ہم صنم – آٹھویں قسط

میں جلدی سے آنٹی والے گھر کی طرف بڑھا تاکہ لوگوں کو پتا نہ چلے کے میں اتنے دیر سے یہاں موجود نہیں تھا۔
میں جیسے ہی گھر میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ رخسانہ پہلے ہی گھر پر بیٹھی ہوئی ہے۔ اسے یہاں دیکھ کر میں تو پوری طرح حیران ہوا کہ آیا یہ یہاں کیوں آئی ہے۔دل میں مختلف سوال اٹھ رہے تھے کہ کہیں رخسانہ کو سب پتہ تو نہیں چلا ؟
رخسانہ مجھے دیکھ کر تیزی سے میری طرف بڑھنے لگی اور قریب آ کر اس نے کہا , تم نے ٹھیک نہیں کیا ریحان ۔۔۔۔۔۔ میں سر نیچے کر چکا تھا ، اس کی آنکھوں میں دیکھنا بہت مشکل تھا۔
وہ رخسانہ میں تمہیں بتانا ہی چا رہا تھا۔۔۔۔۔
رخسانہ : بتانا چا رہے اور تم نے مجھ پر چھپا لیا کہ تم نے اپنی شادی کی جمع کنجی میرے ابو پر خرچ کر دی۔
میں سوچتا رہا کہ شاید وہ مجھے پہنچا گئی تھی۔ لیکن اس کے دل میں یہ غلط فیمی آ چکی تھی کہ میں نے اس کے ابو پر شادی کے پیسے خرچ کیے ہیں۔ میں بھی اس کی غلط فیمی دور نہیں کرنا چاہتا تھا ۔ کیوں کے یہی کچھ وجوہات تھیں جن کی وجہ سے رخسانہ مجھے جانتی تھی۔
میں نے غلط فیمی کو اور بڑھاتے ہوئے کہا ، ” وہ رخسانہ پیسے واپس جمع ہوجائینگے لیکن ابو سب کے لیے ایک ہوتا ہے۔ رخسانہ یہ بات سن کر مجھ سے لفٹ گئی اور رہتے ہوئے کہنے لگی میں تمہارے احسان کبھی چکا نہیں سکونگی۔
اتنے میں اسے اندازہ ہوگیا کہ وہ مجھ سے لپٹی ہوئی ہے۔ اس کے ہاتھ دیلے پڑنے لگ گئے۔
اس نے اپنے آپ کو مجھ سے الگ کر کے کہا معاف کرنا غلطی ہوگئی۔ اور مسکرا کر دوڑ کر چلی گئی۔
آج میری محبت کو ایک نیا رخ ملا تھا ۔ مجھے امید ہونے لگی تھی کہ اب رخسانہ میری ہوسکتی ہے۔
جس دن اس نے مجھے گلے لگایا وہ کپڑے میں نے 3 دن تک تبدیل نہیں کیے اور جب تبدیل کیے تو ایسا لگتا تھا کہ اُن میں رخسانہ کی مہک شامل ہے۔ میرا دوہنے کا دل بلکل بھی نہیں کیا۔

میں سوچنے لگا کہ میں بھی بڑا کمزور انسان ہوں۔ رخسانہ کو ابھی تک یہ نہیں بتا سکا کہ وہ مجھے پسند ہے۔ میرے دل پر کو بوج ہے رخسانہ کو نہ بتانے کہ وہ بہت ہی بڑا ہے۔
خیر یہ سب سوچتے سو چتے  اچانک سے شکیل بھائی آگئے ۔
شکیل : ہاں بھائی شفیق کیسا ہے تو ؟
میں نے کہا ,” شفیق بھائی محضرت میں کل نہیں جا پایا تھا اس مکان پر ۔
شکیل : ارے مجھے سب پتہ ہے۔ تو نے جو کام کیا ہے محلے میں آج تک کسی نے نہیں کیا۔ میں نے اس سیٹ سے بات کیا ہے۔ تم کل صبح چلی جانا ۔
میں انتہائی خوش ہوا۔ اور سچ میں شکیل بھائی جیسے لوگ اس دنیا میں بہت کم ہیں۔ وہ میری مدد اس لیے نہیں کر رہا کہ میں کوئی امیر زادہ ہوں۔ بلکہ وہ تو سمجھتا ہے کہ میں آنٹی کا پوتا ہوں۔ پر میری اس طرح مدد کر رہے ہیں کہ جیسے وہ میرے بہت اپنے قریبی ہوں۔
میں نے شکیل بھائی کا شکریہ ادا کیا ۔
اگلی صبح میں شکیل بھائی کہ بتائے ہوئے ایڈریس پر چلا گیا ۔مشکل کی بات یہ تھی کہ یہ میرے دشمن کا گھر تھا۔ مجھے پہلے تو معلوم نہ تھا جب دروازے پر دیکھا تھا جانب عامر صاحب کے ابو کا نام ایک بہت بڑے بورڈ پر درج تھا۔اب میرے لیے آسانی کی جگہ مشکل ہونا شروع ہونے والا تھا۔ کیوں کہ میں اگر گھر میں جاتا ہوں تو امیر کی پوری فیملی مجھے اچھی طرح جانتی ہے۔ اور اُنہیں اس چیز کا پتہ لگا تو مجھے سب کے سامنے رسوا کر دینگے ۔تب میرے ذہن میں ایک بات آئی۔

ہم صنم – ساتویں قسط

مجھے بہت ٹینشن ہونے لگی کے ابو کے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟
لیکن میں انکل کو بھی چھوڑ کر نہیں جا سکتا تھا۔ اس لیے میں نے انکل کو اُن کے گھر تک پہنچا دیا اور پھر میں وہاں سے اپنے گھر کے لیے نکلا ۔
میں جب اپنے گھر میں داخل ہوا تو رات کے ڈیڑھ بج رہے تھے۔ میرے داخل ہوتے ہی میں نے دیکھا کہ ابو صوفے پر بیٹھے میرا انتظار کر رہے ہیں۔
ابو : آؤ شہزادے آؤ۔ کہاں تھے آپ اتنے دنوں سے ؟
میں نے جواب دیا ,” وہ ابو میں گھومنے گیا تھا میں نے دوستوں کو کہا بھی تھا کہ آپ کو بتا دیں ۔
ابو : جی ہاں جانب آپ کے دوستوں نے ہمیں اطلاع دی تھی۔ لیکن میرا ایک سوال ہے اس کا جواب دے دو۔

سوال کیسا سوال ؟ میں نے حیرانگی میں کہا ۔
ابو : تم نے ایک ہی دن میں 5 لاکھ روپے نکالے ہیں وہ بھی آج ہی اس کی کیا وجہ ہے؟ ایسا کیا کام آگیا تھا آپ کو؟
مجھے یک دم سے سمجھ نہیں آیا کہ کیا بولو۔ پر پھر میں نے کہ دیا ۔ وہ ابو دوست کے والد صاحب بیمار تھے انھیں ہسپتال لے گیا تھا۔
اتنے میں امی بھی آگئی۔
ابو : دیکھو جانب دیکھو اپنے لاڈلے کو ۔ ہمارا محنت کا پیسہ کس طرح دوسروں پر اُڑا رہا ہے۔
امی : اب آپ چھوڑیں بھی نہ ، بیچارہ ابھی تو آیا ہے گھر ۔
ابو : ہاں ہاں بگاڑ دو اسے ۔ تمہارے لاڈ پیار نے ہی اسے ایسا بنایا ہے۔ 5 لاکھ کوئی چھوٹی رقم نہیں ہے۔
میں نے غصے میں کہا , ابو انسانیت کے آگے یہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اور وہ میرے دوست کے والد ہیں ابو کوئی غیر تو نہیں۔
یہ لڑکے میری بات سنو ، یہ دوستی وغیرہ کچھ نہیں ہوتا ، یہ سب تمہاری دولت کے پیچھے ہیں۔ اور تم اُن پر میرے محنت کے پیسے اُڑا رہے ہو۔
میں نے کہا ،” ابو پلیز ،،،،، میرے دوستوں کے بارے میں ایسی باتیں مت کریں۔ اور میں غصے سے اپنے کمرے میں چلا گیا۔
میں سوچتا رہا کہ اب پتہ نہیں رخسانہ میرے بارے میں کیا سوچتی ہوگی؟ شاید اُسے پتہ لگ جائے کہ میں امیر زدہ ہوں تو وہ مجھے چھوڑ نہ دے۔ میں اس بات کو سوچ کر پریشان تھا لیکن خوشی بھی تھی کہ رخسانہ اب مجھ سے واقف ہے کے میں کو غلط انسان نہیں ہوں۔
میں اب بھی سو ہتا تھا تو رخسانہ کا چہرہ میرے سامنے آجاتا ۔ اب میں اس سے بلکل بھی الگ نہیں ہوسکتا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کے ہے رات یہی پر تھم گئی ہو اور سورج نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہو۔ میں کروٹ بدلتا کبھی یہاں کبھی وہاں لیکن رات ختم نہیں ہورہی تھی۔
آخر وہ وقت آگیا کہ سورج کی کرنیں میرے کمرے کے کڑکی پر پڑ رہی تھیں۔ پرندے چہچہا رہے تھے۔ ہر چیز ہمیشہ کی طرح اپنے کام کی طرف راغب تھی۔
میں نے گھڑی میں وقت دیکھا تھا پتہ چلا کے 8:30 ہوگئے ہیں۔ میں جلدی سے باتھروم گیا اور نہانے کے بات کچیں میں گیا وہاں سے ہی امی سے تیار کہنا لے کر ناشتا کر لیا ۔
امی کو عادت تھی ۔ کل 8 نوکر تھے ہمارے گھر میں لیکن کھانا پھر بھی امی خود بناتی تھی۔
مجھے آج زیادہ وقت نہیں ملا ورنہ میں روز امی کو چھیڑتا ہوں۔ آج بس امی سے کہا امی دعا کرنے کا کہا اور چل دیا ۔

ہم صنم – ساتویں قسط

رخسانہ بہت پریشانی میں بولی۔ شفیق ۔۔۔۔۔ سنا ہے تم باہر سے آئے ہو ؟ وہ میرے ابو گھر میں گر گئے ہیں ۔ نہ جانے اُنھیں کیا ہوگیا ہے ۔ تم یہ سب چیزیں جانتے ہو نہ ؟ چلو نہ میرے ساتھ۔
اس نے میرا ہاتھ پکڑا ، میں تو خاموشی سے اس کے ساتھ چل پڑا ۔ اس کے گھر جا کر دیکھا تو رخسانہ کے ابو زمین پر پڑے ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی اُن کی امی بیٹھ کر رو رہی ہے۔ میں نے جا کر انکل کے نس کو دیکھا تو سانسیں چل رہی تھیں۔ میں نے اپنا موبائل فون نکالا اور اپنے دوست جمیل کو فون کیا۔
جلدی کوئی گاڑی لے کر آجا یار ایمرجنسی ہے۔
میرے دوست چند منٹ بعد پہنچ گئے گاڑی لے کر۔ ہم نے انکل کو اٹھایا اور گاڑی میں ڈال دیا۔ میں نے رخسانہ سے کہا ، ” پریشان مت ہو ، ابو کو کچھ نہیں ہوگا ” اور ہم وہاں سے نکل گئے ۔
ہم ہسپتال پہنچے تو ڈاکٹر کو بلایا اور  انکل کا علاج شروع ہوگیا۔ ہمارے شہر کا سب سے مہنگا ترین ہسپتال یہی تھا۔ یہاں صرف مریض کو داخل کرنے کے 50 ہزار فیس ہیں۔ انکل کا علاج ابھی شروع ہی تھا کہ ڈاکٹر نے کہا 4 لاکھ روپے جمع کروا دو۔
مجھے پیسے کی ذرا بھی فکر نہیں تھی لیکن مسئلہ یہ تھا کہ میں نے اپنے لیے کبھی بینک اکاؤنٹ نہیں بنایا۔ میں اکثر ابو کا اے – ٹی – ایم استعمال کرتا تھا۔ آج بھی وہ میرے جیب میں موجود تھا لیکن میں نے پہلے دوستوں سے پوچھا کہ کیا تم لوگوں کے پاس اتنا پیسہ ہے؟
دوستوں نے کہا کہ تم نے جلدی بلایا تھا اس لیے ہم پیسہ نہیں لیے پائے۔ ایک نے کہا میرے پاس 50 ہزار ہونگے۔
پھر مجھے مجبوراً ابو والے کارڈ سے پیسے نکالنے پڑھے۔ میں نے 5 لاکھ روپے نکال دیئے۔
انکل کی حالت میں بھی بہتری آ رہی تھی۔ پوری رات اسی طرح انکل کے لیے میں اور میرے دوست انتظار کرتے رہے۔
صبح کے سورج کے ساتھ ہی رخسانہ پہنچ گئی۔ سیدھے  میرے پاس آئی۔
رخسانہ : شفیق ابو کیسے ہیں ۔
میں نے جواب دیا کے نے فکر ہوجاؤ ابو بالکل ٹھیک ہیں۔
رخسانہ ابھی بات ہی کر رہی تھی کے ڈاکٹر آگیا۔ اور کہنے لگا ، ” مسٹر شفیق آپ پیشنٹ کے لیے 80 ہزار مزید جمعہ کریں۔
رخسانہ یہ دیکھ کر اور پریشان ہوگئی۔ کہنے لگی , ” شفیق اتنے سارے پیسے ؟ اتنے پیسے تم کہاں سے لاہو گے ؟
مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا ۔ میں سوچ رہا تھا کہ اب میرا سچ اس کے سامنے آنے والا ہے۔ لیکن میرے دوسرے دوست خلیل نے کہا  ، ” باجی وہ اس کے شادی کہ سامان رکھے ہوئے تھے تو اس نے اس کے بدلے میں مجھ سے پیسے لیے۔
رخسانہ یہ بات سن کر رہنے لگ گئی۔
شفیق میں تمہارا احسان کبھی نھیں بھول پاہونگی۔
میں نے رخسانہ کو چُپ کرایا اور کہ کہ آپ جائیں اپنے امی کے پاس ہم انکل کو خود لاہیں گے۔
رخسانہ چلی گئی۔
انکل کو 3 رات لگے ہسپتال میں۔ اُن کے شاید دل میں کوئی مسئلہ تھا۔
میں انکل کے ڈسچارج کے کاغذات سائن کر رہا تھا کہ میرا فون بجنے لگا ۔ میں نے فون دیکھا تو ابو کا فون تھا۔
میں نے فون اُٹھا کر ہیلو کہا۔ ابو کی آواز آئی۔ جہاں بھی ہو جلدی گھر آؤ۔
میں نے کہا ہیلو ابو ہیلو۔۔۔۔۔ لیکن ابو نے فون کاٹ دیا تھا اور آواز آرہی تھی۔ ٹوٹ ٹوٹ ٹوٹ۔

ہم صنم – پانچویں قسط

گھر پہنچ کر میں نے وہ کیسٹ ، کیسٹ پلیئر پر لگا دی۔ اس میں شفیق کی  آوازیں تھیں ۔
شفیق باقی سب چیزوں میں صحیح تھا ، آنٹی سے بہت پیار کرتا تھا لیکن اسکی زبان ٹپوری تھی۔ میرے لیے یہ مشکل ہورہاہے تھا ۔ لیکن میں جہاں جاتا یہ باتیں دوڑاتا تھا۔
ایک بار ناشتے پر میں اور امی بیٹے تھے۔ امی نے کہا بیٹا انڈا کیسا بنا ہے؟
میرے منہ سے نکل گیا ۔۔۔۔۔۔۔ یک دم جکاس موم۔
امی نے یہ بات سنی اور کہنے لگی ۔۔۔ یا خدا اس نا لائق کو ٹھیک کر دے پتا نہیں کیا کیا بولتا رہتا ہے۔
میں تو دل ہی دل میں اپنے آپ پر ہنس رہا تھا کہ یہ کیا ہوگیا ہے مجھے۔ 
میں  نے لگاتار 3 مہینے شفیق کو سنا اور اس کی کاپی کی۔ اس دوران میں آنٹی کے پاس بس 2 دن گیا تھا ۔ آنٹی کوابھی تک یہ معلوم نہیں تھا کے میں اس چیز کے لیے تیاری کر رہا ہوں۔
پھر ایک دن میں نے فیصلہ کیا کے اب جانا ہی پڑے گا۔ میں نے شفیق کے کپڑے پہن لیے اور اس کے سٹائل میں چلا گیا آنٹی کے گھر ۔ میں جیسے ہی گھر کے پاس پہنچا میں نے دیکھا کہ بہت رش ہے۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہوا ہے۔ تھوڑا اور قریب گیا تو دیکھا کچھ عورتیں رو رہی ہیں۔ اور ایک میت پڑی ہوئی ہے۔ عورت سے پوچھنے پر پتہ چلا کہ وہ آنٹی ہے۔ کل رات وہ فوت ہوئی ہیں۔
یہ دن میرے لیے بہت ہی منوس دن تھا۔ مجھے سمجھنے والی ایک ہی تھی اور وہی اس دنیا کو چھوڑ کر چلی گئی۔ ایسا لگتا تھا کہ اب کچھ نہیں ہونے والا۔


آنٹی کی موت نے مجھے بہت دل برداشتہ کر دیا۔ میں 3 ہفتے تک آنٹی کے ہی گھر میں پڑا رہا۔ یہی روہتا تھا ، آنسو صاف کرتا تھا۔ سوتا تھا۔ سب کچھ یہی پر ہی گزر رہا تھا۔ میرا جیسے کہیں جانے کا دل ہی نہیں کر رہا تھا۔ سب کو لگنے لگا تھا کہ آنٹی کا پوتا شفیق میں ہی ہوں۔ اور آنٹی صحیح ہے کہ اسکا پوتا نہیں مرا۔
لیکن لوگ اس بات سے انجان تھے کہ میں ایک امیر زادہ ہوں۔
خیر میں یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ ان لوگوں کو پتا چلے ۔ لیکن میں کوئی کام میں کرتا تھا۔ میرے دوست چپکے سے راتوں کو کھانا وغیرہ لاتے تھے ۔ اس سے مجھے لگ رہا تھا کے محلے والوں کو شک نا ہو۔ میں  نے دوستوں کو آنے سے منع کر دیا کہ تم لوگ تب ہی آنا جب میں بلا لوں۔
اگلے دن صبح میں شکیل بھائی کے گھر گیا۔ شکیل بھائی اس محلے کے معزز شخصیت ہیں۔ وہ یہاں کے لڑکوں کو کہیں نہ کہیں کام پر لگا دیتے ہیں تاکہ وہ کچھ کما سکیں۔
شکیل بھائی سے درخواست کی کہ مجھے کہیں نوکری ڈالا دیں۔ شکیل بھائی نے مجھ سے کہا تو بیفکر ہوجا۔ میں تیرے لیے کچھ کرتا ہوں۔
میں  نے اپنے دوستوں کو اطلاع دی کہ تم لوگ گھر پر بتا دینا کہ میں کہیں گھومنے گیا ہوں اور مجھے چند دن لگ جائیں گے۔ اور میری خوش قسمتی یہ ہے کہ  میرے گھر والے میرے لیے زیادہ پریشان نہیں ہوتے۔
اگلی صبح شکیل بھائی میرے پاس آئے۔ شفیق شفیق چلا رہے تھے۔ میں باہر نکلا ، وہ بہت ہی خوش نظر آ رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ کیا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا , تیرے لیے نوکری ڈھونڈ لی ہے۔
میں اُن کی طرف دیکھ رہا تھا
شکیل : بھائی بہت اچھی نوکری ہے۔ آپ کو صرف صاحب کے گھر میں پودوں کو پانی دینا ہوگا ۔
مجھے یہ سن کر بہت خوشی ہوئی کہ کوئی اور کام نہیں ڈھونڈا ۔ یہ تو میں آسانی سے کر سکتا تھا۔
میں  نے شکیل بھائی سے پوری معلومات لی کہ کب اور کس جگہ جانا ہے، انہوں نے مجھے سب بتا دیا۔ اور کہا کہ کل صبح جانا ہے۔
میں تو آرام سے بیٹھ گیا۔ اب کوئی پریشانی نہیں تھی کیوں کے اب محلے کے لوگ بھی شک نہیں کر رہے تھے۔ لیکن رخسانہ کی بہت یاد آتی تھی۔ اور اب ڈر سا لگتا تھا اُسے بتانے میں۔ بس اس کے محلے میں رہ کر ہی خوش تھا۔
رات کا وقت تھا میں جاگتے ہوئے سپنے بن رہا تھا کہ اچانک دروازے پر تیز دستک ہوئی۔ ٹک ٹک ٹک
میں تیزی سے گیا گیٹ پر۔ ایک لڑکی کھڑی تھی۔ باہر بارش تھی۔ اس کے بال بیگ چکے تھے۔ اسکا چہرہ میری طرف نہیں تھا۔ اچانک سے اس نے میری طرف دیکھا تو میں حیران ہوگیا کہ رخسانہ اتنی رات کو میرے دروازے پر آئی ہے۔

ہم صنم – قسط چہارم

آنٹی کے ہاتھ کپکپا رہے تھے۔ میں  آنٹی کو سہارا دے کر گھر کے اندر لے گیا ۔ آنٹی کی ایک پرانی بستر پڑی ہوئی تھی جس میں کئی سارے چھید تھے۔ اُن سوراخوں سے کپاس کے ٹکڑے جانک رہے تھے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ یہ کہیں سال پرانی ہے۔ میں نے آنٹی کو بٹھا دیا۔
آنٹی : بیٹے تم یہاں نئے ہو؟
میں نے جواب دیا ,” نہیں آنٹی بس یونہی گھومنے آیا ہوں۔ ویسے میں یہاں کا نہیں ہوں۔
آنٹی کچھ دیر خاموش رہی اور پھر کہنے لگی۔ ” اچھا بیٹا تم بیٹھ جاؤ میں تمہارے لیے کچھ لاتی ہوں۔
میں نے کہا نہیں آنٹی پھر کبھی انشاء اللہ آپ پاس چکر لگا لونگا ابھی مجھے جلدی جانا ہے۔ میں نے آنٹی سے اجازت لے لی اور وہاں سے نکل گیا۔
اب میرے دماغ میں یہی بات تھی کہ اگر میں اس طرح رخسانہ سے ملتا ہوں تو وہ مجھے امیر سمجھ کر ویسے ہی نہ کر دےگی۔ تو لہٰذا میں نے سوچا کہ ابھی نہیں ملتا ، کچھ سوچ کر ہی آنا پڑے گا۔ اور اب تو آنٹی بھی اپنی تھی۔ جب دل چاہتا آجاتا۔
میں  نے اس بارے میں بہت سوچا ، سوچنے کے علاوہ میں گلی محلے میں لوگوں کو دیکھتا تھا کے میں کس کی طرح بن کر جاؤں ؟ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا ۔ پھر میں ایک دن آنٹی کے پاس چلا گیا اور آنٹی کو اپنے دل کی بات بتا دی۔
آنٹی : لڑکی تو بہت اچھی ہے، اس کے ابو بہت بیمار رہتے ہیں۔ لیکن تم اس سے کس طرح کہہ پاؤگے یہ سب؟ 
ریحان : آنٹی تم کچھ آئیڈیا دو نہ کہ کیا کروں ؟
آنٹی: بیٹا ایسا تو کو طریقہ نہیں ہے کہ تم غریب دکھ سکو البتہ ایک طریقہ ضرور ہے۔ 
میں  یہ بات سن کر تو بہت خوش ہوا اور آنٹی کو جلدی سے کہا ,” پلیز آنٹی بتا دیں نہ پلیز “.
آنٹی : ارے بتاتی ہوں بتاتی ہوں۔ دیکھو بیٹا میرا پوتا پتہ نہیں کب آجائے۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ مر گیا ہے۔ لیکن مجھے لگتا ہے  کہ وہ زندہ ہے اور ضرور آئیگا۔ لیکن اس کے بہت سارے کپڑے وغیرہ میرے پاس رکھے ہوئے ہیں۔ تم چاہو تو میں تمہیں اس کی طرح بننے میں مدد کروں گی۔
میرے لیے  اس سے بڑھ کر کوئی خوشی کی بات نہیں تھی۔ میں  نے آنٹی سے کہا آنٹی پلیز جلدی وہ کپڑے مجھے دکھا دیں۔
آنٹی : ارے لیکن صرف کپڑوں سے کچھ نہیں ہونے والا۔
ریحان : وہ کیسے آنٹی ؟
آنٹی : بیٹا تمہیں پتہ ہے کہ ہمارے لوگ تمہاری طرح قسمت والے نہیں ہیں۔ اُن لوگوں کو پڑھائی نصیب نہیں ہوئی ہے۔ اور اُن  کا لہجہ پڑھے لکھے لوگوں سے بہت مختلف ہے۔
ریحان : یہ تو پھر مسئلہ ہوگیا نا آنٹی؟
آنٹی: ارے نہیں بیٹا ، میں ہوں تو کس بات کا مسئلہ ؟
ریحان: آپ ؟ آپ اس میں کس طرح میری مدد کرینگی؟
آنٹی: میر ا پوتا جب آخری وقت میرے پاس تھا تو میں اس میں اس کی آواز ریکارڈ کرتی تھی۔ آنٹی نے ہاتھ ایک پرانی کرسی کے نیچے ڈالا اور ایک پرانی ٹوٹھی ہوئی ریڈیو نکال دی۔
ریحان : یہ ریڈیو ؟
آنٹی : اس میں وہ کیسٹ موجود ہے ۔ آنٹی نے بٹن دبائی اور کیسٹ باہر نکل گیا۔
آنٹی : یہ لو بیٹا ، اسے سن لو اور دوراؤ۔
میں نے آنٹی سے وہ پرانا کیسٹ لیا اور اپنے گھر چلا گیا۔

ہم صنم – تیسری

اُس بوڑھے شخص نے جس کے ہاتھوں پر چالے پڑے ہوئے تھے۔ ایک آنکھ میں موتیا ہوا تھا ۔ ہاتھوں کے ہتھیلیاں زمین پر رگڑ کھانے کی وجہ سے اُن پر چھالے پڑے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ بہت تکلیف میں ہے۔ جواب دیا۔ ٹھیک ہوں رخسانہ بیٹا۔
رخسانہ کا نام سن کر مجھے تو بہت خوشی ہوئی۔ آج پہلی بار اس کا نام جان سکا ہوں۔ لیکن افسوس بھی تھا کہ رخسانہ ایسے علاقے میں رہتی ہے۔
دوسری طرف میرا محل۔ سینکڑوں نوکر چاکر۔ ہم جس طرح کا کھانا پھینک دیتے ہیں، یہ لوگ یہی کہنا خود بنا کھائے اپنے بچوں کو دے رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا یہ لوگ بہت امیر ہیں اور ہم غریب۔
خیر میں اپنے آنسوؤں کو چھپا کر وہاں سے نکل گیا۔
اس پورے رات مجھے نیند نہیں آئی۔ میں بس رخسانہ کے خیالات میں گم تھا۔ایسا لگتا تھا وہ بہت تکلیف میں ہے۔ اب پیار کے علاوہ مجھے اس پر رحم آنے لگا تھا۔ اب میری منزل صاف تھی کہ کسی بھی طرح مجھے رخسانہ کو اپنانا ہے۔
لیکن پھر گھر کا سوچتا تھا۔ امی ابو کا سوچتا تھا تو ڈر سا لگتا تھا کہ اُنھیں کیسا لگےگا جب میں اُن کو رخسانہ کے حالات کا بتا کر پھر شادی کا نام لونگا ؟ میرے ابو تو اکثر کہتے ہیں کہ رحیم چچا کی بیٹی شہناز سے شادی کر لو، وہ پیسے والے ہیں خوش رہوگے۔ لیکن انھیں کیا پتہ کہ اُن کے بیٹے کی خوشی محل میں نہیں اُس گلی کے جونپڑیوں میں ہے۔
رخسانہ کیا کر رہی ہوگی؟ شاید اپنے ابو کے ہاتھوں کے آبلوں پر مرہم لگا رہی ہوگی؟ شاید کسی کونے میں بیٹھ کر قسمت پر رو رہی ہوگی؟ لیکن رخسانہ اب میں تمہیں رونے نہیں دونگا۔ بہت جلد میں تمہیں اپنا بنا لونگا۔
میں اگلی صبح اُٹھا اور شاید کوئی صبح پانچ بج رہے تھے۔ امی ابھی تک نہیں اٹھی تھیں۔ میں نے امی کو اُٹھا دیا ۔


امی پلیز جلدی اٹھ جائیں۔ مجھے کچھ بنا کر دے دیں میں جاؤنگا۔
امی اٹھی اور بہت پریشان تھی کہ بیٹے کو کیا ہوا ہے۔ جو بیٹا 9 بجے سے پہلے زبردستی اٹھانے پر نہیں اٹھتا تھا وہ آج خود اتنی جلدی کیسے اُٹھا ہے؟
امی : بیٹا ریحان : کیا تمہیں کوئی پریشانی ہے؟
میرے منہ سے اچانک سے نکل گیا۔
امی وہ پتہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر میں نے بات روک دی۔ اور کہا کچھ نہیں اماں۔
میں نے بس جیسے ہی ناشتہ کیا گھر سے نکل گیا۔ اور میرے پاؤں مجھے سیدھا اُسی گلی میں لے گئے۔ میں جاننا چاہتا تھا کہ یہاں لوگ کون کون ہیں، کیا کرتے ہیں۔ تو سب پہلے میں ایک گھر کی طرف بڑھا ۔ اس گھر  کا چت سامنے سے ٹوٹھ چکا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ اندر جاؤں کہ نہیں۔ اتنے میں ایک بوڑھی عورت آگئی۔
بوڑھی عورت : شفیق بیٹا تم آگئے ؟
میں نے کہا آنٹی میں شفیق نہیں ریحان ہوں۔
آنٹی نے اپنے کانپتے ہونٹوں سے کہا۔
معاف کر دینا بیٹا۔ میرا پوتا شفیق کچھ سالوں سے غائب ہے میں نے سوچا وہی ہوگا۔ نظر کمزور ہے پتہ نہیں چلتا۔
آنٹی یہ کہہ ہی رہی تھی کے آنٹی کے ہاتھ سے بیساقی چھوٹ گئی وہ گرنے والی تھیں کہ میں اُنھیں ہاتھوں میں پکڑ لیا تھا۔ ایسا لگتا تھا کے آنٹی میری اپنی کچھ ہیں۔ پتہ نہیں کیوں۔

ہم صنم – دوسری قسط

میں سوچتا تھا، کوئی راستہ مل جائے کہ میں پھر سے رخسانہ کو دیکھ سکوں، پر ایسا جلدی نہ ہوسکا، یہاں تک کہ ابھی تک میں اس کے نام سے بھی نہ واقف تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ اب دن اور رات رکھے ہوئے ہیں اور گزرتے ہی نہیں۔ اب نیند آنا بھی بند سا ہوگیا تھا۔ بھوک نہیں لگتی اور کھانے کا دل نہیں کرتا۔
دو ماہ اور 12 دن بعد آخر وہ دن آ ہی گیا۔ رخسانہ کسی عورت کے ساتھ گلی سے گزر رہی تھی ۔ وہ عورت شاید رخسانہ کی امی تھیں۔ لیکن اس بار میں نے بھی سوچ رکھا تھا کہ رخسانہ کے کسی نہ کسی جگہ کا پتہ لگا لونگا ۔ 
میں انکا پیچھا کرتا رہا۔ وہ ایک چوڑیوں کی دکان پر رُکے۔ رخسانہ نے ایک چوڑی کا سیٹ ہاتھ میں کیا۔ میں یہ چیز دیکھ رہا تھا۔ وہ امی کو دکھا رہی تھی کہ امی بتاؤ تو کیسے ہیں۔
وہ چوڑیاں ہاتھ میں کر کے میری طرف دیکھنے لگی۔ میں نے سر ہلا کر منع کیا کہ یہ پیلے رنگ کی چوڑیاں اچھی نہیں لگ رہی۔ اس نے دوسرے رنگ اور ڈیزائن کے پہن لیے۔ اور مجھے  دکھانے لگی یہ مجھے اچھے لگ رہے تھے میں۔ نے سر ہلا کر ہاں کہ دیا ۔ اس نے پہلے مسکرایا پھر غصے سے دیکھ رہی تھی اور وہ چوڑیاں رکھ دیں۔ میں نےاپنا منہ چھپا لیا ۔ مجھے نہیں پتہ پھر اس نے کیسی چوڑیاں لیں۔
خیر تھوڑی ہی دیر بعد وہ یہاں سے نکل گئے اور کپڑوں کی دکان ، پھر سبزی کی اور پھر میوا وغیرہ لے کر وہاں سے نکل گئے۔ اب رخسانہ کو پتہ تھا کہ میں شاید اسی کا پیچھا کر رہا ہوں۔ مجھے ڈر تھا کہ رخسانہ ڈر نہ جائے۔
کہیں گلیاں گزر گئی ابھی تک یہ چل رہے تھے اور میں بھی پیچھے پیچھے آ رہا تھا۔ آخر وہ ایک تنگ گلی میں داخل ہوئے۔ یہاں گندگی بہت تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ یہ علاقہ گندے لوگوں کا ہے۔ میں شاید کبھی بھی اس طرح کی جگہ نہیں گیا۔ بچے گٹر میں کھیل رہے تھے۔ اسی گٹر کے کنارے ایک بوڑھی عورت بیٹی بھیک مانگ رہی تھی۔ ادھ پٹے کپڑوں میں بچے کھیل رہے تھے۔ کہیں کسی بچے کو مارنے کی آواز آرہی تھی۔ کہیں سے کسی مرد کا کسی عورت سے جگڑا ہورہا تھا۔ بہت ہی عجیب سا لگ رہا تھا ۔
اتنے میں رخسانہ اپنی امی کے ساتھ ایک پرانے گھر کے پاس گئی ، جس کے دروازے کا آدھا حصّہ ٹوٹا

ہوا تھا۔ سامنے ایک لنگڑا آدمی بیٹھا بھیک مانگ ر ہا تھا۔ رخسانہ اُسے جا کر گلے ملی۔ کہنے لگی ابا طبیعت کیسی ہے۔