آئے ہو ؟ وہ میرے ابو گھر میں گر گئے ہیں ۔ نہ جانے اُنھیں کیا ہوگیا ہے ۔ تم یہ سب چیزیں جانتے ہو نہ ؟ چلو نہ میرے ساتھ۔
اس نے میرا ہاتھ پکڑا ، میں تو خاموشی سے اس کے ساتھ چل پڑا ۔ اس کے گھر جا کر دیکھا تو رخسانہ کے ابو زمین پر پڑے ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی اُن کی امی بیٹھ کر رو رہی ہے۔ میں نے جا کر انکل کے نس کو دیکھا تو سانسیں چل رہی تھیں۔ میں نے اپنا موبائل فون نکالا اور اپنے دوست جمیل کو فون کیا۔
جلدی کوئی گاڑی لے کر آجا یار ایمرجنسی ہے۔
میرے دوست چند منٹ بعد پہنچ گئے گاڑی لے کر۔ ہم نے انکل کو اٹھایا اور گاڑی میں ڈال دیا۔ میں نے رخسانہ سے کہا ، ” پریشان مت ہو ، ابو کو کچھ نہیں ہوگا ” اور ہم وہاں سے نکل گئے ۔
ہم ہسپتال پہنچے تو ڈاکٹر کو بلایا اور  انکل کا علاج شروع ہوگیا۔ ہمارے شہر کا سب سے مہنگا ترین ہسپتال یہی تھا۔ یہاں صرف مریض کو داخل کرنے کے 50 ہزار فیس ہیں۔ انکل کا علاج ابھی شروع ہی تھا کہ ڈاکٹر نے کہا 4 لاکھ روپے جمع کروا دو۔
مجھے پیسے کی ذرا بھی فکر نہیں تھی لیکن مسئلہ یہ تھا کہ میں نے اپنے لیے کبھی بینک اکاؤنٹ نہیں بنایا۔ میں اکثر ابو کا اے – ٹی – ایم استعمال کرتا تھا۔ آج بھی وہ میرے جیب میں موجود تھا لیکن میں نے پہلے دوستوں سے پوچھا کہ کیا تم لوگوں کے پاس اتنا پیسہ ہے؟
دوستوں نے کہا کہ تم نے جلدی بلایا تھا اس لیے ہم پیسہ نہیں لیے پائے۔ ایک نے کہا میرے پاس 50 ہزار ہونگے۔
پھر مجھے مجبوراً ابو والے کارڈ سے پیسے نکالنے پڑھے۔ میں نے 5 لاکھ روپے نکال دیئے۔
انکل کی حالت میں بھی بہتری آ رہی تھی۔ پوری رات اسی طرح انکل کے لیے میں اور میرے دوست انتظار کرتے رہے۔
صبح کے سورج کے ساتھ ہی رخسانہ پہنچ گئی۔ سیدھے  میرے پاس آئی۔
رخسانہ : شفیق ابو کیسے ہیں ۔
میں نے جواب دیا کے نے فکر ہوجاؤ ابو بالکل ٹھیک ہیں۔
رخسانہ ابھی بات ہی کر رہی تھی کے ڈاکٹر آگیا۔ اور کہنے لگا ، ” مسٹر شفیق آپ پیشنٹ کے لیے 80 ہزار مزید جمعہ کریں۔
رخسانہ یہ دیکھ کر اور پریشان ہوگئی۔ کہنے لگی , ” شفیق اتنے سارے پیسے ؟ اتنے پیسے تم کہاں سے لاہو گے ؟
مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا ۔ میں سوچ رہا تھا کہ اب میرا سچ اس کے سامنے آنے والا ہے۔ لیکن میرے دوسرے دوست خلیل نے کہا  ، ” باجی وہ اس کے شادی کہ سامان رکھے ہوئے تھے تو اس نے اس کے بدلے میں مجھ سے پیسے لیے۔
رخسانہ یہ بات سن کر رہنے لگ گئی۔
شفیق میں تمہارا احسان کبھی نھیں بھول پاہونگی۔
میں نے رخسانہ کو چُپ کرایا اور کہ کہ آپ جائیں اپنے امی کے پاس ہم انکل کو خود لاہیں گے۔
رخسانہ چلی گئی۔
انکل کو 3 رات لگے ہسپتال میں۔ اُن کے شاید دل میں کوئی مسئلہ تھا۔
میں انکل کے ڈسچارج کے کاغذات سائن کر رہا تھا کہ میرا فون بجنے لگا ۔ میں نے فون دیکھا تو ابو کا فون تھا۔
میں نے فون اُٹھا کر ہیلو کہا۔ ابو کی آواز آئی۔ جہاں بھی ہو جلدی گھر آؤ۔
میں نے کہا ہیلو ابو ہیلو۔۔۔۔۔ لیکن ابو نے فون کاٹ دیا تھا اور آواز آرہی تھی۔ ٹوٹ ٹوٹ ٹوٹ۔

ہم صنم – پانچویں قسط

گھر پہنچ کر میں نے وہ کیسٹ ، کیسٹ پلیئر پر لگا دی۔ اس میں شفیق کی  آوازیں تھیں ۔
شفیق باقی سب چیزوں میں صحیح تھا ، آنٹی سے بہت پیار کرتا تھا لیکن اسکی زبان ٹپوری تھی۔ میرے لیے یہ مشکل ہورہاہے تھا ۔ لیکن میں جہاں جاتا یہ باتیں دوڑاتا تھا۔
ایک بار ناشتے پر میں اور امی بیٹے تھے۔ امی نے کہا بیٹا انڈا کیسا بنا ہے؟
میرے منہ سے نکل گیا ۔۔۔۔۔۔۔ یک دم جکاس موم۔
امی نے یہ بات سنی اور کہنے لگی ۔۔۔ یا خدا اس نا لائق کو ٹھیک کر دے پتا نہیں کیا کیا بولتا رہتا ہے۔
میں تو دل ہی دل میں اپنے آپ پر ہنس رہا تھا کہ یہ کیا ہوگیا ہے مجھے۔ 
میں  نے لگاتار 3 مہینے شفیق کو سنا اور اس کی کاپی کی۔ اس دوران میں آنٹی کے پاس بس 2 دن گیا تھا ۔ آنٹی کوابھی تک یہ معلوم نہیں تھا کے میں اس چیز کے لیے تیاری کر رہا ہوں۔
پھر ایک دن میں نے فیصلہ کیا کے اب جانا ہی پڑے گا۔ میں نے شفیق کے کپڑے پہن لیے اور اس کے سٹائل میں چلا گیا آنٹی کے گھر ۔ میں جیسے ہی گھر کے پاس پہنچا میں نے دیکھا کہ بہت رش ہے۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہوا ہے۔ تھوڑا اور قریب گیا تو دیکھا کچھ عورتیں رو رہی ہیں۔ اور ایک میت پڑی ہوئی ہے۔ عورت سے پوچھنے پر پتہ چلا کہ وہ آنٹی ہے۔ کل رات وہ فوت ہوئی ہیں۔
یہ دن میرے لیے بہت ہی منوس دن تھا۔ مجھے سمجھنے والی ایک ہی تھی اور وہی اس دنیا کو چھوڑ کر چلی گئی۔ ایسا لگتا تھا کہ اب کچھ نہیں ہونے والا۔


آنٹی کی موت نے مجھے بہت دل برداشتہ کر دیا۔ میں 3 ہفتے تک آنٹی کے ہی گھر میں پڑا رہا۔ یہی روہتا تھا ، آنسو صاف کرتا تھا۔ سوتا تھا۔ سب کچھ یہی پر ہی گزر رہا تھا۔ میرا جیسے کہیں جانے کا دل ہی نہیں کر رہا تھا۔ سب کو لگنے لگا تھا کہ آنٹی کا پوتا شفیق میں ہی ہوں۔ اور آنٹی صحیح ہے کہ اسکا پوتا نہیں مرا۔
لیکن لوگ اس بات سے انجان تھے کہ میں ایک امیر زادہ ہوں۔
خیر میں یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ ان لوگوں کو پتا چلے ۔ لیکن میں کوئی کام میں کرتا تھا۔ میرے دوست چپکے سے راتوں کو کھانا وغیرہ لاتے تھے ۔ اس سے مجھے لگ رہا تھا کے محلے والوں کو شک نا ہو۔ میں  نے دوستوں کو آنے سے منع کر دیا کہ تم لوگ تب ہی آنا جب میں بلا لوں۔
اگلے دن صبح میں شکیل بھائی کے گھر گیا۔ شکیل بھائی اس محلے کے معزز شخصیت ہیں۔ وہ یہاں کے لڑکوں کو کہیں نہ کہیں کام پر لگا دیتے ہیں تاکہ وہ کچھ کما سکیں۔
شکیل بھائی سے درخواست کی کہ مجھے کہیں نوکری ڈالا دیں۔ شکیل بھائی نے مجھ سے کہا تو بیفکر ہوجا۔ میں تیرے لیے کچھ کرتا ہوں۔
میں  نے اپنے دوستوں کو اطلاع دی کہ تم لوگ گھر پر بتا دینا کہ میں کہیں گھومنے گیا ہوں اور مجھے چند دن لگ جائیں گے۔ اور میری خوش قسمتی یہ ہے کہ  میرے گھر والے میرے لیے زیادہ پریشان نہیں ہوتے۔
اگلی صبح شکیل بھائی میرے پاس آئے۔ شفیق شفیق چلا رہے تھے۔ میں باہر نکلا ، وہ بہت ہی خوش نظر آ رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ کیا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا , تیرے لیے نوکری ڈھونڈ لی ہے۔
میں اُن کی طرف دیکھ رہا تھا
شکیل : بھائی بہت اچھی نوکری ہے۔ آپ کو صرف صاحب کے گھر میں پودوں کو پانی دینا ہوگا ۔
مجھے یہ سن کر بہت خوشی ہوئی کہ کوئی اور کام نہیں ڈھونڈا ۔ یہ تو میں آسانی سے کر سکتا تھا۔
میں  نے شکیل بھائی سے پوری معلومات لی کہ کب اور کس جگہ جانا ہے، انہوں نے مجھے سب بتا دیا۔ اور کہا کہ کل صبح جانا ہے۔
میں تو آرام سے بیٹھ گیا۔ اب کوئی پریشانی نہیں تھی کیوں کے اب محلے کے لوگ بھی شک نہیں کر رہے تھے۔ لیکن رخسانہ کی بہت یاد آتی تھی۔ اور اب ڈر سا لگتا تھا اُسے بتانے میں۔ بس اس کے محلے میں رہ کر ہی خوش تھا۔
رات کا وقت تھا میں جاگتے ہوئے سپنے بن رہا تھا کہ اچانک دروازے پر تیز دستک ہوئی۔ ٹک ٹک ٹک
میں تیزی سے گیا گیٹ پر۔ ایک لڑکی کھڑی تھی۔ باہر بارش تھی۔ اس کے بال بیگ چکے تھے۔ اسکا چہرہ میری طرف نہیں تھا۔ اچانک سے اس نے میری طرف دیکھا تو میں حیران ہوگیا کہ رخسانہ اتنی رات کو میرے دروازے پر آئی ہے۔

ہم صنم – قسط چہارم

آنٹی کے ہاتھ کپکپا رہے تھے۔ میں  آنٹی کو سہارا دے کر گھر کے اندر لے گیا ۔ آنٹی کی ایک پرانی بستر پڑی ہوئی تھی جس میں کئی سارے چھید تھے۔ اُن سوراخوں سے کپاس کے ٹکڑے جانک رہے تھے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ یہ کہیں سال پرانی ہے۔ میں نے آنٹی کو بٹھا دیا۔
آنٹی : بیٹے تم یہاں نئے ہو؟
میں نے جواب دیا ,” نہیں آنٹی بس یونہی گھومنے آیا ہوں۔ ویسے میں یہاں کا نہیں ہوں۔
آنٹی کچھ دیر خاموش رہی اور پھر کہنے لگی۔ ” اچھا بیٹا تم بیٹھ جاؤ میں تمہارے لیے کچھ لاتی ہوں۔
میں نے کہا نہیں آنٹی پھر کبھی انشاء اللہ آپ پاس چکر لگا لونگا ابھی مجھے جلدی جانا ہے۔ میں نے آنٹی سے اجازت لے لی اور وہاں سے نکل گیا۔
اب میرے دماغ میں یہی بات تھی کہ اگر میں اس طرح رخسانہ سے ملتا ہوں تو وہ مجھے امیر سمجھ کر ویسے ہی نہ کر دےگی۔ تو لہٰذا میں نے سوچا کہ ابھی نہیں ملتا ، کچھ سوچ کر ہی آنا پڑے گا۔ اور اب تو آنٹی بھی اپنی تھی۔ جب دل چاہتا آجاتا۔
میں  نے اس بارے میں بہت سوچا ، سوچنے کے علاوہ میں گلی محلے میں لوگوں کو دیکھتا تھا کے میں کس کی طرح بن کر جاؤں ؟ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا ۔ پھر میں ایک دن آنٹی کے پاس چلا گیا اور آنٹی کو اپنے دل کی بات بتا دی۔
آنٹی : لڑکی تو بہت اچھی ہے، اس کے ابو بہت بیمار رہتے ہیں۔ لیکن تم اس سے کس طرح کہہ پاؤگے یہ سب؟ 
ریحان : آنٹی تم کچھ آئیڈیا دو نہ کہ کیا کروں ؟
آنٹی: بیٹا ایسا تو کو طریقہ نہیں ہے کہ تم غریب دکھ سکو البتہ ایک طریقہ ضرور ہے۔ 
میں  یہ بات سن کر تو بہت خوش ہوا اور آنٹی کو جلدی سے کہا ,” پلیز آنٹی بتا دیں نہ پلیز “.
آنٹی : ارے بتاتی ہوں بتاتی ہوں۔ دیکھو بیٹا میرا پوتا پتہ نہیں کب آجائے۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ مر گیا ہے۔ لیکن مجھے لگتا ہے  کہ وہ زندہ ہے اور ضرور آئیگا۔ لیکن اس کے بہت سارے کپڑے وغیرہ میرے پاس رکھے ہوئے ہیں۔ تم چاہو تو میں تمہیں اس کی طرح بننے میں مدد کروں گی۔
میرے لیے  اس سے بڑھ کر کوئی خوشی کی بات نہیں تھی۔ میں  نے آنٹی سے کہا آنٹی پلیز جلدی وہ کپڑے مجھے دکھا دیں۔
آنٹی : ارے لیکن صرف کپڑوں سے کچھ نہیں ہونے والا۔
ریحان : وہ کیسے آنٹی ؟
آنٹی : بیٹا تمہیں پتہ ہے کہ ہمارے لوگ تمہاری طرح قسمت والے نہیں ہیں۔ اُن لوگوں کو پڑھائی نصیب نہیں ہوئی ہے۔ اور اُن  کا لہجہ پڑھے لکھے لوگوں سے بہت مختلف ہے۔
ریحان : یہ تو پھر مسئلہ ہوگیا نا آنٹی؟
آنٹی: ارے نہیں بیٹا ، میں ہوں تو کس بات کا مسئلہ ؟
ریحان: آپ ؟ آپ اس میں کس طرح میری مدد کرینگی؟
آنٹی: میر ا پوتا جب آخری وقت میرے پاس تھا تو میں اس میں اس کی آواز ریکارڈ کرتی تھی۔ آنٹی نے ہاتھ ایک پرانی کرسی کے نیچے ڈالا اور ایک پرانی ٹوٹھی ہوئی ریڈیو نکال دی۔
ریحان : یہ ریڈیو ؟
آنٹی : اس میں وہ کیسٹ موجود ہے ۔ آنٹی نے بٹن دبائی اور کیسٹ باہر نکل گیا۔
آنٹی : یہ لو بیٹا ، اسے سن لو اور دوراؤ۔
میں نے آنٹی سے وہ پرانا کیسٹ لیا اور اپنے گھر چلا گیا۔

ہم صنم – تیسری

اُس بوڑھے شخص نے جس کے ہاتھوں پر چالے پڑے ہوئے تھے۔ ایک آنکھ میں موتیا ہوا تھا ۔ ہاتھوں کے ہتھیلیاں زمین پر رگڑ کھانے کی وجہ سے اُن پر چھالے پڑے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ بہت تکلیف میں ہے۔ جواب دیا۔ ٹھیک ہوں رخسانہ بیٹا۔
رخسانہ کا نام سن کر مجھے تو بہت خوشی ہوئی۔ آج پہلی بار اس کا نام جان سکا ہوں۔ لیکن افسوس بھی تھا کہ رخسانہ ایسے علاقے میں رہتی ہے۔
دوسری طرف میرا محل۔ سینکڑوں نوکر چاکر۔ ہم جس طرح کا کھانا پھینک دیتے ہیں، یہ لوگ یہی کہنا خود بنا کھائے اپنے بچوں کو دے رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا یہ لوگ بہت امیر ہیں اور ہم غریب۔
خیر میں اپنے آنسوؤں کو چھپا کر وہاں سے نکل گیا۔
اس پورے رات مجھے نیند نہیں آئی۔ میں بس رخسانہ کے خیالات میں گم تھا۔ایسا لگتا تھا وہ بہت تکلیف میں ہے۔ اب پیار کے علاوہ مجھے اس پر رحم آنے لگا تھا۔ اب میری منزل صاف تھی کہ کسی بھی طرح مجھے رخسانہ کو اپنانا ہے۔
لیکن پھر گھر کا سوچتا تھا۔ امی ابو کا سوچتا تھا تو ڈر سا لگتا تھا کہ اُنھیں کیسا لگےگا جب میں اُن کو رخسانہ کے حالات کا بتا کر پھر شادی کا نام لونگا ؟ میرے ابو تو اکثر کہتے ہیں کہ رحیم چچا کی بیٹی شہناز سے شادی کر لو، وہ پیسے والے ہیں خوش رہوگے۔ لیکن انھیں کیا پتہ کہ اُن کے بیٹے کی خوشی محل میں نہیں اُس گلی کے جونپڑیوں میں ہے۔
رخسانہ کیا کر رہی ہوگی؟ شاید اپنے ابو کے ہاتھوں کے آبلوں پر مرہم لگا رہی ہوگی؟ شاید کسی کونے میں بیٹھ کر قسمت پر رو رہی ہوگی؟ لیکن رخسانہ اب میں تمہیں رونے نہیں دونگا۔ بہت جلد میں تمہیں اپنا بنا لونگا۔
میں اگلی صبح اُٹھا اور شاید کوئی صبح پانچ بج رہے تھے۔ امی ابھی تک نہیں اٹھی تھیں۔ میں نے امی کو اُٹھا دیا ۔


امی پلیز جلدی اٹھ جائیں۔ مجھے کچھ بنا کر دے دیں میں جاؤنگا۔
امی اٹھی اور بہت پریشان تھی کہ بیٹے کو کیا ہوا ہے۔ جو بیٹا 9 بجے سے پہلے زبردستی اٹھانے پر نہیں اٹھتا تھا وہ آج خود اتنی جلدی کیسے اُٹھا ہے؟
امی : بیٹا ریحان : کیا تمہیں کوئی پریشانی ہے؟
میرے منہ سے اچانک سے نکل گیا۔
امی وہ پتہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر میں نے بات روک دی۔ اور کہا کچھ نہیں اماں۔
میں نے بس جیسے ہی ناشتہ کیا گھر سے نکل گیا۔ اور میرے پاؤں مجھے سیدھا اُسی گلی میں لے گئے۔ میں جاننا چاہتا تھا کہ یہاں لوگ کون کون ہیں، کیا کرتے ہیں۔ تو سب پہلے میں ایک گھر کی طرف بڑھا ۔ اس گھر  کا چت سامنے سے ٹوٹھ چکا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ اندر جاؤں کہ نہیں۔ اتنے میں ایک بوڑھی عورت آگئی۔
بوڑھی عورت : شفیق بیٹا تم آگئے ؟
میں نے کہا آنٹی میں شفیق نہیں ریحان ہوں۔
آنٹی نے اپنے کانپتے ہونٹوں سے کہا۔
معاف کر دینا بیٹا۔ میرا پوتا شفیق کچھ سالوں سے غائب ہے میں نے سوچا وہی ہوگا۔ نظر کمزور ہے پتہ نہیں چلتا۔
آنٹی یہ کہہ ہی رہی تھی کے آنٹی کے ہاتھ سے بیساقی چھوٹ گئی وہ گرنے والی تھیں کہ میں اُنھیں ہاتھوں میں پکڑ لیا تھا۔ ایسا لگتا تھا کے آنٹی میری اپنی کچھ ہیں۔ پتہ نہیں کیوں۔

ہم صنم – دوسری قسط

میں سوچتا تھا، کوئی راستہ مل جائے کہ میں پھر سے رخسانہ کو دیکھ سکوں، پر ایسا جلدی نہ ہوسکا، یہاں تک کہ ابھی تک میں اس کے نام سے بھی نہ واقف تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ اب دن اور رات رکھے ہوئے ہیں اور گزرتے ہی نہیں۔ اب نیند آنا بھی بند سا ہوگیا تھا۔ بھوک نہیں لگتی اور کھانے کا دل نہیں کرتا۔
دو ماہ اور 12 دن بعد آخر وہ دن آ ہی گیا۔ رخسانہ کسی عورت کے ساتھ گلی سے گزر رہی تھی ۔ وہ عورت شاید رخسانہ کی امی تھیں۔ لیکن اس بار میں نے بھی سوچ رکھا تھا کہ رخسانہ کے کسی نہ کسی جگہ کا پتہ لگا لونگا ۔ 
میں انکا پیچھا کرتا رہا۔ وہ ایک چوڑیوں کی دکان پر رُکے۔ رخسانہ نے ایک چوڑی کا سیٹ ہاتھ میں کیا۔ میں یہ چیز دیکھ رہا تھا۔ وہ امی کو دکھا رہی تھی کہ امی بتاؤ تو کیسے ہیں۔
وہ چوڑیاں ہاتھ میں کر کے میری طرف دیکھنے لگی۔ میں نے سر ہلا کر منع کیا کہ یہ پیلے رنگ کی چوڑیاں اچھی نہیں لگ رہی۔ اس نے دوسرے رنگ اور ڈیزائن کے پہن لیے۔ اور مجھے  دکھانے لگی یہ مجھے اچھے لگ رہے تھے میں۔ نے سر ہلا کر ہاں کہ دیا ۔ اس نے پہلے مسکرایا پھر غصے سے دیکھ رہی تھی اور وہ چوڑیاں رکھ دیں۔ میں نےاپنا منہ چھپا لیا ۔ مجھے نہیں پتہ پھر اس نے کیسی چوڑیاں لیں۔
خیر تھوڑی ہی دیر بعد وہ یہاں سے نکل گئے اور کپڑوں کی دکان ، پھر سبزی کی اور پھر میوا وغیرہ لے کر وہاں سے نکل گئے۔ اب رخسانہ کو پتہ تھا کہ میں شاید اسی کا پیچھا کر رہا ہوں۔ مجھے ڈر تھا کہ رخسانہ ڈر نہ جائے۔
کہیں گلیاں گزر گئی ابھی تک یہ چل رہے تھے اور میں بھی پیچھے پیچھے آ رہا تھا۔ آخر وہ ایک تنگ گلی میں داخل ہوئے۔ یہاں گندگی بہت تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ یہ علاقہ گندے لوگوں کا ہے۔ میں شاید کبھی بھی اس طرح کی جگہ نہیں گیا۔ بچے گٹر میں کھیل رہے تھے۔ اسی گٹر کے کنارے ایک بوڑھی عورت بیٹی بھیک مانگ رہی تھی۔ ادھ پٹے کپڑوں میں بچے کھیل رہے تھے۔ کہیں کسی بچے کو مارنے کی آواز آرہی تھی۔ کہیں سے کسی مرد کا کسی عورت سے جگڑا ہورہا تھا۔ بہت ہی عجیب سا لگ رہا تھا ۔
اتنے میں رخسانہ اپنی امی کے ساتھ ایک پرانے گھر کے پاس گئی ، جس کے دروازے کا آدھا حصّہ ٹوٹا

ہوا تھا۔ سامنے ایک لنگڑا آدمی بیٹھا بھیک مانگ ر ہا تھا۔ رخسانہ اُسے جا کر گلے ملی۔ کہنے لگی ابا طبیعت کیسی ہے۔

ہم صنم – پہلی قسط

میں سویا ہوا تھا کے اس کے پازیب کی آواز آنے لگی۔ ایسا لگتا تھا کے پازیب کوئی زبردست سا گیت گن گنا رہے ہوں۔ چن چن کی آواز نے میرے کانوں کو مدھوش کر دیا۔
اتنے میں امی کی آواز آئی۔
9 بج گئے ہیں نا لاحق اٹھتا کیوں نہیں ہے؟
امی کو چند بار منع کرنے کے بعد انہوں نے ساتھ میں رکھی ہوئی بالٹی جس میں ابو کے منہ دوہنے کا تھوڑا سا پانی باقی تھا اٹھا کے مجھ پر گرا دیا۔ میرے صنم والے خیالات تو جیسے تیس نہس ہوگئے۔
اٹھ گیا اور منہ دوہنے چلا گیا۔
میں ابھی باتھروم میں ہی تھا کہ امی کی باتوں کی آواز آرہی تھی۔ مسکان بیگم آئی تھیں ان سے باتیں کر رہی تھیں۔
امی کہ رہی تھی کہ لڑکی تو اچھی ہے پر یہ نالاحق شادی جیسا ہے ہی نہیں۔ اس سے کون شادی کریگا۔
میں جب تک نکل جاتا مسکان بیگم چلی گئی تھیں ۔ پھر میری بات دوبارہ امی سے ہوئی۔
امی ، کیا تمہیں ایسا لگتا ہے ، تمہارے بیٹے سے کوئی شادی نہیں کریگی؟
امی نے بھی بڑا خوب جواب دیا , تو کیا تمہیں اس بات کا وہم ہے کہ کوئی تم سے شادی کریگی؟
میں نے بھی غصے میں جواب دیا , ” میں تو شادی ہی نہیں کرنا چاہتا امی ” ۔
امی میرے پیچھے ہی پڑی تھی کہ میں گھر سے باہر نکل گیا۔
میں اور کہاں جاتا ، نہ تو کوئی کام دھندا تھا اور نہ ہی کسی سے زیادہ ياری دوستی تھی۔ روز سلیم کے دکان کے پاس جا کر بیٹھ جاتا تھا۔ کچھ دیر کل کا رکھا ہوا اخبار پڑھ لیتا اور پھر یہی بیٹھ کر دن گزارتا تھا۔
وہ اتوار کا دن تھا جب رخسانہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ بازار میں جا رہی تھی۔ میری نظر پہلی بار اس پر پڑی تو ایسا لگتا تھا کے جیسے اس کے بال اس کے گال پر آ کر اُسے تنگ کر رہے ہوں اور میں جا کر اُنھیں ہٹا دوں۔
وہ مسکرا رہی تھی تو ایسا لگ رہا تھا کہ ساری کائنات اس کے ساتھ مسکرا رہی ہو۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے میرے چہرے پر بھی مسکان آجاتا تھا ۔
یہ پہلا دن ہی ایسا تھا کہ رخسانہ پوری طرح میرے ہوش و حواس میں بس گئی۔ میرا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ اور رخسانہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ میرے سامنے سے مسکراتی ہوئی گزر گئی ۔
مجھے نہیں پتہ کہ کس لیے لیکن اس نے ایک بار میری طرف دیکھا تھا۔ اور شاید وہی سے میرا سب کچھ لوٹ کر لے گئی۔ دل ، چین ، سکون سب کچھ۔

جان نثاران گڈانی


جان نثاران گڈانی کی ٹیم ایک سوچ فکر احساس۔روشنی محبت ایمان داری اور صبح کی اور امید کی پہلی کرن کا نام ہے اور مورخ جب تاریخ لکھے گا تو میرے ان ہیروز کی خدمات کو ضرور اپنے قلم سے راقم کرتے ہوئے بولے گا کہ چند نوجوان ایسے بھی تھے جنھوں نے گڈانی کی عوام اور بلوچستان کی ساحلی پٹی گڈانی کا نقشہ بدل کر عبد الستار ایدھی جیسے مقصد کی جانب رواں تھے ان سب کی منزل خدمت تھی اور ان کا جذبہ روز بروز بڑھتا گیا ایک معمولی سا تنظیم نہیں ہے۔ جان نثار ان ایک سوچ ہےچند لوگوں کے احساسات کا نام ہے روشنی کی کرن ہے۔ ایک ساتھ نبانے والا ساتھی ہے۔ جان نثار ان کسی کی میراث نہیں بلکہ یہ لوگوں کے لیے سپورٹ ہے۔
اس میں موجود کچھ بہت تجربہ کار شخصیات ہیں۔ اس میں معاشرے میں آواز اٹھانے والے صحافی ہیں۔ جاھل لوگوں کو تبدیل کر کے انھیں دنیا میں اپنا نام بنانے کا طریقہ بتانے والے استاد ہیں۔ ایسے نوجوان جو قوم کے ہر مسئلے پر شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں موجود ہیں۔
ان کا مقصد صرف ایک ہے کے کسی بھی طرح اپنے معاشرے میں سدھار پیدا کرنا۔ لوگوں کی سوچ تبدیل کرنا کہ واقعی اگر تم ایک مشت ہو کر کام کرو تو دنیا میں کچھ بھی نہ ممکن نہیں۔ ان کی آنکھوں میں اپنے قوم کے لیے آنسو موجود ہیں۔ یہ ہمارے شہر کے کسی گلی میں اکیلے رہنے والے ایک بوڑھے باپ کے لیے امید کی کرن ہیں کے کہ وہ بوڑھا بھی سوچتا ہے کہ مجھے کیا فکر ہے یہ نوجوان خود ہی میرے گھر تک راشن پہنچا دینگے۔ یہ اس بیوہ عورت کے بچے ہیں جو 1 وقت کا کھانا نہیں کھا پاتی۔ جان نثاروں کی اہمیت کا احساس اس دور کے پیسے والے شخص کو نہیں ہوسکتا کیوں کہ جان نثار تو غریبوں کے كلیجوں میں بستے ہیں۔ ان کے لیے ہر غریب کے منہ سے بس دعا خیر ہی نکلتا ہے۔ جان نثار دن بہ دن اپنے لئے ہدف رکھ رہے ہیں اور پھر اُنھیں پورا کر رہے ہیں۔
آج تک جان نثاروں نے اپنے ہر قدم پر کامیابی حاصل کی ہے اور آگے بھی انشاء اللہ تعالیٰ اسی طرح ثابت قدم رہنگے۔۔ اور کیوں نہ رہیں۔ یہ کسی کا مال نہیں کھا رہے بلکہ یہ ہر غریب کا بازو ہیں بلا انھیں کس بات کی ڈر ہے سوائے اللہ کے۔ ان کی رہنمائی اس طرح کی گئی ہے کہ یہ دشمن کو بھی دوستی کا ہاتھ دکھا تے ہیں۔ لوگ پوچھتے ہیں جہاد کیا ہے۔ جہاد کی ایک مثال ہمارے سامنے ہے۔
شاہ زیب مجید تاج

اپنی یادداشت بہتر بنائیں

آپ طالب علم ہیں اور اچھے نمبر لینا چاہتے ہیں۔ اچھے نمبر لینے کیلئے آپ کو اچھی یادداشت چاہیے اور سبق یاد کرنے کے طریقے آپ کو نہیں آتے۔

آپ محنتی بھی ہیں اور آپ کے Concepts بھی بہت واضح ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ آپ نے ہر مضمون کو سمجھنے کے لیے پورا سال کلاس نوٹس بھی بنائے ہیں لیکن اگر آپ کو یاد کرنا نہیں آتا اور آپ یاد کرنے کے بنیادی اصولوں سے واقف نہیں تو امتحانات میں اعلیٰ کامیابی آپ کو نہیں ملے گی۔ انسانی ذہن پر کام کرنے والے سائنسدانوں کے مطابق ہمارے ذہن کے پاس دو لاکھ کھرب سے زیادہ حروف یاد کرنے، 40 زبانوں پر عبور پانے، ایک پورا انسائیکلوپیڈیا یاد کرنے اور درجنوں یونیورسٹیوں سے گریجویشن کی ڈگریاں لینے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔ لیکن آج اس مضمون میں ہمارا موضوع ذہنی صلاحیت نہیں بلکہ ذہنی صلاحیت کو استعمال میں لانا ہے۔

المیہ یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام میں استاد، کتابیں، سکول، کالج اور یونیورسٹیاں تو شامل ہیں لیکن ذہنی صلاحیت کو استعمال میں لانے اور سبق کو یاد کرنے کی مشقوں کے متعلق کچھ نہیں بتایا جاتا اور طالب علم اپنی ذہنی صلاحیتوں کو استعمال کیے بغیر پڑھائی کو بوجھ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ ماہرین تعلیم ذہن کی سائنس(Mind Scinces) سے ناواقف ہوتے ہیں اور اس غلطی کا خمیازہ پورے سسٹم کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ جدید ملکوں میں یادداشت کو بہتر بنانے کے سیمینارز، لیکچرز اور ورکشاپس منعقد کی جاتی ہیں اور ان سے نہ صرف طالب علم بلکہ عام عوام بھی فائدہ اٹھاتی ہے۔ جب طالب علم کو یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ بہت کچھ یاد کرکے اسے اپنے حافظے میں رکھ سکتے ہیں تو ان کا رجحان کتاب و علم اور تعلیم کی طرف چلا جاتا ہے۔ ہم کتاب، علم اور تعلیم سے اس لیے دور ہیں کیونکہ ہمیں یاد کرنے کے آسان طریقے نہیں بتائے جاتے۔ ہمیں اپنے آپ پر، اپنی صلاحیت پر اور اپنے ٹیلنٹ پر یقین نہیں ہوتا اور ہم اصل روشنی سے بہت دور چلے جاتے ہیں۔

آئیے یادداشت کو بہتر بنانے کے کچھ بنیادی اصول سیکھ لیں۔

-1 ہمیں وہ باتیں، وہ حقائق اور وہ واقعات جلدی یاد ہوتے ہیں جس میں ہماری ذات شامل ہوتی ہے۔ نفسیات میں اس کو I.Factor کہتے ہیں۔ آپ اپنے کالج کے دوستوں کے ساتھ گروپ فوٹو بنواتے ہیں لیکن جب بھی آپ یہ فوٹو دیکھیں گے تو سب سے پہلے اپنے آپ کو دیکھیں گے۔ آپ کوئی بھی کہانی یاد کریں لیکن یاد کرنے کیلئے اس کہانی میں خود کو شامل کرلیں۔ وہ کہانی آپ کو جلد یاد ہوجائے گی۔ آپ کسی بھی مضمون اور کسی بھی سبق کے حقائق کو اپنے ساتھ جوڑ لیں وہ سبق جلدی یاد ہوجائے گا۔

-2 ہمارا ذہن ایک طرح کی انفارمیشن اکٹھی کرتے کرتے بور محسوس کرنے لگتا ہے۔ اس لیے کبھی بھی ایک ہی مضمون کو لگاتار نہ پڑھیں بلکہ پڑھائی میںVariety لے کر آئیں۔ ایک خاص مضمون کی تیاری اور اسے یاد کرتے ہوئے ہمارے ذہن کے خاص مسل استعمال ہورہے ہوتے ہیں، انہیں آرام دینے کیلئے کچھ دیر کسی دوسرے مضمون کو پڑھ لیں اور پھر دوبارہ اصل مضمون کی طرف واپس آجائیں۔

-3 ہمیں وہ باتیں اور حقائق بھول جاتے ہیں جن کو ہم نے یاد کرنے کے بعد دہرایا نہ ہو۔ سائنسدان یہ کہتے ہیں کہ 24 گھنٹے کے بعد ہمارا ذہن بہت تیزی سے بھولنا شروع کردیتا ہے۔ 24 گھنٹے کے اندر اندر 80 سے 100فیصد تک مواد ہمارے ذہن میں رہتا ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ 24 گھنٹے کے اندر اندر آپ سبق کو دہرا لیں۔ آپ صرف چند منٹوں کی دہرائی سے سبق کو کئی دن تک یاد رکھ سکتے ہیں۔

-4 ذہن کو ماہرین الماری کی طرح تصور کرتے ہیں۔ اگر الماری میں اشیاء بکھری پڑی ہیں تو تلاش کرنے میں تنگی ہوگی اور اگر ترتیب سے ہیں تو آسانی سے مل جائیں گی۔ یادداشت کو بہتر بنانے کیلئے جن باتوں کو یاد کرنا چاہتے ہیں ان کی ترتیب بہتر بنائیں۔ ترتیب بنانے کے ساتھ ساتھ ان کا آپس میں رابطہ بنادیں تاکہ یاد کرنا آسان ہوجائے۔

-5 سبق یاد کرتے ہوئے 45 منٹ کی محنت کے بعد 10 منٹ کا وقفہ لیں۔ اس وقفے میں سبق کے متعلق مت سوچیں۔ آپ کی توجہ کا دورانیہ 45 منٹ تک ہوتا ہے۔ اس کے بعد ذہن کو تھوڑا سا آرام دینا ہوتا ہے اور ذہن کا آرام توجہ ہٹانے سے ممکن ہوتا ہے۔ آپ دس منٹ میں میوزک بھی سن سکتے ہیں، نماز بھی پڑھ سکتے ہیں اور چائے کے کپ کو بھی انجوائے کرسکتے ہیں۔

-6 ماہرین نفسیات ذہن کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے ’’خود کو ہدایت دینے کے طریقے‘‘ جس کو Auto Suggestion کہا جاتا ہے پر زور دیتے ہیں۔ خود کو بار بار یہ بتائیں کہ آپ کی یاداشت بہتر اور شاندار ہے۔ یہ کام آپ آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بھی کرسکتے ہیں۔ جب آپ خود کو یہ یقین دلا دیتے ہیں کہ آپ بہت کچھ یاد کرنے کے قابل ہوگئے ہیں تو یہ یقین اپنا جادوئی اثر دکھاتا ہے اور آپ کے اندر کا سویا ہوا جن جاگ جاتا ہے۔ ماہرین نے یادداشت کو بہتر بنانے کی فرضی گولیاں طالب علموں کو کھلائیں اور ساتھ یہ بتایا کہ ان سے آپ کی یادداشت 100 گنا بڑھ سکتی ہے اور نتیجہ واقعی 100 فیصد آیا، کیونکہ سب کو یقین ہوگیا تھا کہ اس طرح یادداشت بڑھ جائے گی۔ اسی طرح ہنری فودڈ کہا کرتا تھا کہ ’’خواہ تم یہ سوچتے ہو کہ تم کوئی کام کرسکتے ہو یا یہ سوچتے ہو کہ تم کوئی کام نہیں کرسکتے…تم درست ہوتے ہو۔‘‘

-7 آپ کو وہ باتیں اور واقعات زیادہ عرصے تک یاد رہتے ہیں جن کی آپ نے اپنے ذہن میں تصویر بناکر رکھی ہوتی ہے۔ ہمارا ذہن تصویروں میں سوچتا ہے۔ آنکھ کی یادداشت کان کی یادداشت سے 20 گنا زیادہ ہے۔ کوشش کریں کسی بھی Concept کو ذہن میں بٹھانے کے لیے ذہن میں ایک تصویر بنالیں۔ تصویر اور تصور کافی عرصہ تک آپ کے ذہن میں رہے گا۔

-8 کسی بھی سبق کو یاد کرنے سے پہلے وقت طے کرلیں کہ اس کو کتنی دیر میں یاد کرنا ہے۔ جب ہمارے پاس یاد کرنے والے مواد اور وقت کا ٹارگٹ واضح ہوتا ہے تو ہمارا ذہن جلدی یاد کرتا ہے۔ ذہن کی صلاحیت تب ایکٹو (Active) ہوجاتی ہے جب اس کے پاس کوئی ہدف ہو۔ آپ جب بھی یاد کرنے کے لیے بیٹھیں تو سٹاپ واچ پاس رکھ لیں اس طرح آپ اپنی یاد کرنے کی رفتار بھی بڑھا سکتے ہیں۔

-9 ہم پوری روٹی منہ میں ڈال کر نہیں نگل سکتے، ہمیں پہلے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بنانے ہوتے ہیں۔ پھر اس کو ہضم کرنا ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح ہمارا ذہن بھی کسی بہت بڑے مواد اور ڈیٹے کو اکٹھا ہضم نہیں کرسکتا۔ ہمیں شارٹ نوٹس (Short notes) یا (Key notes) بنانے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ آپ کسی بھی سبق کے Main-Points ، اہم باتوں اور Facts کے نوٹس بنالیں اسی طرح یاد کرنا بھی آسان ہوجائے گا اور آپ کا وقت بھی بچے گا۔

-10 ہماری نیند اور آرام کا ہمارے حافظے کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہوتا ہے۔ جب ہم مناسب نیند لیتے ہیں تو ہمارے ذہن کے خلیے فریش ہوجاتے ہیں۔ طالب علموں کو کم از کم 8 گھنٹے کی نیند لینی چاہیے۔ اگر آپ صبح جلدی اٹھنے کے عادی ہیں تو دوپہر کو تھوڑی دیر کیلئے آرام ضرور کریں اس طرح آپ بہت فریش محسوس کریں گے۔

-11 آپ اپنے دوستوں کا ایک ایسا گروپ بنالیں جس میں ہفتے میں ایک بار بیٹھ کر یادداشت کا مقابلہ ہوسکے۔ ہم تب زیادہ کام کرتے ہیں جب ہمارا دوسروں سے مقابلہ ہو۔ اگر ہوسکے تو اس گروپ میں غیر نصابی کتابوں کو بھی شامل کریں۔ اس طرح آپ میں مطالعہ کا ذوق بھی بڑھے گا۔

-12 ہمارے دماغ کی خوراک گلوکوز ہے۔ ہماری یادداشت تب بہتر ہوتی ہے جب ہم گلوکوز والی خوراک لیں۔ بالخصوص امتحانات میں ناشتے کے دوران آئل اور پروٹین والی خوراک سے پرہیز کریں۔ جوس زیادہ لیں اور اگر چائے پیتے ہیں تو اس میں چینی زیادہ لے لیں۔

ان آسان تکنیکوں کو استعمال کرکے دوسرے ممالک کے بے شمار طالب علم امتحانات میں بھی اعلیٰ نمبر لیتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ بہت سے ورلڈ ریکارڈ بھی قائم کرچکے ہیں۔ آپ بھی نئے سال اور نئے سمسٹر کی پڑھائی کا آغاز ان طریقوں کے ذریعے کیجیے، پھر دیکھئے نتیجہ۔
طالب علموں،اپنی یادداشت بہتر بنائیں -👨‍🎓👨‍🎓👩‍🎓👩‍🎓