ہم صنم – ساتویں قسط

مجھے بہت ٹینشن ہونے لگی کے ابو کے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟
لیکن میں انکل کو بھی چھوڑ کر نہیں جا سکتا تھا۔ اس لیے میں نے انکل کو اُن کے گھر تک پہنچا دیا اور پھر میں وہاں سے اپنے گھر کے لیے نکلا ۔
میں جب اپنے گھر میں داخل ہوا تو رات کے ڈیڑھ بج رہے تھے۔ میرے داخل ہوتے ہی میں نے دیکھا کہ ابو صوفے پر بیٹھے میرا انتظار کر رہے ہیں۔
ابو : آؤ شہزادے آؤ۔ کہاں تھے آپ اتنے دنوں سے ؟
میں نے جواب دیا ,” وہ ابو میں گھومنے گیا تھا میں نے دوستوں کو کہا بھی تھا کہ آپ کو بتا دیں ۔
ابو : جی ہاں جانب آپ کے دوستوں نے ہمیں اطلاع دی تھی۔ لیکن میرا ایک سوال ہے اس کا جواب دے دو۔

سوال کیسا سوال ؟ میں نے حیرانگی میں کہا ۔
ابو : تم نے ایک ہی دن میں 5 لاکھ روپے نکالے ہیں وہ بھی آج ہی اس کی کیا وجہ ہے؟ ایسا کیا کام آگیا تھا آپ کو؟
مجھے یک دم سے سمجھ نہیں آیا کہ کیا بولو۔ پر پھر میں نے کہ دیا ۔ وہ ابو دوست کے والد صاحب بیمار تھے انھیں ہسپتال لے گیا تھا۔
اتنے میں امی بھی آگئی۔
ابو : دیکھو جانب دیکھو اپنے لاڈلے کو ۔ ہمارا محنت کا پیسہ کس طرح دوسروں پر اُڑا رہا ہے۔
امی : اب آپ چھوڑیں بھی نہ ، بیچارہ ابھی تو آیا ہے گھر ۔
ابو : ہاں ہاں بگاڑ دو اسے ۔ تمہارے لاڈ پیار نے ہی اسے ایسا بنایا ہے۔ 5 لاکھ کوئی چھوٹی رقم نہیں ہے۔
میں نے غصے میں کہا , ابو انسانیت کے آگے یہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اور وہ میرے دوست کے والد ہیں ابو کوئی غیر تو نہیں۔
یہ لڑکے میری بات سنو ، یہ دوستی وغیرہ کچھ نہیں ہوتا ، یہ سب تمہاری دولت کے پیچھے ہیں۔ اور تم اُن پر میرے محنت کے پیسے اُڑا رہے ہو۔
میں نے کہا ،” ابو پلیز ،،،،، میرے دوستوں کے بارے میں ایسی باتیں مت کریں۔ اور میں غصے سے اپنے کمرے میں چلا گیا۔
میں سوچتا رہا کہ اب پتہ نہیں رخسانہ میرے بارے میں کیا سوچتی ہوگی؟ شاید اُسے پتہ لگ جائے کہ میں امیر زدہ ہوں تو وہ مجھے چھوڑ نہ دے۔ میں اس بات کو سوچ کر پریشان تھا لیکن خوشی بھی تھی کہ رخسانہ اب مجھ سے واقف ہے کے میں کو غلط انسان نہیں ہوں۔
میں اب بھی سو ہتا تھا تو رخسانہ کا چہرہ میرے سامنے آجاتا ۔ اب میں اس سے بلکل بھی الگ نہیں ہوسکتا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کے ہے رات یہی پر تھم گئی ہو اور سورج نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہو۔ میں کروٹ بدلتا کبھی یہاں کبھی وہاں لیکن رات ختم نہیں ہورہی تھی۔
آخر وہ وقت آگیا کہ سورج کی کرنیں میرے کمرے کے کڑکی پر پڑ رہی تھیں۔ پرندے چہچہا رہے تھے۔ ہر چیز ہمیشہ کی طرح اپنے کام کی طرف راغب تھی۔
میں نے گھڑی میں وقت دیکھا تھا پتہ چلا کے 8:30 ہوگئے ہیں۔ میں جلدی سے باتھروم گیا اور نہانے کے بات کچیں میں گیا وہاں سے ہی امی سے تیار کہنا لے کر ناشتا کر لیا ۔
امی کو عادت تھی ۔ کل 8 نوکر تھے ہمارے گھر میں لیکن کھانا پھر بھی امی خود بناتی تھی۔
مجھے آج زیادہ وقت نہیں ملا ورنہ میں روز امی کو چھیڑتا ہوں۔ آج بس امی سے کہا امی دعا کرنے کا کہا اور چل دیا ۔

ہم صنم – تیسری

اُس بوڑھے شخص نے جس کے ہاتھوں پر چالے پڑے ہوئے تھے۔ ایک آنکھ میں موتیا ہوا تھا ۔ ہاتھوں کے ہتھیلیاں زمین پر رگڑ کھانے کی وجہ سے اُن پر چھالے پڑے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ بہت تکلیف میں ہے۔ جواب دیا۔ ٹھیک ہوں رخسانہ بیٹا۔
رخسانہ کا نام سن کر مجھے تو بہت خوشی ہوئی۔ آج پہلی بار اس کا نام جان سکا ہوں۔ لیکن افسوس بھی تھا کہ رخسانہ ایسے علاقے میں رہتی ہے۔
دوسری طرف میرا محل۔ سینکڑوں نوکر چاکر۔ ہم جس طرح کا کھانا پھینک دیتے ہیں، یہ لوگ یہی کہنا خود بنا کھائے اپنے بچوں کو دے رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا یہ لوگ بہت امیر ہیں اور ہم غریب۔
خیر میں اپنے آنسوؤں کو چھپا کر وہاں سے نکل گیا۔
اس پورے رات مجھے نیند نہیں آئی۔ میں بس رخسانہ کے خیالات میں گم تھا۔ایسا لگتا تھا وہ بہت تکلیف میں ہے۔ اب پیار کے علاوہ مجھے اس پر رحم آنے لگا تھا۔ اب میری منزل صاف تھی کہ کسی بھی طرح مجھے رخسانہ کو اپنانا ہے۔
لیکن پھر گھر کا سوچتا تھا۔ امی ابو کا سوچتا تھا تو ڈر سا لگتا تھا کہ اُنھیں کیسا لگےگا جب میں اُن کو رخسانہ کے حالات کا بتا کر پھر شادی کا نام لونگا ؟ میرے ابو تو اکثر کہتے ہیں کہ رحیم چچا کی بیٹی شہناز سے شادی کر لو، وہ پیسے والے ہیں خوش رہوگے۔ لیکن انھیں کیا پتہ کہ اُن کے بیٹے کی خوشی محل میں نہیں اُس گلی کے جونپڑیوں میں ہے۔
رخسانہ کیا کر رہی ہوگی؟ شاید اپنے ابو کے ہاتھوں کے آبلوں پر مرہم لگا رہی ہوگی؟ شاید کسی کونے میں بیٹھ کر قسمت پر رو رہی ہوگی؟ لیکن رخسانہ اب میں تمہیں رونے نہیں دونگا۔ بہت جلد میں تمہیں اپنا بنا لونگا۔
میں اگلی صبح اُٹھا اور شاید کوئی صبح پانچ بج رہے تھے۔ امی ابھی تک نہیں اٹھی تھیں۔ میں نے امی کو اُٹھا دیا ۔


امی پلیز جلدی اٹھ جائیں۔ مجھے کچھ بنا کر دے دیں میں جاؤنگا۔
امی اٹھی اور بہت پریشان تھی کہ بیٹے کو کیا ہوا ہے۔ جو بیٹا 9 بجے سے پہلے زبردستی اٹھانے پر نہیں اٹھتا تھا وہ آج خود اتنی جلدی کیسے اُٹھا ہے؟
امی : بیٹا ریحان : کیا تمہیں کوئی پریشانی ہے؟
میرے منہ سے اچانک سے نکل گیا۔
امی وہ پتہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر میں نے بات روک دی۔ اور کہا کچھ نہیں اماں۔
میں نے بس جیسے ہی ناشتہ کیا گھر سے نکل گیا۔ اور میرے پاؤں مجھے سیدھا اُسی گلی میں لے گئے۔ میں جاننا چاہتا تھا کہ یہاں لوگ کون کون ہیں، کیا کرتے ہیں۔ تو سب پہلے میں ایک گھر کی طرف بڑھا ۔ اس گھر  کا چت سامنے سے ٹوٹھ چکا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ اندر جاؤں کہ نہیں۔ اتنے میں ایک بوڑھی عورت آگئی۔
بوڑھی عورت : شفیق بیٹا تم آگئے ؟
میں نے کہا آنٹی میں شفیق نہیں ریحان ہوں۔
آنٹی نے اپنے کانپتے ہونٹوں سے کہا۔
معاف کر دینا بیٹا۔ میرا پوتا شفیق کچھ سالوں سے غائب ہے میں نے سوچا وہی ہوگا۔ نظر کمزور ہے پتہ نہیں چلتا۔
آنٹی یہ کہہ ہی رہی تھی کے آنٹی کے ہاتھ سے بیساقی چھوٹ گئی وہ گرنے والی تھیں کہ میں اُنھیں ہاتھوں میں پکڑ لیا تھا۔ ایسا لگتا تھا کے آنٹی میری اپنی کچھ ہیں۔ پتہ نہیں کیوں۔