تاریخِ گڈانی ـ حصّہ دوئم

حصہ اول یہاں سے پڑھ سکتے ہیں۔

سوال : “واڈی ایں چاہ” اس کے متعلق کوئی معلومات؟

جواب : یہ کنواں پنیہ شیخ اینڈ برادرز نے اپنے مال مویشیوں کو پانی پلانے کے لیے بنوایا تھا اللہ جانے ذاتی طور پر بنایا یا ڈسٹرکٹ فنڈز سے۔۔۔ البتہ واڈیں چاہ کے ہنوز بھی نشان موجود ھیں جو کلیچو گوٹھ کے مشرق میں ھے۔

سوال :” سمٹی چاہ کہاں” تھا اور اس کی تفصیل؟

(جواب :  ( واحد اقبال کا کمنٹ

ایک ایسا کنواں جس کا پانی میٹھا تھا لیکن خواتین کانی اور گڈانی کے مختلف علاقوں کے کنوؤں سے پانی بھرنے جاتی تھیں لیکن سمیٹی چاہ کا پانی صرف کپڑے, لیحاف دھونے کے لئے اس استعمال ہوتا تھا.
میں اگر غلط نہیں ہوں اس کنویں کی گہرائی تقریباً 6 سے 7 فٹ تھا اور چوڑائی بھی تقریباََ اتنا ہی تھا. نہایت خوبصورتی سے اس کنوئے کو بنایا گیا تھا البتہ یہ معلوم نہیں کہ یہ کس نے بنایا تھا مجید صاحب, قاسم صاحب, ڈاکٹر انور صاحب, ایاز صاحب, اگر کسی کو معلوم ہے وہ اس گروپ کے نوجوانوں اور بچوں کو بتا دیں…
سب سے پہلے آپ لوگ یہ بتاو کہ اس کنویں کا پانی کیوں نہیں پیتے تھے….. وجہ,,,؟
اس وقت یہ کنواں واحد محمود والوں کے کمپاؤنڈ میں ہے.
عبدالمجید تاج صاحب کا کمنٹ
پانی اس لیۓ نہیں پیتے تھے کہ
ایک تو اُس جگہ میلے کپڑے وغیرہ دھوۓ جاتے تھے اس لیۓ پینے کو دل نہیں کرتا تھا
دوہم۔ اتنا میٹھا نہیں تھا

سوہم۔ کانی والا پانی دستیاب تھا

بنایا کس نے۔  ہماری پیدائش سے پہلے کا ھے اس لیۓ معلوم نہیں۔

واحد اقبال کا کمنٹ
سہی کہا تاج صاحب نے اس کے قریب عورتیں کپڑے دھوتی تھیں اور گندا پانی اس کے سیمنٹ سے بنے ہوئے گولائی میں جمع ہوتے جبکہ دوسری جانب بچے سمندر میں نہانے کے بعد اس کنویں کے ,,لُنٹ,, یا کناروں پر کھڑے ہو کر پانی کنویں سے نکال نکال کر اپنے اوپر ڈالتے تو وہ پانی دوبارہ اسی کنویں میں گِر جاتے. 
ویلڈن مجید بھائی لیکن یہ کنواں بہت پرانی ہے ہم نے ہوش سنبھالنے کے بعد یہ کنواں دیکھ رہے تھے. عجیب بات یہ تھی کہ 15 سے 20 خواتین ایک ساتھ کپڑے دھونے کے لئے آتیں لیکن اس کنویں کے ,,چمّگ,, یا زمین سے آنے والی پانی اتنی تیزی سے آتا کہ یہ کنواں سوکھنے کا نام ہی نہیں لیتا. 

سوال : نا خدا (کیپٹن ) ماہی گیری میں کس طرح کے طریقے استعمال کرتا ہے؟

جواب : ہمارے یہاں، بلکہ بیشتر ساحلی علاقوں اور ملکوں میں ماہیگیری کا سارا نظام ستاروں کے حساب سے چلتا تھا

اب ڈیجیٹل دور آگیا ھے
آلات آ گیۓ، لوگ پڑھ لکھ گیۓ
لیکن دیکھا جاۓ تو ناھدا کادُک سے لے کر ابھی تک سب ستاروں پر ہی چلتے ھیں۔

سوال: ڈاکٹر حسین گڈانی کب آیا تھا؟

جواب: (عبدالمجید صاحب کا کمنٹ )

جب عبداللّہ رونجہ ٹیڈی، ماسٹر گل محمد مرحوم، رحیم ایس ایچ او، سی ڈی کے کمروں میں رہائش پزیر تھے اُس وقت ڈسپینسر کوئی اور رونجہ تھا
حسین اُس کے بعد آیا تھا

شاید 75 یا 76 میں۔

:ایاز صاحب کا کمنٹ

اس وقت ان کے ساتھ ڈاکٹر غلام حیدر رونجھہ تھا پھر ایک پھٹان تھا ایک لاکھڑا سے آیا تھا۔

سوال : گڈانی میں کیسی گاڑیاں مشہور تھیں؟

جواب : گڈانی کے کچھ گاڑیاں مشہور تھیں جن میں استاد چنڈو کا لیلہ استاد دلی کا 62 انور کا 1149 عظیم کا 1218 عبداللّٰہ ٹیڈی کا hd بس درموں کا لینڈور شمس الدین جو بس چلاتا تھا 1732 اور بھی ھوں گے۔

سوال :  بدوک کے پہاڑ پر قبر موجود ھے انکو ستی کیون بولتے ھے اس کا کیا واقعہ ھے ؟

: جواب: عبدالمجید صاحب کا کمنٹ

ستی ہندی زبان کا لفظ ھے
ستی ساوتری

ستی یعنی پاک، وہ چیز کسی کو کسی نے چھوا نہ ہو

لوگ بیان کرتے ھیں کہ یہ ایک نوجوان لڑکی تھی، کسی نے اُس کی عزت پر حملہ کرنے کی کوشش کی اور اُس نے کنویں میں چھلانگ لگاکر جان دے دی تھی

بعض روایات کے مطابق پہاڑ سے کھود کر جان دے دی

واللّہ عالم

سلیم کرد صاحب کا کمنٹ

وہ ایک چرواہا تھی جس کی بکریاں آس پاس چر رہی تھیں اور وہ خود پہاڑی کنارے بیٹھی کپڑا سی رہی تھی اچانک اسے اپنے قریب کسی انسان کا سایہ نظر آیا اور اس نے پیچھے گھوم کر دیکھا تو اسے اپنے پیچھے کوئی اجنبی شخص نظر آیا جو اسے پکڑنے کے لیے تیار تھا اور اس کی آنکھوں میں شیطان ناچ رہی تھی اور وہ عرب کے لباس میں ملبوس تھا اس سے پہلے کہ وہ عرب بدو اس مقامی لڑکی کو دبوچ لیتا اس نے اپنی عزت بچانے کے لیے پہاڑی سے چھلانگ لگا کر جان دے دی اور شہادت کے رتبے پر فائز ھوگئی ۔واضح رہے کہ اس دور میں سمندری راستے کے ذریعے عرب کے بدو قبائل کے لوگ اپنی بڑی بڑی کشتیوں کے ذریعے گڈانی میں کثرت سے آیا کرتے تھے ۔

وشدل صاحب کا کمنٹ :

ستی، اس عورت کو کہتے ہیں جس کے اندر عورت کی جنیت یا جینز نہیں ہوتی ہے، اور اس کا شادی کرانا گناہ ہے،
کلمانٹ، اس مرد اور عورت کو کہتے ہیں جسے شادی کا بہت شوق ہے لیکن کوئی انکے ساتھ شادی نہیں کرتا۔

سوال: ایک کنواں اُبو کے پاس بھی تھا۔ وہ کبھی چلا ہے یا نہیں ؟ پنکھے والا چا ہ

جواب : عبدالمجید صاحب کا کمنٹ
یہ کنواں شیخوں کی زمین میں پہاڑ کے دامن میں بنایا گیا تھا۔
ونڈ ویل
گڈانی میں دو ونڈ ویل تھے۔ ایک جامعہ مسجد میں ایک شیخوں کی زمین میں

وہاں اس لیۓ بچوں کو جانے سے منع کرتے تھے کہ شیخ برادری کے گاۓ، بیل اور بھینس و بھینسے پانی پینے آتے تھے۔ ان میں کچھ خطرناک بھی تھے.
اس سے جنوب کی طرف ندی کنارے جوسی کا کنواں تھا
ایک زمانے میں جوسی چاہ کے قریب ایک جھگی نما ہوٹل بھی تھا۔ ایک آملی یعنی جنگل جلیبی کا بڑا سا درخت بھی تھا، اس جگہ بھی گاۓ وغیرہ اور بکریوں کو پانی پلانے کے لیۓ کوُنڈے رکھے ہوتے تھے

کوُنڈے لکڑی کے تھے.

سوال : پرانے دور  میں ماہی گیر ہنگول سپٹ جاتے ماہی گیر ی کے لیے  دو تین ماہ بعد آتےعلاقاہی زبان میں اس ٹور کو بیگوا ت  کہتےتھے  بیگوات کے معنی کیا ہے کیا یہ بیگواہ جس کے معنی ہے ظاہر نہ ہونا جس کے بارے میں بتانے والا کوھی نہ ہو بگڑ کر بیگوا ت بنا  یا کچھ اور   پلیز؟

جواب : واحد اقبال صاحب کا کمنٹ

یہ ایک کاروبار کا نام ہے شاید یا یوں کہا جاتا ہے کہ کہی دنوں بعد آتے اور کیونکہ اس وقت بادبان کا دور تھا.
اور ہوا نا ہونے کی وجہ سے بیگوات,,  کہا جاتا یعنی ہوا کا تھم جانا وغیرہ اور آج کل انجن, یا, مشینری کا دور ہے اور ہوا کا کوئی چکر نہیں جب دل چاہتا ہو کنارے آسکتے ہو..
اس لیے آج کل بیگوات کا نام نہیں لیتا اور بیگوات میں اکثر نمک لے جاتے مچھلیوں کو لگا کر رکھ دیتے برف کا کاروبار تو بعد میں شروع ہو گئی تھی…

سوال : ماہی گیری میں استعمال ہونے والی اشیاء کے نام ۔

جواب : ماہیگیری میں استعمال ھونے والے آلات ( طریقوں ) کے بلوچی نام.
یَدار. کَٹی. راچن.
ماؤر
چَمّگ
ساچُم
ساچَگ
تَزر
نئی
کنّاڑ. بارو
بؤچ
لَٹ
کلمپو
ٹِلّو
ٹاؤگ
پیلم(متار)
پاد(ھیٹار)
مِیسار
اِستینگ
ھَڈّو
ھولی. چَھپّگ.گؤرشی.
دَست ھولی
وَنج
پَری. پاٹی
دئِےؤر
پِلمِل
ٹاپو
پَدکلمی
پَدّؤم
جِیب
گَؤر
دیم
گؤرشاہی
دیم شاہی
دامن
آچار
پُچی
مَرو
ھَنج
شارت
شارتء_ کڑی
سکان
بئیرش
نر، مادگ
کلبند
گردن
کن
رامٹو
گَردی
کانگ
تَھرم
گَدم
ھَزنی
زیرآپ
پَنّو
پیڈی
گِری
گوڈی (ٹوالٹ)
تمبُلی
ماڑ
چھیڑو
کُلاّب
کوڑو
کاسک
گَمبت
گَرنالی
بُتؤ
بَرام
دپان
اوکڑ (جس میں پری ڈالتے ھیں)
کورانک
تاڑی
تاگر
جُل
کاڈو
رابز
دربند

چَلّی
ڈینکی
شَتّگ
موش
ڈَک
لوپ
رَگ
مومی
کرپاس
کلپات
بیگوات
ہیلو
شپ ریچ
بیل
آلاڑ
تیاب
زِر
ننگر بندی
درز
کُرک
شکّو
زۓ
نتاری
چیڑو
کَری
کُرم
جگر
تاپگ

اولیگ یا گورشی کس چیز کو کہتے ہیں اور اس کی اقسام ؟

جواب :

گوْرشی یا اولیگ…
دو قسم کے ہوتے تھے. ایک بڑی جو استینک کے ساتھ باندھ کر استعمال ہوتا دوسرا…..
دستءِ ہولیگ جو بغیر استینک کے استعمال ہوتا تھا جس کے زریئے کشتی کو ٹرن بھی دیا جاتا. اور خاص کر یہ چیز چھوٹی کشتیوں میں استعمال ہوتا….

سوال : چیچائی کے بارے میں کچھ معلومات بتا دیں ؟

سر غفور صاحب کا کمنٹ

لوگوں سے سنا ھے کہ 1970 کی دہائی میں چیچائی میں صرف دو گوٹھ تھے
وہ اسطرح کہ چیچائی کے تمام لوگ اپنا ایڈریس عارب شیخ گوٹھ لکھواتے تھے
دوسرا جو گوٹھ تھا وہ گاؤں نورو کے نام سے مشہور تھا جو کہ ھمارے دادے کا بھائی تھا
بعد ازاں آبادی اور مسائل کے حساب سے گوٹھ بنتے گئے..
عبداللہ ڈگارزئی ہاشم واھورہ یہ الگ تھے۔

عبدالمجید صاحب کا کمنٹ

ہمارے یہاں بھی کُچ بُن، رازباری، کلیچو، مچھ ،باگڈھ، بدوکی، پنیہ شیخ اور گوہرخان محلے ہوتے تھے

اب ہر گلی کو کسی کے نام کیا گیا ھے۔

ایاز صاحب کا کمنٹ

اس گوٹھ میں پہلے عمر دررگ رھائش پزیر تھا۔

سر عبدالغفار کا کمنٹ

جب میرے والد 1972 میں یہاں آئے تو سنگھور برادری کے پانچ گھر تھے
پہلے سنگھور برادری مالداری کی وجہ سے خانہ بدوش کے حساب سے آباد تھی یعنی کہ کبھی وہ مالداری کے حساب سے باگڑھ چلے جاتے تو کبھی گٹینگ کی طرف جاتے لیکن بعد ازاں انہوں نے گڈانی موڑ کو مستقل مسکن بنا لیا..
مولا بخش(ٹگو) سنجو, شاموں, سولو, محمد علی یہ بھائی تھے اور عمر درک کے بیٹے تھے..

وشدل صاحب کا کمنٹ

میں نے اپنے بزرگوں کے زبانی سنا تھا کہ جب اونٹوں کے ذریعے مال برداری کراچی سے بیلہ ہوتی تھی تو وہ ہمیشہ بھوانی یا عارب ہوٹل میں پڑاو کا ذکر کرتے تھے، اس کا مطلب کہہ اس وقت عمر ہوٹل اور لک بدوک ہوٹل نہیں ہوتے تھے

عبدالغفور صاحب کا کمنٹ

یہاں چیچائی میں ایک قدیم ھوٹل ھے جو پی ایس رمضان چیچائی کے پاس واقع ھے جسے کوکڑی ھوٹل کہا جاتا ھے سننے میں آیا ھے کہ یہ ھوٹل 50 کی دہائی میں دو بھائیوں کرمی شیخ اور مبارک شیخ نے بنایا مبارک کو مقامی لوگ مونبو کوکڑی کہتے ھیں اس لیے اس ھوٹل کا نام کوکڑی ھوٹل کے نام سے مشہور ھوا۔

سوال : گڈانی میں سب سے پہلے کس نے اپنے کشتی پر انجن لگوایا؟

جواب : رحیم بخش کرد نے۔

سوال : خالد چولے والا اور ناصر چولے والا۔ ان کے کتنے نسل سے یہاں یہ کاروبار چل رہا ہے۔ میں نے سنا ہے پرانا ہے؟

جواب :

عبدالغفور صاحب کا کمنٹ

جب میں نے 1993-1994 میں ہائی اسکول گڈانی میں داخلہ لیا تو اسوقت بھی خالد اور ناصر یہی چھولے والا کاروبار کر رھے تھے یعنی کہ 27 سال پہلے۔

ڈاکٹر انور صاحب کا کمنٹ

ان کا والد یہاں آیا آدم اس نام تھا مشہور تھا اللہ والا کے نام سے تقریبا ١٩٨٤ یا 85 کو آیا۔

سوال : ایک چالیا تھا جس کا نام گولڈ ٹسٹی تھا۔ اس پر ایک آدمی کی تصویر ہوتی تھی۔ تو لوگ کہتے تھے یہ جیوت بکال جیسا ہے۔ جیوت کون تھا ؟

جواب : عبدالغفور صاحب کا کمنٹ

گولڈ ٹیسٹی پر فوٹو حاجی رمضان کا تھا جو کمپنی اونر تھا….
جیوت بکال تاجر تھا شاید گڈانی میں۔

ڈاکٹر انور صاحب کا کمنٹ

جیوات کا گھر یہاں تھا پہلا میڈیکل اسٹوربھی جیوات کا تھا۔

سوال : شاپنگ سینٹر گڈانی کے بنانے کا آغاز کب ہوا ؟

جواب : شاپنگ سنٹر گڈانی تاریخ آغاز مئی 1986

سوال : گڈانی میں پہلا موٹر سائیکل کس کا تھا ؟

جواب : پلی، صفر، پھر مجید اُس کے بعد استا اکبر

سوال : پرانے دور کے چند مشہور ڈرائیور کے نام بتائیں ؟

جواب : دلی، احمد، مستانہ نام یاد نہیں۔ عثمان، بلی، چنڈو، درمو، نیکو، فقیر، گلابی،

بابو، عیسل، ایک پھٹان کُچک گر چلاتا تھا، شاید اُس کا نام بھی عثمان تھا۔
عبدالرحمان موندرہ

سوال : پشک سنڈی کرنا کیا چیز ہے ؟

جواب : پِشِّک
پِشِّک شارک کی ایک قسم ھے آپ اسے چھوٹا شارک کہہ سکتے ھیں

پِشّک، پاگاس، بارکالی، اور بہت سی قسمیں ھیں

سُنڈی۔ پشک پر دوسری مچھلیوں کے مقابلے میں ایک الگ قسم کا چمڑہ ہوتا ھے۔ پشک کے چمڑے کو نکالنا یا صاف کرنا عام کارچیوں {مچھلی کاٹنے والے} کے بس کی بات نہیں۔ چمڑے کو صاف کر کے گوشٹ الگ کیا جاتا ھے۔ پھر اُس کے لمبے لمبے ٹکڑے کیۓ جاتے ھیں

ان ٹکڑوں کو مذید چھوٹے ٹکڑے کر دیۓ جاتے ھیں۔ ان ٹکڑوں کی ساخت درختوں پر لگنے والے سنڈیوں کی طرح ہوتی تھی، شاید اس وجہ سے سنڈی نام رکھا گیا ہوگا
پھر نمک لگا کر کچھ دنوں کے بعد کراچی لے جاتے تھے

اب چونکہ تمام مچھلیاں {ماسواۓ گند} برف لگا کر کراچی لے جاتے ھیں اس وجہ سے اب ایسا نہیں کیا جاتا۔

سوال : ماکوڑی پیر کی تاریخ بتائیں ؟

جواب : سلیم مرد صاحب کا کمنٹ
جہاں تک ماکوڑی پیر کا تعلق ہے یہ کافی پرانا ٹھکانہ ہے اور یہ کسی انسان کا نہیں بلکہ ایک آتشی مخلوق یعنی جن بلا کا ٹھکانہ ہے جو کسی زمانے میں راہ گیروں کو بہت تنگ کرتا تھا ۔۔۔اس کا نام ماکوڑی پیر کیسے پڑا اس بارے مجھے درست علم نہیں ہے۔

سوال :  گور پٹ اور ہپتار کس طرح کے جانور ہیں اور یہ گڈانی میں پائے جاتے تھے یا نہیں  ؟

جواب : سر عبدالغفور صاحب کا کمنٹ
گورپٹ
ہفتار/ہاتار
بھگاڑ
یہ تینوں چیچائی میں کثرت سے پائے جاتے تھے
ان میں سے ہفتار اور بگھاڑ کی نسل یہاں سے معدوم ھو چکی ھے یا پھر نہ ھونے کے برابر ھے
جبکہ گورپٹ اب بھی پایا جاتا ھے
کثرت سے تو نہیں لیکن بہت کم پایا جاتا ھے
سنگھوروں کی طرح یہ شیخوں کو بھی سلیوٹ کرتے تھے
ہارون شیخ اس کی ایک زندہ مثال ھے ۔

وشدل صاحب کا کمنٹ
یہ زیادہ کالے رنگ کے ہوتے ہیں، 1998 میں وڈیرہ پشو سنگھور کے لڑکوں نے ایک زندہ پکڑ کر لایا تھا، انتہائی بدبودار ہے، سر ہمیشہ نیچے رکھتا ہے، جب ماربل سٹی آباد نہیں تھا  دسمبر اور جنوری کی سرد راتوں میں دوسرو کے پہاڑوں میں اس کی آوازیں آتی تھیں۔ رہی سہی کسر DG خان نے پورا کردیا۔

آخری ھپتار 1988 میں دوسرو میں آیا تھا، دوسری صبح سنگھور برادری اس کے پیچھے پڑگئی لوپ  موٹک گوٹھ کے قریب دیکھ کر بندوق کے فائر سے زخمی ہوکر بھوانی کی طرف بھاگ گئی پھر دوبارہ اس کا سوج نہیں ہے۔

اس لئے مرحوم عبدالخالق (اللہ جنت نصیب کرے ) کہتا تھا کہ ھپتار اور گورپٹ سنگھوروں کو دیکھ کر سلوٹ کرتے ہیں۔

جناب عباس بلوچ کا کمنٹ
لفظ گور کا مطلب قبر اور پٹ سے مراد تلاش کرنا پانا ڈھونڈنا، یہ ایک ایسا آدم خور جانور ھے جو ذیادہ تر قبر سے مدفون تازہ مردوں کو نکال کر وہ بھی سر کی سائیڈ سے کھودکر، سنا ھے کھڑا کھڑا اٹھاکر محفوظ جگہ لےجاکر کھا جاتا ھے۔ اس کا اردو نام مجھے معلوم نہیں ھے۔

اس کا نسل ابھی تک ختم نہیں ہوا DG خان کے لائٹس کی مجہ سے شاید اپنے مسکن تبدیل کیے ہوئے ہیں۔

آبادی زیادہ ہوگئ گورپٹ دور بھاگ گئے نسل ختم نہیں ہے۔

سوال : وہ کونسے 2 اشخاص ہیں کہ جن کی بینائی نہیں تھی لیکن اپنے کام میں ماہر تھے ۔

جواب :سر محمد ایاز صاحب کا کمنٹ
گڈانی کی تاریخ دو اشخاص ایسے تھے جن کی بینائی نہیں تھی مگر وہ دونوں اپنے فیلڈ میں ماہر تھے 1 شانو جو مچھلی کاٹنے 2 حساؤ دارو جو ماور باندھنے میں ماہر تھا میں نے دونوں کو کام کرتے دیکھا ھے۔

عبدالمجید صاحب کا کمنٹ
شانو اصل میں کُرد پاڑہ اورماڑہ کا رہائشی تھا
ہماری یاد داشت سے پہلے گڈانی آیا تھا
وفات کا مجھے معلوم نہیں کہ گڈانی میں فوت ہوا یا کسی اور جگہ۔ لیکن میرے خیال میں آخر میں اورماڑہ چلا گیا اور وہیں پر انتقال کر گیا

قدارداد کلان کے گھر کے پاس  رہتا تھا
کبھی فیضو پان والے کے گھر، کبھی بابو کے گھر سے کھانا کھاتا تھا
اسکول کے پیچھے جھگی نما گھر تھا شانو کا۔
یہی تو شانو کا کمال تھا۔ بہت ہی تیز کارچ سے پِشّک کو سُنڈی کرنا آنکھ والوں کے لیۓ مشکل تھا لیکن شانو بہت تیز رفتاری اور نفاست کے ساتھ یہ کام کرتا رہا۔

اُس کی آنکھیں تھی ہی نہیں۔ آنکھوں کی جگہ خالی تھی۔

سوال :  گڈانی میں ایک جگہ ہے جسے ریل ء_ پٹ کہتے ہیں۔ اس جگہ پر کیا ریل چلتے تھے ؟

جواب : ڈاکٹر انور صاحب کا کمنٹ
ریل پٹ نہیں رہڑ پٹ کھلا میدان۔

جناب عباس بلوچ کا کمنٹ
میں نے سنا ھے پہاڑ کے دامن میں ہموار اور راست جگہ کو ریل کہتے ھیں۔

سوال : جناب سر حاجی ندیم صاحب کب گڈانی آئے؟

جواب : سر محمد ایاز صاحب کا کمنٹ
جب 1979 میں مڈل اسکول گـڈانی اپ گریڈ ھو کر ھائی بن گیا تو قریشی صاحب ھیڈ ماسٹر بن کر آیا اور اسی سال حاجی غلام رسول ندیم بھی آیا شروع میں ابن محلہ میں رھائش پذیر تھا پھر ھائی اسکول کے کوارٹر میں بعد میں ٹاؤن میں۔

سر عباس صاحب کا کمنٹ
حاجی غلام رسول ندیم مرحوم ون یونٹ کے زمانے 1957 میں بطور ٹیچر بیلہ آئے۔

سوال : تورگ کیا چیز ہے ؟

جواب :تورگ،  ایک قسم کی تیلی ہے، آخری وقت میں یہ تورگ غلام حسین شیخ احمدی کے پاس تھا۔
عام تیلی،  شاپنگ بیگ، جس میں سفر کے ضروری سامان اور پیسے رکھے جاتے ہیں۔

سوال : شیکن اور ٹاپک میں فرق ؟

جواب : وشدل صاحب کا کمنٹ

شیکن، اونٹ کے اون سے بنتا ہے جس طرح گوالگ بناتے تھے،
تاپگ، موٹی  مٹھی  سخت لگچ سے بناتے ہیں۔

سوال : ٹپڑکیسے بناتے ہیں ؟

جواب :  ٹپر بھیڑ دنبہ کے اون سے بنایا جاتا تھا، اون کو گرم پانی سے تر کرکے، کسی وزنی چیز سے دباتے ہیں اور کوئی لیکوڈ جو کہ چپک جاتا تھا( نام یاد نہیں ) استعمال کرتے تھے۔

سوال : شیخ قبیلہ بلوچستان میں کہاں کہاں رہتا ہے ؟

جواب : سر عبدالغفور صاحب کا کمنٹ

شیخ قبیلہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موجود ھے
لسبیلہ, خضدار, قلات, تربت, بولان بیلٹ
اس کے علاوہ کراچی کے کچھ علاقوں میں بھی ھیں جو کہ یہاں سے ہجرت کرکے گئے تھے
خضدار اور قلات میں شیخ قبیلے کے دو سرداران ھیں جن میں نواب ثناءاللہ زہری اور سردار اختر جان مینگل شامل ھیں جبکہ لسبیلہ میں چیف ٹرائبل سردار غلام فاروق قبیلے کو لیڈ کر رھے ھیں
شیخ قبیلے شیخ برادری کے نام سے بھی جانا جاتا ھے جس میں 14 قومیں شامل ھیں
شیخ قبیلہ لسبیلہ کی کل آبادی کا %45 ھے
تاریخ سے آشنا لوگوں کے مطابق شیخ قبیلہ رند قبیلے کے ساتھ رہا ھے اور ریاستی دور میں شیخ قبائل کے تین سو مسلح افراد موجود تھے جو اپنے مختلف بلوچ قبائل کے تعاون کے لیے تیار رہتے تھے
تاریخ سے آشنا لوگوں کے مطابق رند سمیت مختلف بلوچ قبائل جب جنگ کے لیے نکلتے تو وہ شیخ قبیلے سے خصوصی دعا کراتے
اس سے یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ھے کہ بلوچ قوم میں شیخ قبیلے کو ہمیشہ عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ھے۔

سوال :  گوالگ کیا چیز ہے ؟

جواب : وشدل صاحب کا کمنٹ :

دوستو، گوالگ ایک بوری ہے لیکن اس کا سائز ڈھائی من والی بوری سے بڑا ہوتا تھا اس میں 3 یا ساڑھے تین من گوار آتا تھا۔ یہ بکری کی اون سے بنایا جاتا تھا، اون کی جلک کے ذریعے رسی بنائی جاتی تھی پھر رسی سے گوالگ( بونا ) بنایا جاتا تھا۔

سوال : کٹم اور بنجا میں کیا فرق ہے ؟

جواب : عبدالمجید صاحب کا کمنٹ:

کُٹُم کے دو معنی ھیں

1, قبیلے کو بھی کُٹْم کہا جاتا ھے۔ یا کسی قبیلے کی ذیلی شاخ کو بھی کُٹُم کہا جاتا ھے

2,کسی بھی جانور ،خاص کر بھیڑ اور بکریوں کو ایک ایسے رسی سے باندھنا جو کسی مضبوط پتھر، لوۓ کے سلاخ یا کسی لکڑی سے باندھا ہو کٹم کہا جاتا ھے۔ کٹم ایک ایسا رسی جس کے ایک سائیڈ پھندے نما اور دوسرے سائیڈ ایک گانٹھ ہوتا ھے ، اس گانٹھ کو پیندھے میں ڈال کر جانور کے گردن پر باندھا جاتا ھے۔

بَنجاہ۔ کسی پالتو جانور کے باندھنے کی جگہ کو بنجاہ کہتے ھیں۔

سوال : گڈانی میں ہر چیز میں پہلا شخص کون تھا نام بتائیں سب کے ؟

جواب : سر ایاز صاحب کے کمنٹ :

Upگڈانی میں پہلا انجینئر انور بلوچ پہلا ڈاکٹر میل حمید بلوچ فیمیل شازیہ بلوچ پہلا dsp قاسم ڈگارزئی ہہلا کسٹم آفیسر اسلم بلوچ پہلا فشریز ڈپٹی ڈائریکٹر مجید تاج بلوچ پہلا ھیڈماسٹر ایاز بلوچ پہلا  ڈسپنسر mt انور حادیداد بلوچ پہلا چیئرمین وڈیرہ خدابخش پہلا ناظم حمید بلوچ پہلا sdo رسول بخش بلوچ پہلا ٹیچر انور حیدر بخش  لیبر اسٹونوگرافر وشدل بلوچ پہلا کلرک مراد بخش بلوچ پہلا کونسلر ناکو گوہر خان بلوچ پہلا کرکٹر مرادبخش مرحوم اینڈ گروپ  پہلا فٹبالر حیدر رکھواینڈ گروپ پہلا والی بال پلیر سیٹھ دلوش اینڈ گروپ پہلا انجن ھولڈر رحیم بخش کرد پہلا اسسٹینٹ شیرمحمد پہلا چپراسی اسکول محمد اعظم پہلا پولیس سپاہی ؟ پہلا معلم القران ملا نبی بخش پہلا پی ٹی آئی محمد امین پہلا ٹرانسپورٹروڈیرہ پیربخش پہلا ڈائریکٹر fcs وڈیرہ قادر بخش پہلا  ڈرائیور استاد چنھڈو پہلا مستری جمعہ اسحاق ھائی اسکول گڈانی سے میٹر ک پاس کرنے والے پہلے طالب علم دلمراد دلسرد اینڈ سائیں اقبال پہلا پرائیوٹ میٹرک پاس ماسٹر صابر پہلا جت  سومار  پہلا وانکی مراد عمر پہلا دعوتی رجب عمر پہلا موٹر سائیکل سفر پہلا ڈونڈو مالک مراد محمد۔

ہم صنم – آٹھویں قسط

میں جلدی سے آنٹی والے گھر کی طرف بڑھا تاکہ لوگوں کو پتا نہ چلے کے میں اتنے دیر سے یہاں موجود نہیں تھا۔
میں جیسے ہی گھر میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ رخسانہ پہلے ہی گھر پر بیٹھی ہوئی ہے۔ اسے یہاں دیکھ کر میں تو پوری طرح حیران ہوا کہ آیا یہ یہاں کیوں آئی ہے۔دل میں مختلف سوال اٹھ رہے تھے کہ کہیں رخسانہ کو سب پتہ تو نہیں چلا ؟
رخسانہ مجھے دیکھ کر تیزی سے میری طرف بڑھنے لگی اور قریب آ کر اس نے کہا , تم نے ٹھیک نہیں کیا ریحان ۔۔۔۔۔۔ میں سر نیچے کر چکا تھا ، اس کی آنکھوں میں دیکھنا بہت مشکل تھا۔
وہ رخسانہ میں تمہیں بتانا ہی چا رہا تھا۔۔۔۔۔
رخسانہ : بتانا چا رہے اور تم نے مجھ پر چھپا لیا کہ تم نے اپنی شادی کی جمع کنجی میرے ابو پر خرچ کر دی۔
میں سوچتا رہا کہ شاید وہ مجھے پہنچا گئی تھی۔ لیکن اس کے دل میں یہ غلط فیمی آ چکی تھی کہ میں نے اس کے ابو پر شادی کے پیسے خرچ کیے ہیں۔ میں بھی اس کی غلط فیمی دور نہیں کرنا چاہتا تھا ۔ کیوں کے یہی کچھ وجوہات تھیں جن کی وجہ سے رخسانہ مجھے جانتی تھی۔
میں نے غلط فیمی کو اور بڑھاتے ہوئے کہا ، ” وہ رخسانہ پیسے واپس جمع ہوجائینگے لیکن ابو سب کے لیے ایک ہوتا ہے۔ رخسانہ یہ بات سن کر مجھ سے لفٹ گئی اور رہتے ہوئے کہنے لگی میں تمہارے احسان کبھی چکا نہیں سکونگی۔
اتنے میں اسے اندازہ ہوگیا کہ وہ مجھ سے لپٹی ہوئی ہے۔ اس کے ہاتھ دیلے پڑنے لگ گئے۔
اس نے اپنے آپ کو مجھ سے الگ کر کے کہا معاف کرنا غلطی ہوگئی۔ اور مسکرا کر دوڑ کر چلی گئی۔
آج میری محبت کو ایک نیا رخ ملا تھا ۔ مجھے امید ہونے لگی تھی کہ اب رخسانہ میری ہوسکتی ہے۔
جس دن اس نے مجھے گلے لگایا وہ کپڑے میں نے 3 دن تک تبدیل نہیں کیے اور جب تبدیل کیے تو ایسا لگتا تھا کہ اُن میں رخسانہ کی مہک شامل ہے۔ میرا دوہنے کا دل بلکل بھی نہیں کیا۔

میں سوچنے لگا کہ میں بھی بڑا کمزور انسان ہوں۔ رخسانہ کو ابھی تک یہ نہیں بتا سکا کہ وہ مجھے پسند ہے۔ میرے دل پر کو بوج ہے رخسانہ کو نہ بتانے کہ وہ بہت ہی بڑا ہے۔
خیر یہ سب سوچتے سو چتے  اچانک سے شکیل بھائی آگئے ۔
شکیل : ہاں بھائی شفیق کیسا ہے تو ؟
میں نے کہا ,” شفیق بھائی محضرت میں کل نہیں جا پایا تھا اس مکان پر ۔
شکیل : ارے مجھے سب پتہ ہے۔ تو نے جو کام کیا ہے محلے میں آج تک کسی نے نہیں کیا۔ میں نے اس سیٹ سے بات کیا ہے۔ تم کل صبح چلی جانا ۔
میں انتہائی خوش ہوا۔ اور سچ میں شکیل بھائی جیسے لوگ اس دنیا میں بہت کم ہیں۔ وہ میری مدد اس لیے نہیں کر رہا کہ میں کوئی امیر زادہ ہوں۔ بلکہ وہ تو سمجھتا ہے کہ میں آنٹی کا پوتا ہوں۔ پر میری اس طرح مدد کر رہے ہیں کہ جیسے وہ میرے بہت اپنے قریبی ہوں۔
میں نے شکیل بھائی کا شکریہ ادا کیا ۔
اگلی صبح میں شکیل بھائی کہ بتائے ہوئے ایڈریس پر چلا گیا ۔مشکل کی بات یہ تھی کہ یہ میرے دشمن کا گھر تھا۔ مجھے پہلے تو معلوم نہ تھا جب دروازے پر دیکھا تھا جانب عامر صاحب کے ابو کا نام ایک بہت بڑے بورڈ پر درج تھا۔اب میرے لیے آسانی کی جگہ مشکل ہونا شروع ہونے والا تھا۔ کیوں کہ میں اگر گھر میں جاتا ہوں تو امیر کی پوری فیملی مجھے اچھی طرح جانتی ہے۔ اور اُنہیں اس چیز کا پتہ لگا تو مجھے سب کے سامنے رسوا کر دینگے ۔تب میرے ذہن میں ایک بات آئی۔

ہم صنم – ساتویں قسط

مجھے بہت ٹینشن ہونے لگی کے ابو کے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟
لیکن میں انکل کو بھی چھوڑ کر نہیں جا سکتا تھا۔ اس لیے میں نے انکل کو اُن کے گھر تک پہنچا دیا اور پھر میں وہاں سے اپنے گھر کے لیے نکلا ۔
میں جب اپنے گھر میں داخل ہوا تو رات کے ڈیڑھ بج رہے تھے۔ میرے داخل ہوتے ہی میں نے دیکھا کہ ابو صوفے پر بیٹھے میرا انتظار کر رہے ہیں۔
ابو : آؤ شہزادے آؤ۔ کہاں تھے آپ اتنے دنوں سے ؟
میں نے جواب دیا ,” وہ ابو میں گھومنے گیا تھا میں نے دوستوں کو کہا بھی تھا کہ آپ کو بتا دیں ۔
ابو : جی ہاں جانب آپ کے دوستوں نے ہمیں اطلاع دی تھی۔ لیکن میرا ایک سوال ہے اس کا جواب دے دو۔

سوال کیسا سوال ؟ میں نے حیرانگی میں کہا ۔
ابو : تم نے ایک ہی دن میں 5 لاکھ روپے نکالے ہیں وہ بھی آج ہی اس کی کیا وجہ ہے؟ ایسا کیا کام آگیا تھا آپ کو؟
مجھے یک دم سے سمجھ نہیں آیا کہ کیا بولو۔ پر پھر میں نے کہ دیا ۔ وہ ابو دوست کے والد صاحب بیمار تھے انھیں ہسپتال لے گیا تھا۔
اتنے میں امی بھی آگئی۔
ابو : دیکھو جانب دیکھو اپنے لاڈلے کو ۔ ہمارا محنت کا پیسہ کس طرح دوسروں پر اُڑا رہا ہے۔
امی : اب آپ چھوڑیں بھی نہ ، بیچارہ ابھی تو آیا ہے گھر ۔
ابو : ہاں ہاں بگاڑ دو اسے ۔ تمہارے لاڈ پیار نے ہی اسے ایسا بنایا ہے۔ 5 لاکھ کوئی چھوٹی رقم نہیں ہے۔
میں نے غصے میں کہا , ابو انسانیت کے آگے یہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اور وہ میرے دوست کے والد ہیں ابو کوئی غیر تو نہیں۔
یہ لڑکے میری بات سنو ، یہ دوستی وغیرہ کچھ نہیں ہوتا ، یہ سب تمہاری دولت کے پیچھے ہیں۔ اور تم اُن پر میرے محنت کے پیسے اُڑا رہے ہو۔
میں نے کہا ،” ابو پلیز ،،،،، میرے دوستوں کے بارے میں ایسی باتیں مت کریں۔ اور میں غصے سے اپنے کمرے میں چلا گیا۔
میں سوچتا رہا کہ اب پتہ نہیں رخسانہ میرے بارے میں کیا سوچتی ہوگی؟ شاید اُسے پتہ لگ جائے کہ میں امیر زدہ ہوں تو وہ مجھے چھوڑ نہ دے۔ میں اس بات کو سوچ کر پریشان تھا لیکن خوشی بھی تھی کہ رخسانہ اب مجھ سے واقف ہے کے میں کو غلط انسان نہیں ہوں۔
میں اب بھی سو ہتا تھا تو رخسانہ کا چہرہ میرے سامنے آجاتا ۔ اب میں اس سے بلکل بھی الگ نہیں ہوسکتا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کے ہے رات یہی پر تھم گئی ہو اور سورج نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہو۔ میں کروٹ بدلتا کبھی یہاں کبھی وہاں لیکن رات ختم نہیں ہورہی تھی۔
آخر وہ وقت آگیا کہ سورج کی کرنیں میرے کمرے کے کڑکی پر پڑ رہی تھیں۔ پرندے چہچہا رہے تھے۔ ہر چیز ہمیشہ کی طرح اپنے کام کی طرف راغب تھی۔
میں نے گھڑی میں وقت دیکھا تھا پتہ چلا کے 8:30 ہوگئے ہیں۔ میں جلدی سے باتھروم گیا اور نہانے کے بات کچیں میں گیا وہاں سے ہی امی سے تیار کہنا لے کر ناشتا کر لیا ۔
امی کو عادت تھی ۔ کل 8 نوکر تھے ہمارے گھر میں لیکن کھانا پھر بھی امی خود بناتی تھی۔
مجھے آج زیادہ وقت نہیں ملا ورنہ میں روز امی کو چھیڑتا ہوں۔ آج بس امی سے کہا امی دعا کرنے کا کہا اور چل دیا ۔

ہم صنم – ساتویں قسط

رخسانہ بہت پریشانی میں بولی۔ شفیق ۔۔۔۔۔ سنا ہے تم باہر سے آئے ہو ؟ وہ میرے ابو گھر میں گر گئے ہیں ۔ نہ جانے اُنھیں کیا ہوگیا ہے ۔ تم یہ سب چیزیں جانتے ہو نہ ؟ چلو نہ میرے ساتھ۔
اس نے میرا ہاتھ پکڑا ، میں تو خاموشی سے اس کے ساتھ چل پڑا ۔ اس کے گھر جا کر دیکھا تو رخسانہ کے ابو زمین پر پڑے ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی اُن کی امی بیٹھ کر رو رہی ہے۔ میں نے جا کر انکل کے نس کو دیکھا تو سانسیں چل رہی تھیں۔ میں نے اپنا موبائل فون نکالا اور اپنے دوست جمیل کو فون کیا۔
جلدی کوئی گاڑی لے کر آجا یار ایمرجنسی ہے۔
میرے دوست چند منٹ بعد پہنچ گئے گاڑی لے کر۔ ہم نے انکل کو اٹھایا اور گاڑی میں ڈال دیا۔ میں نے رخسانہ سے کہا ، ” پریشان مت ہو ، ابو کو کچھ نہیں ہوگا ” اور ہم وہاں سے نکل گئے ۔
ہم ہسپتال پہنچے تو ڈاکٹر کو بلایا اور  انکل کا علاج شروع ہوگیا۔ ہمارے شہر کا سب سے مہنگا ترین ہسپتال یہی تھا۔ یہاں صرف مریض کو داخل کرنے کے 50 ہزار فیس ہیں۔ انکل کا علاج ابھی شروع ہی تھا کہ ڈاکٹر نے کہا 4 لاکھ روپے جمع کروا دو۔
مجھے پیسے کی ذرا بھی فکر نہیں تھی لیکن مسئلہ یہ تھا کہ میں نے اپنے لیے کبھی بینک اکاؤنٹ نہیں بنایا۔ میں اکثر ابو کا اے – ٹی – ایم استعمال کرتا تھا۔ آج بھی وہ میرے جیب میں موجود تھا لیکن میں نے پہلے دوستوں سے پوچھا کہ کیا تم لوگوں کے پاس اتنا پیسہ ہے؟
دوستوں نے کہا کہ تم نے جلدی بلایا تھا اس لیے ہم پیسہ نہیں لیے پائے۔ ایک نے کہا میرے پاس 50 ہزار ہونگے۔
پھر مجھے مجبوراً ابو والے کارڈ سے پیسے نکالنے پڑھے۔ میں نے 5 لاکھ روپے نکال دیئے۔
انکل کی حالت میں بھی بہتری آ رہی تھی۔ پوری رات اسی طرح انکل کے لیے میں اور میرے دوست انتظار کرتے رہے۔
صبح کے سورج کے ساتھ ہی رخسانہ پہنچ گئی۔ سیدھے  میرے پاس آئی۔
رخسانہ : شفیق ابو کیسے ہیں ۔
میں نے جواب دیا کے نے فکر ہوجاؤ ابو بالکل ٹھیک ہیں۔
رخسانہ ابھی بات ہی کر رہی تھی کے ڈاکٹر آگیا۔ اور کہنے لگا ، ” مسٹر شفیق آپ پیشنٹ کے لیے 80 ہزار مزید جمعہ کریں۔
رخسانہ یہ دیکھ کر اور پریشان ہوگئی۔ کہنے لگی , ” شفیق اتنے سارے پیسے ؟ اتنے پیسے تم کہاں سے لاہو گے ؟
مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا ۔ میں سوچ رہا تھا کہ اب میرا سچ اس کے سامنے آنے والا ہے۔ لیکن میرے دوسرے دوست خلیل نے کہا  ، ” باجی وہ اس کے شادی کہ سامان رکھے ہوئے تھے تو اس نے اس کے بدلے میں مجھ سے پیسے لیے۔
رخسانہ یہ بات سن کر رہنے لگ گئی۔
شفیق میں تمہارا احسان کبھی نھیں بھول پاہونگی۔
میں نے رخسانہ کو چُپ کرایا اور کہ کہ آپ جائیں اپنے امی کے پاس ہم انکل کو خود لاہیں گے۔
رخسانہ چلی گئی۔
انکل کو 3 رات لگے ہسپتال میں۔ اُن کے شاید دل میں کوئی مسئلہ تھا۔
میں انکل کے ڈسچارج کے کاغذات سائن کر رہا تھا کہ میرا فون بجنے لگا ۔ میں نے فون دیکھا تو ابو کا فون تھا۔
میں نے فون اُٹھا کر ہیلو کہا۔ ابو کی آواز آئی۔ جہاں بھی ہو جلدی گھر آؤ۔
میں نے کہا ہیلو ابو ہیلو۔۔۔۔۔ لیکن ابو نے فون کاٹ دیا تھا اور آواز آرہی تھی۔ ٹوٹ ٹوٹ ٹوٹ۔

ہم صنم – پانچویں قسط

گھر پہنچ کر میں نے وہ کیسٹ ، کیسٹ پلیئر پر لگا دی۔ اس میں شفیق کی  آوازیں تھیں ۔
شفیق باقی سب چیزوں میں صحیح تھا ، آنٹی سے بہت پیار کرتا تھا لیکن اسکی زبان ٹپوری تھی۔ میرے لیے یہ مشکل ہورہاہے تھا ۔ لیکن میں جہاں جاتا یہ باتیں دوڑاتا تھا۔
ایک بار ناشتے پر میں اور امی بیٹے تھے۔ امی نے کہا بیٹا انڈا کیسا بنا ہے؟
میرے منہ سے نکل گیا ۔۔۔۔۔۔۔ یک دم جکاس موم۔
امی نے یہ بات سنی اور کہنے لگی ۔۔۔ یا خدا اس نا لائق کو ٹھیک کر دے پتا نہیں کیا کیا بولتا رہتا ہے۔
میں تو دل ہی دل میں اپنے آپ پر ہنس رہا تھا کہ یہ کیا ہوگیا ہے مجھے۔ 
میں  نے لگاتار 3 مہینے شفیق کو سنا اور اس کی کاپی کی۔ اس دوران میں آنٹی کے پاس بس 2 دن گیا تھا ۔ آنٹی کوابھی تک یہ معلوم نہیں تھا کے میں اس چیز کے لیے تیاری کر رہا ہوں۔
پھر ایک دن میں نے فیصلہ کیا کے اب جانا ہی پڑے گا۔ میں نے شفیق کے کپڑے پہن لیے اور اس کے سٹائل میں چلا گیا آنٹی کے گھر ۔ میں جیسے ہی گھر کے پاس پہنچا میں نے دیکھا کہ بہت رش ہے۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہوا ہے۔ تھوڑا اور قریب گیا تو دیکھا کچھ عورتیں رو رہی ہیں۔ اور ایک میت پڑی ہوئی ہے۔ عورت سے پوچھنے پر پتہ چلا کہ وہ آنٹی ہے۔ کل رات وہ فوت ہوئی ہیں۔
یہ دن میرے لیے بہت ہی منوس دن تھا۔ مجھے سمجھنے والی ایک ہی تھی اور وہی اس دنیا کو چھوڑ کر چلی گئی۔ ایسا لگتا تھا کہ اب کچھ نہیں ہونے والا۔


آنٹی کی موت نے مجھے بہت دل برداشتہ کر دیا۔ میں 3 ہفتے تک آنٹی کے ہی گھر میں پڑا رہا۔ یہی روہتا تھا ، آنسو صاف کرتا تھا۔ سوتا تھا۔ سب کچھ یہی پر ہی گزر رہا تھا۔ میرا جیسے کہیں جانے کا دل ہی نہیں کر رہا تھا۔ سب کو لگنے لگا تھا کہ آنٹی کا پوتا شفیق میں ہی ہوں۔ اور آنٹی صحیح ہے کہ اسکا پوتا نہیں مرا۔
لیکن لوگ اس بات سے انجان تھے کہ میں ایک امیر زادہ ہوں۔
خیر میں یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ ان لوگوں کو پتا چلے ۔ لیکن میں کوئی کام میں کرتا تھا۔ میرے دوست چپکے سے راتوں کو کھانا وغیرہ لاتے تھے ۔ اس سے مجھے لگ رہا تھا کے محلے والوں کو شک نا ہو۔ میں  نے دوستوں کو آنے سے منع کر دیا کہ تم لوگ تب ہی آنا جب میں بلا لوں۔
اگلے دن صبح میں شکیل بھائی کے گھر گیا۔ شکیل بھائی اس محلے کے معزز شخصیت ہیں۔ وہ یہاں کے لڑکوں کو کہیں نہ کہیں کام پر لگا دیتے ہیں تاکہ وہ کچھ کما سکیں۔
شکیل بھائی سے درخواست کی کہ مجھے کہیں نوکری ڈالا دیں۔ شکیل بھائی نے مجھ سے کہا تو بیفکر ہوجا۔ میں تیرے لیے کچھ کرتا ہوں۔
میں  نے اپنے دوستوں کو اطلاع دی کہ تم لوگ گھر پر بتا دینا کہ میں کہیں گھومنے گیا ہوں اور مجھے چند دن لگ جائیں گے۔ اور میری خوش قسمتی یہ ہے کہ  میرے گھر والے میرے لیے زیادہ پریشان نہیں ہوتے۔
اگلی صبح شکیل بھائی میرے پاس آئے۔ شفیق شفیق چلا رہے تھے۔ میں باہر نکلا ، وہ بہت ہی خوش نظر آ رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ کیا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا , تیرے لیے نوکری ڈھونڈ لی ہے۔
میں اُن کی طرف دیکھ رہا تھا
شکیل : بھائی بہت اچھی نوکری ہے۔ آپ کو صرف صاحب کے گھر میں پودوں کو پانی دینا ہوگا ۔
مجھے یہ سن کر بہت خوشی ہوئی کہ کوئی اور کام نہیں ڈھونڈا ۔ یہ تو میں آسانی سے کر سکتا تھا۔
میں  نے شکیل بھائی سے پوری معلومات لی کہ کب اور کس جگہ جانا ہے، انہوں نے مجھے سب بتا دیا۔ اور کہا کہ کل صبح جانا ہے۔
میں تو آرام سے بیٹھ گیا۔ اب کوئی پریشانی نہیں تھی کیوں کے اب محلے کے لوگ بھی شک نہیں کر رہے تھے۔ لیکن رخسانہ کی بہت یاد آتی تھی۔ اور اب ڈر سا لگتا تھا اُسے بتانے میں۔ بس اس کے محلے میں رہ کر ہی خوش تھا۔
رات کا وقت تھا میں جاگتے ہوئے سپنے بن رہا تھا کہ اچانک دروازے پر تیز دستک ہوئی۔ ٹک ٹک ٹک
میں تیزی سے گیا گیٹ پر۔ ایک لڑکی کھڑی تھی۔ باہر بارش تھی۔ اس کے بال بیگ چکے تھے۔ اسکا چہرہ میری طرف نہیں تھا۔ اچانک سے اس نے میری طرف دیکھا تو میں حیران ہوگیا کہ رخسانہ اتنی رات کو میرے دروازے پر آئی ہے۔

ہم صنم – قسط چہارم

آنٹی کے ہاتھ کپکپا رہے تھے۔ میں  آنٹی کو سہارا دے کر گھر کے اندر لے گیا ۔ آنٹی کی ایک پرانی بستر پڑی ہوئی تھی جس میں کئی سارے چھید تھے۔ اُن سوراخوں سے کپاس کے ٹکڑے جانک رہے تھے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ یہ کہیں سال پرانی ہے۔ میں نے آنٹی کو بٹھا دیا۔
آنٹی : بیٹے تم یہاں نئے ہو؟
میں نے جواب دیا ,” نہیں آنٹی بس یونہی گھومنے آیا ہوں۔ ویسے میں یہاں کا نہیں ہوں۔
آنٹی کچھ دیر خاموش رہی اور پھر کہنے لگی۔ ” اچھا بیٹا تم بیٹھ جاؤ میں تمہارے لیے کچھ لاتی ہوں۔
میں نے کہا نہیں آنٹی پھر کبھی انشاء اللہ آپ پاس چکر لگا لونگا ابھی مجھے جلدی جانا ہے۔ میں نے آنٹی سے اجازت لے لی اور وہاں سے نکل گیا۔
اب میرے دماغ میں یہی بات تھی کہ اگر میں اس طرح رخسانہ سے ملتا ہوں تو وہ مجھے امیر سمجھ کر ویسے ہی نہ کر دےگی۔ تو لہٰذا میں نے سوچا کہ ابھی نہیں ملتا ، کچھ سوچ کر ہی آنا پڑے گا۔ اور اب تو آنٹی بھی اپنی تھی۔ جب دل چاہتا آجاتا۔
میں  نے اس بارے میں بہت سوچا ، سوچنے کے علاوہ میں گلی محلے میں لوگوں کو دیکھتا تھا کے میں کس کی طرح بن کر جاؤں ؟ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا ۔ پھر میں ایک دن آنٹی کے پاس چلا گیا اور آنٹی کو اپنے دل کی بات بتا دی۔
آنٹی : لڑکی تو بہت اچھی ہے، اس کے ابو بہت بیمار رہتے ہیں۔ لیکن تم اس سے کس طرح کہہ پاؤگے یہ سب؟ 
ریحان : آنٹی تم کچھ آئیڈیا دو نہ کہ کیا کروں ؟
آنٹی: بیٹا ایسا تو کو طریقہ نہیں ہے کہ تم غریب دکھ سکو البتہ ایک طریقہ ضرور ہے۔ 
میں  یہ بات سن کر تو بہت خوش ہوا اور آنٹی کو جلدی سے کہا ,” پلیز آنٹی بتا دیں نہ پلیز “.
آنٹی : ارے بتاتی ہوں بتاتی ہوں۔ دیکھو بیٹا میرا پوتا پتہ نہیں کب آجائے۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ مر گیا ہے۔ لیکن مجھے لگتا ہے  کہ وہ زندہ ہے اور ضرور آئیگا۔ لیکن اس کے بہت سارے کپڑے وغیرہ میرے پاس رکھے ہوئے ہیں۔ تم چاہو تو میں تمہیں اس کی طرح بننے میں مدد کروں گی۔
میرے لیے  اس سے بڑھ کر کوئی خوشی کی بات نہیں تھی۔ میں  نے آنٹی سے کہا آنٹی پلیز جلدی وہ کپڑے مجھے دکھا دیں۔
آنٹی : ارے لیکن صرف کپڑوں سے کچھ نہیں ہونے والا۔
ریحان : وہ کیسے آنٹی ؟
آنٹی : بیٹا تمہیں پتہ ہے کہ ہمارے لوگ تمہاری طرح قسمت والے نہیں ہیں۔ اُن لوگوں کو پڑھائی نصیب نہیں ہوئی ہے۔ اور اُن  کا لہجہ پڑھے لکھے لوگوں سے بہت مختلف ہے۔
ریحان : یہ تو پھر مسئلہ ہوگیا نا آنٹی؟
آنٹی: ارے نہیں بیٹا ، میں ہوں تو کس بات کا مسئلہ ؟
ریحان: آپ ؟ آپ اس میں کس طرح میری مدد کرینگی؟
آنٹی: میر ا پوتا جب آخری وقت میرے پاس تھا تو میں اس میں اس کی آواز ریکارڈ کرتی تھی۔ آنٹی نے ہاتھ ایک پرانی کرسی کے نیچے ڈالا اور ایک پرانی ٹوٹھی ہوئی ریڈیو نکال دی۔
ریحان : یہ ریڈیو ؟
آنٹی : اس میں وہ کیسٹ موجود ہے ۔ آنٹی نے بٹن دبائی اور کیسٹ باہر نکل گیا۔
آنٹی : یہ لو بیٹا ، اسے سن لو اور دوراؤ۔
میں نے آنٹی سے وہ پرانا کیسٹ لیا اور اپنے گھر چلا گیا۔

ہم صنم – تیسری

اُس بوڑھے شخص نے جس کے ہاتھوں پر چالے پڑے ہوئے تھے۔ ایک آنکھ میں موتیا ہوا تھا ۔ ہاتھوں کے ہتھیلیاں زمین پر رگڑ کھانے کی وجہ سے اُن پر چھالے پڑے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ بہت تکلیف میں ہے۔ جواب دیا۔ ٹھیک ہوں رخسانہ بیٹا۔
رخسانہ کا نام سن کر مجھے تو بہت خوشی ہوئی۔ آج پہلی بار اس کا نام جان سکا ہوں۔ لیکن افسوس بھی تھا کہ رخسانہ ایسے علاقے میں رہتی ہے۔
دوسری طرف میرا محل۔ سینکڑوں نوکر چاکر۔ ہم جس طرح کا کھانا پھینک دیتے ہیں، یہ لوگ یہی کہنا خود بنا کھائے اپنے بچوں کو دے رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا یہ لوگ بہت امیر ہیں اور ہم غریب۔
خیر میں اپنے آنسوؤں کو چھپا کر وہاں سے نکل گیا۔
اس پورے رات مجھے نیند نہیں آئی۔ میں بس رخسانہ کے خیالات میں گم تھا۔ایسا لگتا تھا وہ بہت تکلیف میں ہے۔ اب پیار کے علاوہ مجھے اس پر رحم آنے لگا تھا۔ اب میری منزل صاف تھی کہ کسی بھی طرح مجھے رخسانہ کو اپنانا ہے۔
لیکن پھر گھر کا سوچتا تھا۔ امی ابو کا سوچتا تھا تو ڈر سا لگتا تھا کہ اُنھیں کیسا لگےگا جب میں اُن کو رخسانہ کے حالات کا بتا کر پھر شادی کا نام لونگا ؟ میرے ابو تو اکثر کہتے ہیں کہ رحیم چچا کی بیٹی شہناز سے شادی کر لو، وہ پیسے والے ہیں خوش رہوگے۔ لیکن انھیں کیا پتہ کہ اُن کے بیٹے کی خوشی محل میں نہیں اُس گلی کے جونپڑیوں میں ہے۔
رخسانہ کیا کر رہی ہوگی؟ شاید اپنے ابو کے ہاتھوں کے آبلوں پر مرہم لگا رہی ہوگی؟ شاید کسی کونے میں بیٹھ کر قسمت پر رو رہی ہوگی؟ لیکن رخسانہ اب میں تمہیں رونے نہیں دونگا۔ بہت جلد میں تمہیں اپنا بنا لونگا۔
میں اگلی صبح اُٹھا اور شاید کوئی صبح پانچ بج رہے تھے۔ امی ابھی تک نہیں اٹھی تھیں۔ میں نے امی کو اُٹھا دیا ۔


امی پلیز جلدی اٹھ جائیں۔ مجھے کچھ بنا کر دے دیں میں جاؤنگا۔
امی اٹھی اور بہت پریشان تھی کہ بیٹے کو کیا ہوا ہے۔ جو بیٹا 9 بجے سے پہلے زبردستی اٹھانے پر نہیں اٹھتا تھا وہ آج خود اتنی جلدی کیسے اُٹھا ہے؟
امی : بیٹا ریحان : کیا تمہیں کوئی پریشانی ہے؟
میرے منہ سے اچانک سے نکل گیا۔
امی وہ پتہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر میں نے بات روک دی۔ اور کہا کچھ نہیں اماں۔
میں نے بس جیسے ہی ناشتہ کیا گھر سے نکل گیا۔ اور میرے پاؤں مجھے سیدھا اُسی گلی میں لے گئے۔ میں جاننا چاہتا تھا کہ یہاں لوگ کون کون ہیں، کیا کرتے ہیں۔ تو سب پہلے میں ایک گھر کی طرف بڑھا ۔ اس گھر  کا چت سامنے سے ٹوٹھ چکا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ اندر جاؤں کہ نہیں۔ اتنے میں ایک بوڑھی عورت آگئی۔
بوڑھی عورت : شفیق بیٹا تم آگئے ؟
میں نے کہا آنٹی میں شفیق نہیں ریحان ہوں۔
آنٹی نے اپنے کانپتے ہونٹوں سے کہا۔
معاف کر دینا بیٹا۔ میرا پوتا شفیق کچھ سالوں سے غائب ہے میں نے سوچا وہی ہوگا۔ نظر کمزور ہے پتہ نہیں چلتا۔
آنٹی یہ کہہ ہی رہی تھی کے آنٹی کے ہاتھ سے بیساقی چھوٹ گئی وہ گرنے والی تھیں کہ میں اُنھیں ہاتھوں میں پکڑ لیا تھا۔ ایسا لگتا تھا کے آنٹی میری اپنی کچھ ہیں۔ پتہ نہیں کیوں۔

ہم صنم – دوسری قسط

میں سوچتا تھا، کوئی راستہ مل جائے کہ میں پھر سے رخسانہ کو دیکھ سکوں، پر ایسا جلدی نہ ہوسکا، یہاں تک کہ ابھی تک میں اس کے نام سے بھی نہ واقف تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ اب دن اور رات رکھے ہوئے ہیں اور گزرتے ہی نہیں۔ اب نیند آنا بھی بند سا ہوگیا تھا۔ بھوک نہیں لگتی اور کھانے کا دل نہیں کرتا۔
دو ماہ اور 12 دن بعد آخر وہ دن آ ہی گیا۔ رخسانہ کسی عورت کے ساتھ گلی سے گزر رہی تھی ۔ وہ عورت شاید رخسانہ کی امی تھیں۔ لیکن اس بار میں نے بھی سوچ رکھا تھا کہ رخسانہ کے کسی نہ کسی جگہ کا پتہ لگا لونگا ۔ 
میں انکا پیچھا کرتا رہا۔ وہ ایک چوڑیوں کی دکان پر رُکے۔ رخسانہ نے ایک چوڑی کا سیٹ ہاتھ میں کیا۔ میں یہ چیز دیکھ رہا تھا۔ وہ امی کو دکھا رہی تھی کہ امی بتاؤ تو کیسے ہیں۔
وہ چوڑیاں ہاتھ میں کر کے میری طرف دیکھنے لگی۔ میں نے سر ہلا کر منع کیا کہ یہ پیلے رنگ کی چوڑیاں اچھی نہیں لگ رہی۔ اس نے دوسرے رنگ اور ڈیزائن کے پہن لیے۔ اور مجھے  دکھانے لگی یہ مجھے اچھے لگ رہے تھے میں۔ نے سر ہلا کر ہاں کہ دیا ۔ اس نے پہلے مسکرایا پھر غصے سے دیکھ رہی تھی اور وہ چوڑیاں رکھ دیں۔ میں نےاپنا منہ چھپا لیا ۔ مجھے نہیں پتہ پھر اس نے کیسی چوڑیاں لیں۔
خیر تھوڑی ہی دیر بعد وہ یہاں سے نکل گئے اور کپڑوں کی دکان ، پھر سبزی کی اور پھر میوا وغیرہ لے کر وہاں سے نکل گئے۔ اب رخسانہ کو پتہ تھا کہ میں شاید اسی کا پیچھا کر رہا ہوں۔ مجھے ڈر تھا کہ رخسانہ ڈر نہ جائے۔
کہیں گلیاں گزر گئی ابھی تک یہ چل رہے تھے اور میں بھی پیچھے پیچھے آ رہا تھا۔ آخر وہ ایک تنگ گلی میں داخل ہوئے۔ یہاں گندگی بہت تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ یہ علاقہ گندے لوگوں کا ہے۔ میں شاید کبھی بھی اس طرح کی جگہ نہیں گیا۔ بچے گٹر میں کھیل رہے تھے۔ اسی گٹر کے کنارے ایک بوڑھی عورت بیٹی بھیک مانگ رہی تھی۔ ادھ پٹے کپڑوں میں بچے کھیل رہے تھے۔ کہیں کسی بچے کو مارنے کی آواز آرہی تھی۔ کہیں سے کسی مرد کا کسی عورت سے جگڑا ہورہا تھا۔ بہت ہی عجیب سا لگ رہا تھا ۔
اتنے میں رخسانہ اپنی امی کے ساتھ ایک پرانے گھر کے پاس گئی ، جس کے دروازے کا آدھا حصّہ ٹوٹا

ہوا تھا۔ سامنے ایک لنگڑا آدمی بیٹھا بھیک مانگ ر ہا تھا۔ رخسانہ اُسے جا کر گلے ملی۔ کہنے لگی ابا طبیعت کیسی ہے۔

ہم صنم – پہلی قسط

میں سویا ہوا تھا کے اس کے پازیب کی آواز آنے لگی۔ ایسا لگتا تھا کے پازیب کوئی زبردست سا گیت گن گنا رہے ہوں۔ چن چن کی آواز نے میرے کانوں کو مدھوش کر دیا۔
اتنے میں امی کی آواز آئی۔
9 بج گئے ہیں نا لاحق اٹھتا کیوں نہیں ہے؟
امی کو چند بار منع کرنے کے بعد انہوں نے ساتھ میں رکھی ہوئی بالٹی جس میں ابو کے منہ دوہنے کا تھوڑا سا پانی باقی تھا اٹھا کے مجھ پر گرا دیا۔ میرے صنم والے خیالات تو جیسے تیس نہس ہوگئے۔
اٹھ گیا اور منہ دوہنے چلا گیا۔
میں ابھی باتھروم میں ہی تھا کہ امی کی باتوں کی آواز آرہی تھی۔ مسکان بیگم آئی تھیں ان سے باتیں کر رہی تھیں۔
امی کہ رہی تھی کہ لڑکی تو اچھی ہے پر یہ نالاحق شادی جیسا ہے ہی نہیں۔ اس سے کون شادی کریگا۔
میں جب تک نکل جاتا مسکان بیگم چلی گئی تھیں ۔ پھر میری بات دوبارہ امی سے ہوئی۔
امی ، کیا تمہیں ایسا لگتا ہے ، تمہارے بیٹے سے کوئی شادی نہیں کریگی؟
امی نے بھی بڑا خوب جواب دیا , تو کیا تمہیں اس بات کا وہم ہے کہ کوئی تم سے شادی کریگی؟
میں نے بھی غصے میں جواب دیا , ” میں تو شادی ہی نہیں کرنا چاہتا امی ” ۔
امی میرے پیچھے ہی پڑی تھی کہ میں گھر سے باہر نکل گیا۔
میں اور کہاں جاتا ، نہ تو کوئی کام دھندا تھا اور نہ ہی کسی سے زیادہ ياری دوستی تھی۔ روز سلیم کے دکان کے پاس جا کر بیٹھ جاتا تھا۔ کچھ دیر کل کا رکھا ہوا اخبار پڑھ لیتا اور پھر یہی بیٹھ کر دن گزارتا تھا۔
وہ اتوار کا دن تھا جب رخسانہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ بازار میں جا رہی تھی۔ میری نظر پہلی بار اس پر پڑی تو ایسا لگتا تھا کے جیسے اس کے بال اس کے گال پر آ کر اُسے تنگ کر رہے ہوں اور میں جا کر اُنھیں ہٹا دوں۔
وہ مسکرا رہی تھی تو ایسا لگ رہا تھا کہ ساری کائنات اس کے ساتھ مسکرا رہی ہو۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے میرے چہرے پر بھی مسکان آجاتا تھا ۔
یہ پہلا دن ہی ایسا تھا کہ رخسانہ پوری طرح میرے ہوش و حواس میں بس گئی۔ میرا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ اور رخسانہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ میرے سامنے سے مسکراتی ہوئی گزر گئی ۔
مجھے نہیں پتہ کہ کس لیے لیکن اس نے ایک بار میری طرف دیکھا تھا۔ اور شاید وہی سے میرا سب کچھ لوٹ کر لے گئی۔ دل ، چین ، سکون سب کچھ۔