وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر از عمران لیاقت | دوسری قسط

وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر از عمران لیاقت | دوسری قسط

خدا خدا کر کے اس کی زندگی کا سب سے صبر آزما سفر اختتام پذیر ہوا تو گھر کے صحن میں پہنچتے ہی اس نے متلاشی نظروں سے ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیا. اماں جی جو گاڑی کی آواز سنتے ہی دروازے پر چلی آئی تھیں ، اس کے پیچھے کھڑی ، اس کی نظروں کا مطلب سمجھ کر مسکرا رہی...
وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر از عمران لیاقت قسط نمبر  1

وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر از عمران لیاقت قسط نمبر 1

قسط_نمبر_1 پچھلے پچیس منٹ کے مختصر دورانیے میں اس نے بِلا مبالغہ چھٹی بار پاس پڑا موبائل اٹھا کر وقت دیکھا تھا. اس کی بے چینی حد سے سِوا تھی اور وہ بڑی شدت سے پاکستان سے آنے والی متوقع فون کال کا منتظر تھا. آخری بار جب اس کی اپنے چھوٹے بھائی علی سے بات ہوئی تھی تو اس...
سمیرا احمیدــــــــــــــــ      زندگی کا آپ کے نام خط

سمیرا احمیدــــــــــــــــ زندگی کا آپ کے نام خط

زندگی۔۔۔۔۔۔یہ ایک ایسا دوست ہے ، جو آپ کو دوست رکھتا ہے ۔یہ ہر روز آپ کو ”زندگی”کا پیغام دیتاہے ۔ ہر دن آپ کے نام”محبت بھرا” خط لکھتاہے۔ہر لمحہ آپ کے لیے اُمید اور یقین کا گیت گاتاہے۔یہ آپ سے ” زندگی کی مٹھاس” میں کلام کرتاہے۔ اس کی زمین سر سبز ہے اور آسمان”بہار”۔٭...
تم مجھ میں ہو_____سمیرا حمید

تم مجھ میں ہو_____سمیرا حمید

واشنگٹن بہار کو خوش آمدید کہہ چکا تھا، اور شہد کی ان مکھیوں کو بھی جو پرجوش دن میں میوزک کنسرٹ جیسی پر ہجوم جگہ پر پاکٹ ما ررہی تھیں۔۔۔۔۔۔یعنی جیب کاٹ رہی تھیں۔اس میوزک کنسرٹ میں نارمل کم اور دیوانے زیادہ تھے، ایسے ہی کچھ مسٹر بین اور مس پینی بھی۔۔۔۔۔۔”یہ میرا ہے...